مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1.12. (تَسْمِيَةُ النَّبِيِّ الكَرِيمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِخْوَانَهُ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیوں کو اپنا بھائی قرار دینا
حدیث نمبر: 298
298 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا) قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: (أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: (أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ، بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟) قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: (فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان تشریف لائے تو فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”ان گھروں کے رہنے والے مومنوں! تم پر سلامتی ہو، اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی یقیناً تمہارے پاس پہنچنے والے ہیں، میری خواہش تھی کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھتے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے ساتھی ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔“ صحابہ نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی نہیں آئے اور وہ بعد میں آئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ، اگر کسی شخص کا سفید ٹانگوں اور سفید پیشانی والا گھوڑا، سیاہ گھوڑوں میں ہو تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچانے گا؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! ضرور پہچان لے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پس وہ آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی چمکتی ہو گی جبکہ میں حوضِ کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (39/ 249)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
1.13. (أَعْضَاءُ الوُضُوءِ المُتَلَأْلِئَةُ يَوْمَ القِيَامَةِ)
روز قیامت وضو کے چمکتے اعضاء
حدیث نمبر: 299
299 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَأَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدِي فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرَهُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور سب سے پہلے مجھے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی، پس میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو تمام امتوں میں سے اپنی امت پہچان لوں گا، اور اسی طرح اپنے پیچھے، اسی طرح اپنے دائیں اور اسی طرح اپنے بائیں طرف۔“ تو کسی شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تمام امتوں میں سے اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے جبکہ نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک کتنی امتیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے نشانات کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی چمکتی ہو گی، ان کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ہو گا اور میں انہیں اس لیے بھی پہچان لوں گا کہ انہیں ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور میں انہیں ایک اور علامت سے بھی پہچان لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے آگے دوڑ رہی ہو گی۔“ اس حدیث کو احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (5/ 199 ح 22080) [و سنده حسن، ابن لھيعة صرح بالسماع و للحديث شواھد کثيرة.] »
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الوُضُوءُ شَرْطٌ لِقَبُولِ الصَّلَاةِ)
وضو قبولیت نماز کے لیے شرط
حدیث نمبر: 300
[ 1 ] بَابُ مَا يُوجِبُ الْوُضُوءَ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 300 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کا وضو ٹوٹ جائے تو جب تک وہ وضو نہ کرے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (135) و مسلم (2/ 225)»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِدُونِ وُضُوءٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ حَرَامٍ)
وضو کے بغیر نہ نماز قبول کی جاتی ہے، نہ مال حرام سے صدقہ
حدیث نمبر: 301
301 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کی جاتی اور نہ ہی حرام مال سے صدقہ۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2/ 224)»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (نَوَاقِضُ الوُضُوءِ، غَسْلُ الفَرْجِ وَالوُضُوءُ عِنْدَ خُرُوجِ المَذْيِ)
نواقض وضو، اخراج مذی پر شرم گاہ دھونا اور وضو کرنا ہے
حدیث نمبر: 302
302 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے کثرت سے مذی آتی تھی، لیکن میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا تھا کیونکہ آپ میرے سسر تھے، پس میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شرم گاہ دھوئے اور وضو کرے۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (269) و مسلم (17/ 303)»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ الوُضُوءِ مِنْ أَكْلِ شَيْءٍ مَطْبُوخٍ عَلَى النَّارِ)
آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 303
303 - (وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ) (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) . قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْأَجَّلُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللَّهُ هَذَا مَنْسُوخٌ بِحَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر وضو کرو۔“ الشیخ الامام الاجل محی السنہ رحمہ اللہ نے فرمایا: مذکورہ بالا حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کی وجہ سے منسوخ ہے۔ رواہ مسلم و فی مصابیح السنہ (205)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (90/ 352)
٭ قول محيي السنة في مصابيح السنة (205)»
٭ قول محيي السنة في مصابيح السنة (205)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ الوُضُوءِ مِنْ أَكْلِ لَحْمِ المَاعِزِ)
بکری کا گوشت کھانے پر وضو کا بیان
حدیث نمبر: 304
304 - قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ کیا۔ متفق علیہ، رواہ البخاری (207) ومسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (207) و مسلم (91 / 354)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ الوُضُوءِ مِنْ أَكْلِ لَحْمِ الإِبِلِ)
اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کا بیان
حدیث نمبر: 305
305 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ (إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّأْ) قَالَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: (نَعَمْ! فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ) قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: (نَعَمْ) . قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ (لَا) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو وضو کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔“ اس نے پھر دریافت کیا: کیا ہم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرو۔“ اس شخص نے پوچھا: کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پوچھا: اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (97 / 360)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الشَّكُّ فَقَطْ لَا يُنْقِضُ الوُضُوءَ)
محض شک سے وضو نہیں ٹوٹتا
حدیث نمبر: 306
306 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا. فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ گڑبڑ محسوس کرے اور اس پر معاملہ مشتبہ ہو جائے کہ آیا اس سے کوئی چیز نکلی ہے یا نہیں تو وہ مسجد سے نہ نکلے حتیٰ کہ وہ کوئی آواز سن لے یا بدبو محسوس کرلے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (99 / 362)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (المَضْمَضَةُ بَعْدَ أَكْلِ شَيْءٍ دُهْنِيٍّ)
چکنی چیز کھانے کے بعد کلی کرنا
حدیث نمبر: 307
307 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ (إِنَّ لَهُ دَسَمًا) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ پیا تو کلی کی اور فرمایا: ”اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (211) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (211) و مسلم (95 / 358)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه