🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
118. باب نحر الإبل مقيدة:
باب: اونٹ کو باندھ کر نحر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1713
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا، قَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , وَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ يُونُسَ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیاد بن جبیر نے کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ شعبہ نے یونس سے بیان کیا کہ مجھے زیادہ نے خبر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زياد بن جبير الثقفيثقة
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد
Newيونس بن عبيد العبدي ← زياد بن جبير الثقفي
ثقة ثبت فاضل ورع
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يونس بن عبيد العبدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← شعبة بن الحجاج العتكي
صحابي
👤←👥زياد بن جبير الثقفي
Newزياد بن جبير الثقفي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد
Newيونس بن عبيد العبدي ← زياد بن جبير الثقفي
ثقة ثبت فاضل ورع
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← يونس بن عبيد العبدي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1713
ابعثها قياما مقيدة سنة محمد
صحيح مسلم
3193
ابعثها قياما مقيدة سنة نبيكم
سنن أبي داود
1768
ابعثها قياما مقيدة سنة محمد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1713 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1713
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ اونٹ کو کھڑا کرکے نحر کرنا ہی افضل ہے اور حنفیہ نے کھڑا اور بیٹھا دونوں طرح نحر کرنا برابر رکھا ہے اور اس حدیث سے ان کا رد ہوتا ہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو ابن عمر ؓ اس شخص پر انکار نہ کرتے، اس شخص کا نام معلوم نہیں ہوا۔
(وحیدی)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
و فیه أن قول الصحابي من السنة کذا مرفوع عند الشیخین لاحتجاجهما بهذا الحدیث في صحیحین۔
(فتح)
یعنی اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی صحابی کا کسی کام کے لیے یہ کہنا کہ یہ سنت ہے یہ شیخین کے نزدیک مرفوع حدیث کے حکم میں ہے اس لیے کہ شیخین نے اس سے حجت پکڑی ہے اپنی صحیح ترین کتابوں بخاری و مسلم میں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1713]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1713
حدیث حاشیہ:
(1)
سنن ابوداود میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ؓ جب قربانی کا اونٹ ذبح کرتے تو اس کا بایاں پاؤں باندھ دیتے اور اسے کھڑا کر کے نحر کرتے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1767)
حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ نحر کرتے وقت اس کا ایک پاؤں باندھ دیتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر اسے کھڑا کر کے نحر کرنا فضیلت کا باعث ہے اگرچہ بٹھا کر نحر کرنا بھی جائز ہے، البتہ احناف کے نزدیک اونٹ کو کھڑا کر کے یا بٹھا کر نحر کرنے میں برابر کی فضیلت ہے۔
(2)
شعبہ کی روایت کو اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں متصل سند سے بیان کیا ہے جس کے الفاظ روایت مذکورہ سے ملتے جلتے ہیں۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب صحابی مِنَ السُنة کے الفاظ استعمال کرے تو وہ روایت مرفوع حدیث کا درجہ رکھتی ہے۔
(فتح الباري: 699/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1713]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1768
اونٹ کیسے نحر کئے جائیں؟
یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیر نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں میں منیٰ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا: کھڑا کر کے (بایاں پیر) باندھ کر نحر کرو، یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1768]
1768. اردو حاشیہ: فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کےافعال کی اتباع کامل ہی کا نام دین ہے۔ صحابہ کرام کی سیرتیں یہی بتاتی ہیں۔وہ ہمیشہ اس کے داعی رہے اور قیامت تک کے لیے یہی اٹل اصول ہے۔ صریح نصوص کےہوتے ہوئے رائے خیال رجحان اور فتویٰ کا کیا مقام!؟
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1768]