صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَازَةِ خَبَرِ الْوَاحِدِ الصَّدُوقِ فِي الأَذَانِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّوْمِ وَالْفَرَائِضِ وَالأَحْكَامِ:
باب: ایک سچے شخص کی خبر پر اذان، نماز، روزے فرائض سارے احکام میں عمل ہونا۔
حدیث نمبر: 7255
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد بن مہران نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں ایک امانت دار ہوتا ہے اور اس امت کے امانت دار ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7255]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7256
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ:" وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبید بن حنین نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب تھے (اوس بن خولیٰ نام) جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت نہ کر سکتے اور میں شریک ہوتا تو انہیں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبریں بتاتا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک نہ ہو پاتا اور وہ شریک ہوتے تو وہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبر مجھے بتاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7256]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”انصار میں سے ایک آدمی تھا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت نہ کرتا اور میں ہوتا تو جو کچھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا اسے آکر بیان کر دیتا، اور جب میں غائب ہوتا اور وہ مجلس میں شریک ہوتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا وہ مجھے بیان کر دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7256]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ، جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، وَقَالَ: ادْخُلُوهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: لَوْ دَخَلُوهَا لَمْ يَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ایک صاحب عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا، پھر (اس نے کیا کیا کہ) آگ جلوائی اور (لشکریوں سے) کہا کہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ جس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت حلال نہیں ہے اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7257]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک آدمی کو امیر مقرر فرمایا۔ اس نے آگ کا الاؤ تیار کیا اور لشکریوں سے کہا: ”اس آگ میں کود پڑو۔“ کچھ لوگوں نے اس میں کودنے کا ارادہ کیا تو دوسرے کہنے لگے: ”ہم آگ ہی سے بھاگ کر ادھر آئے ہیں۔“ جب انہوں نے اس بات کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا جنہوں نے کود جانے کا ارادہ کیا تھا: ”اگر یہ لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس میں رہتے۔“ پھر دوسرے لوگوں سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ اطاعت صرف نیک کاموں میں ہوتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7258
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَخْبَرَاهُ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ خبر دی اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا (تفصیل آگے حدیث ذیل میں ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7258]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ ”دو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک مقدمہ لے کر آئے (اس کی تفصیل اگلی حدیث میں ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7258]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7259
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَخْبَرَاهُ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ خبر دی اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا (تفصیل آگے حدیث ذیل میں ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7259]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ ”دو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک مقدمہ لے کر آئے (اس کی تفصیل اگلی حدیث میں ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7259]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7260
وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَهُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْ: فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ، وَأَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرُدُّوهَا، وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ دیہاتیوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ فرما دیجئیے۔ اس کے بعد ان کا مقابل فریق کھڑا ہوا اور کہا انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے کہنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کیا کرتا تھا، «عسيف» بمعنی «الأجير» مزدور ہے، پھر اس نے ان کی عورت سے زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہو گی لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دیا (اور لڑکے کو چھڑا لیا) پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی بیوی پر رجم کی سزا لاگو ہو گی اور میرے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، باندی اور بکریاں تو اسے واپس کر دو اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہے اور اے انیس! (قبیلہ اسلم کے ایک صحابی) اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا پھر انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو سنگسار کر ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7260]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ اچانک ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ کر دیں۔“ اس کے بعد اس کا مد مقابل کھڑا ہوا اس نے بھی یہی عرض کی: ”اللہ کے رسول! یہ سچ کہتا ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیں لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”بیان کرو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا۔ اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کی سزا ملے گی لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ ادا کیں۔ پھر میں نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی پر رجم اور میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلاوطنی کی سزا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں (تجھے) واپس کر دی جائیں اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی واجب ہے۔“ پھر قبیلہ اسلم کے ایک آدمی حضرت انیس رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے انیس! تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دو۔“ چنانچہ حضرت انیس رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اس کے بعد حضرت انیس رضی اللہ عنہ نے اسے سنگسار کر ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7260]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
2. بَابُ بَعْثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرَ طَلِيعَةً وَحْدَهُ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زبیر رضی اللہ عنہ کو اکیلے کافروں کی خبر لانے کے لیے بھیجنا۔
حدیث نمبر: 7261
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثَلَاثًا، فَقَالَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ"، قَالَ سُفْيَانُ: حَفِظْتُهُ مِنْ ابْنِ الْمُنْكَدِر وَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْهُمْ عَنْ جَابِرٍ، فَإِنَّ الْقَوْمَ يُعْجِبُهُمْ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ عَنْ جَابِرٍ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ: سَمِعْتُ جَابِرًا، فَتَابَعَ بَيْنَ أَحَادِيثَ سَمِعْتُ جَابِرًا، قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَقَالَ:" كَذَا حَفِظْتُهُ مِنْهُ كَمَا أَنَّكَ جَالِسٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ قَالَ سُفْيَانُ: هُوَ يَوْمٌ وَاحِدٌ وَتَبَسَّمَ سُفْيَانُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، بیان کیا کہ غزوہ خندق کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دشمن سے خبر لانے کے لیے) صحابہ سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے پھر ان سے کہا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی تیار ہوئے۔ پھر کہا، پھر بھی انہوں نے ہی آمادگی دکھلائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری (مددگار) ہوتے ہیں اور میری حواری زبیر ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ روایت ابن المنکدر سے یاد کی اور ایوب نے ابن المنکدر سے کہا، اے ابوبکر! (یہ محمد بن منکدر کی کنیت ہے) ان سے جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجئے کیونکہ لوگ پسند کرتے ہیں کہ آپ جابر رضی اللہ عنہ کی احادیث بیان کریں تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور چار احادیث میں پے در پے یہ کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ سفیان ثوری تو غزوہ قریظہ کہتے ہیں (بجائے غزوہ خندق کے) انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے ہی یقین کے ساتھ یاد کیا ہے جیسا کہ تم اس وقت بیٹھے ہو کہ انہوں نے غزوہ خندق کہا، سفیان نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی غزوہ ہیں (کیونکہ) غزوہ خندق کے فوراً بعد اسی دن غزوہ قریظہ پیش آیا اور وہ مسکرائے۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7261]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے روز صحابہ کو آواز دی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی تیار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پکارا تو بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے آمادگی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا مدد گار ہوتا ہے اور میرا مددگار زبیر رضی اللہ عنہ ہے۔“ (راویِ حدیث) سفیان نے کہا: ”میں نے یہ حدیث محمد بن منکدر سے یاد کی ہے۔“ ایوب نے ان (ابن منکدر) سے کہا: ”اے ابوبکر! آپ لوگوں سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کریں کیونکہ لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں“، تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا: ”میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے“ اور پے در پے احادیث بیان کرنے لگے کہ ”میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔“ (علی بن عبداللہ کہتے ہیں:) میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا: ”سفیان ثوری نے یومِ قریظہ کہا۔“ سفیان بن عیینہ نے کہا: ”میں نے ابن منکدر سے یومِ خندق اس طرح آمنے سامنے یاد کیا ہے جیسے آپ بیٹھے ہیں۔“ سفیان نے کہا: ”یہ دونوں نام ایک ہی غزوے کے ہیں“ اور پھر سفیان مسکرا دیے۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7261]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
3. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الاحزاب میں) فرمان ”نبی کے گھروں میں نہ داخل ہو مگر اجازت لے کر جب تم کو کھانے کے لیے بلایا جائے“۔
حدیث نمبر: Q7262
فَإِذَا أَذِنَ لَهُ وَاحِدٌ جَازَ.
ظاہر ہے کہ اجازت کے لیے ایک شخص کا بھی اذن دینا کافی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: Q7262]
حدیث نمبر: 7262
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ الْبَابِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ کی نگرانی کا حکم دیا، پھر ایک صحابی آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دے دو۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7262]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تشریف لے گئے اور مجھے دروازے کی نگرانی کا حکم دیا۔ پھر ایک آدمی آیا اور وہ اجازت طلب کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت کے ساتھ جنت کی بھی بشارت دے دو۔“ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت سنا دو۔“ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بھی اجازت کے ساتھ جنت کی خوشخبری دے دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7262]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7263
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ:" جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ، فَقُلْتُ: قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَذِنَ لِي".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کا ایک کالا غلام سیڑھی کے اوپر (نگرانی کر رہا) تھا میں نے اس سے کہا کہ کہو کہ عمر بن خطاب کھڑا ہے اور اجازت چاہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7263]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تشریف فرما تھے اور آپ کا سیاہ غلام سیڑھی کے اوپر تعینات تھا۔ میں نے اس سے کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کرو: عمر بن خطاب کھڑا اجازت طلب کر رہا ہے، چنانچہ آپ نے مجھے اجازت دے دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب أخبار الآحاد/حدیث: 7263]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة