🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب تقبيل الحجر:
باب: حجر اسود کو بوسہ دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ".
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں ورقاء نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1610]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥أسلم العدوي، أبو خالد، أبو زيد
Newأسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة مخضرم
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أسلم العدوي
ثقة
👤←👥ورقاء بن عمر اليشكري، أبو بشر
Newورقاء بن عمر اليشكري ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← ورقاء بن عمر اليشكري
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن سنان القطان، أبو جعفر
Newأحمد بن سنان القطان ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1610 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1610
حدیث حاشیہ:
(1)
حجراسود جنت کا ایک پتھر ہے۔
اسے بوسہ دینے میں یہ حکمت ہے کہ اس سے جنت کی چیز دیکھ کر خوشی کا اظہار مقصود ہے۔
قبل ازیں یہ روایت تفصیل سے گزر چکی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حجراسود سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ تو ایک پتھر ہے، کسی کو ذاتی طور پر نفع یا نقصان پہنچانا تیرے بس میں نہیں ہے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1597) (2)
مشروعات کا استعمال نفع دیتا ہے، تاہم حضرت عمر ؓ کا مقصد تھا کہ حجراسود کی ذاتی طور پر کوئی خصوصیت نہیں جو کسی کے لیے نفع یا نقصان کا باعث ہو، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بوسہ دینے کی وجہ سے یہ پتھر دوسرے پتھروں سے ممتاز ہو گیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1610]

Sahih Bukhari Hadith 1610 in Urdu