🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ مَوْعِظَةِ الإِمَامِ لِلْخُصُومِ:
باب: فریقین کو امام کا نصیحت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلاشبہ میں ایک انسان ہوں، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کر دوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی (فریق مخالف) کا کوئی حق دلا دوں، چاہئے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7169]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس میں تو صرف ایک انسان ہوں، تم میرے پاس اپنے مقدمات لاتے ہو، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی اپنا مقدمہ پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کی باتیں سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، تو میں نے جس کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دیا تو وہ اس کو نہ لے کیونکہ وہ تو میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7169]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ الشَّهَادَةِ تَكُونُ عِنْدَ الْحَاكِمِ فِي وِلاَيَتِهِ الْقَضَاءِ أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ لِلْخَصْمِ:
باب: اگر قاضی خود عہدہ قضاء حاصل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے ایک امر کا گواہ ہو تو کیا اس کی بنا پر فیصلہ کر سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7170
وَقَالَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي وَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ الشَّهَادَةَ، فَقَالَ: ائْتِ الْأَمِيرَ حَتَّى أَشْهَدَ لَكَ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ، قَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: لَوْ رَأَيْتَ رَجُلًا عَلَى حَدٍّ زِنًا أَوْ سَرِقَةٍ وَأَنْتَ أَمِيرٌ، فَقَالَ: شَهَادَتُكَ شَهَادَةُ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ: لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَكَتَبْتُ آيَةَ الرَّجْمِ بِيَدِي وَأَقَرَّ مَاعِزٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا أَرْبَعًا، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدَ مَنْ حَضَرَهُ، وَقَالَ حَمَّادٌ إِذَا أَقَرَّ مَرَّةً عِنْدَ الْحَاكِمِ رُجِمَ، وَقَالَ الْحَكَمُ أَرْبَعًا
‏‏‏‏ اور شریح (مکہ کے قاضی) سے ایک آدمی (نام نامعلوم) نے کہا تم اس مقدمہ میں گواہی دو۔ انہوں نے کہا تو بادشاہ کے پاس جا کر کہنا تو میں وہاں دوں گا۔ اور عکرمہ کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اگر تو خود اپنی آنکھ سے کسی کو زنا یا چوری کا جرم کرتے دیکھے اور تو امیر ہو تو کیا اس کو حد لگا دے گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آخر تیری گواہی ایک مسلمان کی گواہی کی طرح ہو گی یا نہیں۔ عبدالرحمٰن نے کہا بیشک سچ کہتے ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر لوگ یوں نہ کہیں کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اپنی طرف سے بڑھا دیا تو میں رجم کی آیت اپنے ہاتھ سے مصحف میں لکھ دیتا۔ اور ماعز اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چار بار زنا کا اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا اور یہ منقول نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اقرار پر حاضرین کو گواہ کیا ہو۔ اور حماد بن ابی سلیمان (استاد امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ) نے کہا اگر زنا کرنے والا حاکم کے سامنے ایک بار بھی اقرار کر لے تو وہ سنگسار کیا جائے گا اور حکم بن عتیبہ نے کہا، جب تک چار بار اقرار نہ کر لے سنگسار نہیں ہو سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: Q7170]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7170
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ:" مَنْ لَهُ بَيِّنَةٌ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ، فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي، فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِي، فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي، قَالَ: فَأَرْضِهِ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَلَّا لَا يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدَّاهُ إِلَيَّ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا، فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ، قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ اللَّيْثِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّاهُ إِلَيَّ، وَقَالَ أَهْلُ الْحِجَازِ: الْحَاكِمُ لَا يَقْضِي بِعِلْمِهِ شَهِدَ بِذَلِكَ فِي وِلَايَتِهِ أَوْ قَبْلَهَا، وَلَوْ أَقَرَّ خَصْمٌ عِنْدَهُ لِآخَرَ بِحَقٍّ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي عَلَيْهِ فِي قَوْلِ بَعْضِهِمْ حَتَّى يَدْعُوَ بِشَاهِدَيْنِ فَيُحْضِرَهُمَا إِقْرَارَهُ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِرَاقِ: مَا سَمِعَ أَوْ رَآهُ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ قَضَى بِهِ وَمَا كَانَ فِي غَيْرِهِ لَمْ يَقْضِ إِلَّا بِشَاهِدَيْنِ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنْهُمْ: بَلْ يَقْضِي بِهِ لِأَنَّهُ مُؤْتَمَنٌ، وَإِنَّمَا يُرَادُ مِنَ الشَّهَادَةِ مَعْرِفَةُ الْحَقِّ، فَعِلْمُهُ أَكْثَرُ مِنَ الشَّهَادَةِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَقْضِي بِعِلْمِهِ فِي الْأَمْوَالِ وَلَا يَقْضِي فِي غَيْرِهَا، وَقَالَ الْقَاسِمُ: لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يُمْضِيَ قَضَاءً بِعِلْمِهِ دُونَ عِلْمِ غَيْرِهِ مَعَ أَنَّ عِلْمَهُ أَكْثَرُ مِنْ شَهَادَةِ غَيْرِهِ وَلَكِنَّ فِيهِ تَعَرُّضًا لِتُهَمَةِ نَفْسِهِ عِنْدَ الْمُسْلِمِينَ وَإِيقَاعًا لَهُمْ فِي الظُّنُونِ، وَقَدْ كَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظَّنَّ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَذِهِ صَفِيَّةُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے عمر بن کثیر نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آئی اور میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اس مقتول کا سامان جس کا ابوقتادہ ذکر کر رہے ہیں، میرے پاس ہے۔ انہیں اس کے لیے راضی کر دیجئیے (کہ وہ یہ ہتھیار وغیرہ مجھے دے دیں) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر کے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کرتا ہے وہ قریش کے معمولی آدمی کو ہتھیار نہیں دیں گے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے ہتھیار مجھے دے دئیے اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا۔ یہ پہلا مال تھا جو میں نے (اسلام کے بعد) حاصل کیا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان دلا دیا، اور اہل حجاز، امام مالک وغیرہ نے کہا کہ حاکم کو صرف اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں۔ خواہ وہ معاملہ پر عہدہ قضاء حاصل ہونے کے بعد گواہ ہوا ہو یا اس سے پہلے اور اگر کسی فریق نے اس کے سامنے دوسرے کے لیے مجلس قضاء میں کسی حق کا اقرار کیا تو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بنیاد پر وہ فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ دو گواہوں کو بلا کر ان کے سامنے اقرار کرائے گا۔ اور بعض اہل عراق نے کہا ہے کہ جو کچھ قاضی نے عدالت میں دیکھا یا سنا اس کے مطابق فیصلہ کرے گا لیکن جو کچھ عدالت کے باہر ہو گا اس کی بنیاد پر دو گواہوں کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتا اور انہیں میں سے دوسرے لوگوں نے کہا کہ اس کی بنیاد پر بھی فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ امانت دار ہے۔ شہادت کا مقصد تو صرف حق کا جاننا ہے پس قاضی کا ذاتی علم گواہی سے بڑھ کر ہے۔ اور بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ اموال کے بارے میں تو اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اس کے سوا میں نہیں کرے گا اور قاسم نے کہا کہ حاکم کے لیے درست نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ صرف اپنے علم کی بنیاد پر کرے اور دوسرے کے علم کو نظر انداز کر دے گو قاضی کا علم دوسرے کی گواہی سے بڑھ کر ہے لیکن چونکہ عام مسلمانوں کی نظر میں اس صورت میں قاضی کے مہتمم ہونے کا خطرہ ہے اور مسلمانوں کو اس طرح بدگمانی میں مبتلا کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگمانی کو ناپسند کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ صفیہ میری بیوی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7170]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا: جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں گواہی ہو جسے اس نے قتل کیا ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں ایک مقتول کے متعلق گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہ دیکھا جو میرے لیے گواہی دے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا۔ وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب نے کہا: جس مقتول کا انہوں نے ذکر کیا ہے اس کا سامان میرے پاس ہے، آپ اسے میری طرف سے راضی کر دیں۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: ہرگز نہیں، وہ قریش کے بد رنگ (معمولی) آدمی کو سامان دے دیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر دیں جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جہاد کرتا ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے وہ ہتھیار مجھے دے دیے، پھر میں نے ان کے عوض ایک باغ خریدا۔ یہ پہلا مال تھا جو میں نے (اسلام کے بعد) حاصل کیا تھا۔ (امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:) مجھ سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا ہے، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان دلا دیا، اہل حجاز نے کہا: حاکم اپنے علم کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہ کرے، خواہ وہ اس معاملے پر عہدہ قضا حاصل ہونے کے بعد مطلع ہوا ہو اس سے پہلے باخبر ہوا ہو۔ اگر مجلس قضا میں اس کے پاس کوئی فریق دوسرے کے حق کا اقرار کرے تو بھی کچھ علماء کا خیال ہے کہ وہ اس بنیاد پر کوئی فیصلہ نہ کرے یہاں تک کہ دو گواہوں کو بلائے اور ان کی موجودگی میں ان سے اقرار کرائے جبکہ اہل عراق کا کہنا ہے کہ قاضی مجلس قضا میں جو سنے یا دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کر دے لیکن جو کچھ عدالت کے باہر دیکھے تو وہ دو گواہوں کی گواہی کے بغیر فیصلہ نہ کرے اور انہیں میں سے کچھ حضرات نے کہا ہے کہ وہ اس بنیاد پر فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ امانت دار ہے اور شہادت کا مقصد بھی تو حق کا جاننا ہے لہذا قاضی کا خیال ہے کہ مالی معاملات کے متعلق تو اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتا ہے اور دوسرے معاملات میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، حضرت قاسم رحمہ اللہ نے کہا: حاکم کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے علم کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرے اور دوسرے کے علم کو نظر انداز کر دے اگرچہ قاضی کا علم دوسرے کی گواہی سے بڑھ کر حیثیت رکھتا ہے لیکن چونکہ اس میں عام مسلمانوں کے نزدیک تہمت کا اندیشہ ہے اور انہیں بدگمانی میں مبتلا کرنا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگمانی کو ناپسند کرتے ہوئے فرمایا تھا: یہ میری بیوی صفیہ ہے (لہٰذا اسے اپنے علم کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7170]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7171
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَلَمَّا رَجَعَتِ انْطَلَقَ مَعَهَا، فَمَرَّ بِهِ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَدَعَاهُمَا، فَقَالَ: إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ، قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ"، رَوَاهُ شُعَيْبٌ، وَابْنُ مُسَافِرٍ، وابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، وإسحاق بن يحيى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے جناب زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ نے کہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (رات کے وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے) جب وہ واپس آنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا، سبحان اللہ (کیا ہم آپ پر شبہ کریں گے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اس کی روایت شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7171]
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آئیں۔ جب وہ واپس جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ چلے۔ اس وقت دو انصاری آپ کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں بلا کر فرمایا: یہ صفیہ ہیں۔ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے! (ہمیں بد گمانی کیسے ہو سکتی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون گردش کرتا ہے۔ اس حدیث کو شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے امام زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7171]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ أَمْرِ الْوَالِي إِذَا وَجَّهَ أَمِيرَيْنِ إِلَى مَوْضِعٍ أَنْ يَتَطَاوَعَا وَلاَ يَتَعَاصَيَا:
باب: جب حاکم اعلیٰ دو شخصوں کو کسی ایک جگہ ہی کا حاکم مقرر کرے تو انہیں یہ حکم دے کہ وہ مل کر رہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِي، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: إِنَّهُ يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا الْبِتْعُ، فَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، وَقَالَ النَّضْرُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ (تبع) بنایا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نضر بن شمیل، ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7172]
حضرت سعد بن ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد گرامی (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا: آسانی پیدا کرنا، تنگی نہ کرنا، خوشخبری دینا، نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق پیدا کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہمارے ملک میں شہد سے نبیذ «الْبِتْعُ» بنایا جاتا ہے، یعنی اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نضر، ابوداود، یزید بن ہارون اور وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7172]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ إِجَابَةِ الْحَاكِمِ الدَّعْوَةَ:
باب: حاکم دعوت قبول کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7173
وَقَدْ أَجَابَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
‏‏‏‏ اور عثمان رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ایک غلام کی دعوت قبول کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: Q7173]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7173
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَجِيبُوا الدَّاعِيَ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، کہا مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیدیوں کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7173]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیدیوں کو رہا کرو اور ضیافت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ هَدَايَا الْعُمَّالِ:
باب: حاکموں کو جو ہدیے تحفے دیئے جائیں ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7174
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ:" اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسْدٍ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأُتَبِيَّةِ عَلَى صَدَقَةٍ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ سُفْيَانُ أَيْضًا: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَأْتِي، يَقُولُ: هَذَا لَكَ وَهَذَا لِي، فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْتِي بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا"، قَالَ سُفْيَانُ: قَصَّهُ عَلَيْنَا الزُّهْرِيُّ، وَزَادَ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعَ أُذُنَايَ، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنِي، وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَإِنَّهُ سَمِعَهُ مَعِي، وَلَمْ يَقُلِ الزُّهْرِيُّ، سَمِعَ أُذُنِي خُوَارٌ صَوْتٌ، وَالْجُؤَارُ: مِنْ تَجْأَرُونَ كَصَوْتِ الْبَقَرَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، انہوں نے عروہ سے سنا، انہیں ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسد کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحصیلدار بنایا، ان کا نام ابن الاتیتہ تھا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، سفیان ہی نے یہ روایت بھی کی کہ پھر آپ منبر پر چڑھے پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ اس عامل کا کیا حال ہو گا جسے ہم تحصیل کے لیے بھیجتے ہیں پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ میرا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا رہا اور دیکھا ہوتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عامل جو چیز بھی (ہدیہ کے طور پر) لے گا اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر اونٹ ہو گا تو وہ اپنی آواز نکالتا آئے گا، اگر گائے ہو گی تو وہ اپنی آواز نکالتی آئے گی، بکری ہو گی تو وہ بولتی آئے گی، پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ یہاں تک کہ ہم نے آپ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے پہنچا دیا! تین مرتبہ یہی فرمایا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ یہ حدیث ہم سے زہری نے بیان کی اور ہشام نے اپنے والد سے روایت کی، ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور دونوں آنکھوں نے دیکھا اور زید بن ثابت صحابی رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ کیونکہ انہوں نے بھی یہ حدیث میرے ساتھ سنی ہے۔ سفیان نے کہا زہری نے یہ لفظ نہیں کہا کہ میرے کانوں نے سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں «خوار‏» کا لفظ ہے یعنی گائے کی آواز یا «جؤار» کا لفظ جو لفظ «تجأرون» سے نکلا ہے جو سورۃ مومنون میں ہے یعنی گائے کی آواز نکالتے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7174]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو صدقات کی وصولی کے لیے تحصیل دار مقرر کیا، اسے ابن اللتبیۃ کہا جاتا تھا۔ وہ صدقات لے کر آیا تو اس نے کہا: یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ مجھے نذرانہ دیا گیا ہے۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ (راویِ حدیث) سفیان نے کہا: منبر پر چڑھے۔ اللہ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اس عامل کا کیا حال ہے جسے ہم (صدقات وصول کرنے کے لیے) بھیجتے ہیں تو وہ واپس آکر کہتا ہے: یہ مال تمہارا ہے اور یہ میرا ہے؟ وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا، پھر دیکھا جاتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ عامل جو چیز بھی (ناجائز طور پر) لے لے گا، قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر وہ اونٹ ہوگا تو وہ بلبلاتا ہوا آئے گا، اگر گائے ہوگی تو وہ اپنی آواز نکالتی ہوئی آئے گی اور اگر وہ بکری ہوگی تو وہ ممیاتی ہوئی آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے: خبردار! میں نے (اللہ کا حکم) پہنچا دیا ہے۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث ہم سے زہری نے بیان کی ہے۔ ہشام نے اپنے والد کے ذریعے سے ابو حمید رضی اللہ عنہ سے کچھ اضافہ بیان کیا، انہوں نے فرمایا: میرے کانوں نے سنا، میری آنکھوں نے دیکھا اور تم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ لو، انہوں نے یہ حدیث میرے ہمراہ سنی تھی۔ (سفیان نے کہا:) زہری نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے: میرے کانوں نے اسے سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: حدیث میں «خُوَارٌ» کے معنی آواز کے ہیں اور «جُؤَارٌ»، «تَجْأَرُونَ» سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی آوازیں بلند کریں گے یعنی گائے کی طرح آوازیں نکالتے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7174]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ اسْتِقْضَاءِ الْمَوَالِي وَاسْتِعْمَالِهِمْ:
باب: آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7175
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَه قَالَ:"كَانَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، وَأَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَبُو سَلَمَةَ، وَزَيْدٌ،وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ".
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7175]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا: حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ اولین مہاجرین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مسجدِ قباء میں امامت کرتے تھے، ان اصحاب میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت ابوسلمہ، حضرت زید اور حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ الْعُرَفَاءِ لِلنَّاسِ:
باب: لوگوں کے چودھری یا نقیب بنانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7176
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حِينَ أَذِنَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ فِي عِتْقِ سَبْيِ هَوَازِنَ:" إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ، فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب مسلمانوں نے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کو اجازت دی تو فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے۔ پس واپس جاؤ اور تمہارا معاملہ ہمارے پاس تمہارے نقیب یا چودھری اور تمہارے سردار لائیں۔ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے ذمہ داروں نے ان سے بات کی اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر اطلاع دی کہ لوگوں نے دلی خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7176]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہیں مروان بن حکم اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ جب مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن کے قیدی آزاد کر دینے کے متعلق کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ اب تم واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ تمہارے نمبردار تمہارا معاملہ ہم تک پہنچائیں۔ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے درمیان ذمہ داران نے ان سے گفتگو کی۔ پھر انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ لوگوں نے اپنے دل کی خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7176]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں