یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب تقبيل الحجر:
باب: حجر اسود کو بوسہ دینا۔
حدیث نمبر: 1610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ".
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں ورقاء نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا کہ ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1610]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1610 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1610
حدیث حاشیہ:
(1)
حجراسود جنت کا ایک پتھر ہے۔
اسے بوسہ دینے میں یہ حکمت ہے کہ اس سے جنت کی چیز دیکھ کر خوشی کا اظہار مقصود ہے۔
قبل ازیں یہ روایت تفصیل سے گزر چکی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حجراسود سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ تو ایک پتھر ہے، کسی کو ذاتی طور پر نفع یا نقصان پہنچانا تیرے بس میں نہیں ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1597) (2)
مشروعات کا استعمال نفع دیتا ہے، تاہم حضرت عمر ؓ کا مقصد تھا کہ حجراسود کی ذاتی طور پر کوئی خصوصیت نہیں جو کسی کے لیے نفع یا نقصان کا باعث ہو، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بوسہ دینے کی وجہ سے یہ پتھر دوسرے پتھروں سے ممتاز ہو گیا ہے۔
(1)
حجراسود جنت کا ایک پتھر ہے۔
اسے بوسہ دینے میں یہ حکمت ہے کہ اس سے جنت کی چیز دیکھ کر خوشی کا اظہار مقصود ہے۔
قبل ازیں یہ روایت تفصیل سے گزر چکی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حجراسود سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ تو ایک پتھر ہے، کسی کو ذاتی طور پر نفع یا نقصان پہنچانا تیرے بس میں نہیں ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1597) (2)
مشروعات کا استعمال نفع دیتا ہے، تاہم حضرت عمر ؓ کا مقصد تھا کہ حجراسود کی ذاتی طور پر کوئی خصوصیت نہیں جو کسی کے لیے نفع یا نقصان کا باعث ہو، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بوسہ دینے کی وجہ سے یہ پتھر دوسرے پتھروں سے ممتاز ہو گیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1610]
Sahih Bukhari Hadith 1610 in Urdu
أسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي