صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. باب الحلق والتقصير عند الإحلال:
باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔
حدیث نمبر: 1728
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ".
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کے لیے بھی (یہی دعا فرمائیے) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت کر۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور کتروانے والوں کی بھی! تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1728
| اللهم اغفر للمحلقين اللهم اغفر للمحلقين قالوا وللمقصرين قالها ثلاثا قال وللمقصرين |
صحيح مسلم |
3148
| اللهم اغفر للمحلقين وللمقصرين قال اللهم اغفر للمحلقين قالوا يا رسول الله وللمقصرين قال وللمقصرين |
سنن ابن ماجه |
3043
| اللهم اغفر للمحلقين اللهم اغفر للمحلقين ثلاثا قالوا يا رسول الله والمقصرين قال والمقصرين |
بلوغ المرام |
630
| اللهم ارحم المحلقين |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1728 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1728
حدیث حاشیہ:
(1)
حج یا عمرے کے وقت سر منڈوانا افضل ہے اور بال کتروانے جائز ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ بال منڈوانے والوں کے متعلق رحمت و مغفرت کی دعا کی ہے اور ایک دفعہ بال چھوٹے کرانے والوں کے متعلق دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے ہیں۔
مذکورہ دعائیہ کلمات آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر بھی کہے تھے جیسا کہ حضرت ام حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بال منڈوانے والوں کے متعلق تین دفعہ دعا فرمائی اور ایک دفعہ بال ترشوانے والوں کے متعلق دعا کی۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث؛3150(1303)
اور صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی آپ نے اسی طرح دعا فرمائی تھی جیسا کہ ابن اسحاق نے اس کی صراحت کی ہے۔
اہل عرب اپنے بال بھانے اور بطور زینت انہیں لمبا کرنے کے عادی تھے۔
ان کے ہاں منڈوانے کا بالکل رواج نہ تھا، اس لیے صلح حدیبیہ یا حج کے موقع پر انہیں منڈوانا بعض حضرات نے پسند نہ کیا جبکہ اکثریت نے آپ کے کہنے یا آپ کے عمل کو دیکھ کر آپ کا کہا ماننے یا آپ کے طریقے پر عمل کرنے میں جلدی کی، اس لیے آپ نے تین مرتبہ منڈوانے والوں کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے بال منڈوانے والوں کے بارے میں تین دفعہ اور کتروانے والوں کے لیے ایک دفعہ دعا کی ہے؟ آپ نے فرمایا:
”منڈوانے والوں نے کسی قسم کا تردد نہیں کیا بلکہ میرا حکم ماننے میں پہل کی ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، المناسك، حدیث: 3045) (2)
واضح رہے کہ اگر حج سے چند دن قبل عمرہ کیا جائے اور اندیشہ ہو کہ حلق کرانے کے بعد دسویں ذوالحجہ تک بال نہیں اُگ سکیں گے تو ایسے حالات میں عمرہ کرنے والے کے لیے بال کتروانا افضل ہے تاکہ حج کے موقع پر حلق ہو سکے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جن حضرات نے عمرہ کیا تھا انہوں نے اس موقع پر بال چھوٹے کرائے تھے جس کی ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔
(1)
حج یا عمرے کے وقت سر منڈوانا افضل ہے اور بال کتروانے جائز ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ بال منڈوانے والوں کے متعلق رحمت و مغفرت کی دعا کی ہے اور ایک دفعہ بال چھوٹے کرانے والوں کے متعلق دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے ہیں۔
مذکورہ دعائیہ کلمات آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر بھی کہے تھے جیسا کہ حضرت ام حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بال منڈوانے والوں کے متعلق تین دفعہ دعا فرمائی اور ایک دفعہ بال ترشوانے والوں کے متعلق دعا کی۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث؛3150(1303)
اور صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی آپ نے اسی طرح دعا فرمائی تھی جیسا کہ ابن اسحاق نے اس کی صراحت کی ہے۔
اہل عرب اپنے بال بھانے اور بطور زینت انہیں لمبا کرنے کے عادی تھے۔
ان کے ہاں منڈوانے کا بالکل رواج نہ تھا، اس لیے صلح حدیبیہ یا حج کے موقع پر انہیں منڈوانا بعض حضرات نے پسند نہ کیا جبکہ اکثریت نے آپ کے کہنے یا آپ کے عمل کو دیکھ کر آپ کا کہا ماننے یا آپ کے طریقے پر عمل کرنے میں جلدی کی، اس لیے آپ نے تین مرتبہ منڈوانے والوں کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے بال منڈوانے والوں کے بارے میں تین دفعہ اور کتروانے والوں کے لیے ایک دفعہ دعا کی ہے؟ آپ نے فرمایا:
”منڈوانے والوں نے کسی قسم کا تردد نہیں کیا بلکہ میرا حکم ماننے میں پہل کی ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، المناسك، حدیث: 3045) (2)
واضح رہے کہ اگر حج سے چند دن قبل عمرہ کیا جائے اور اندیشہ ہو کہ حلق کرانے کے بعد دسویں ذوالحجہ تک بال نہیں اُگ سکیں گے تو ایسے حالات میں عمرہ کرنے والے کے لیے بال کتروانا افضل ہے تاکہ حج کے موقع پر حلق ہو سکے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جن حضرات نے عمرہ کیا تھا انہوں نے اس موقع پر بال چھوٹے کرائے تھے جس کی ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1728]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 630
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی یہ حدیث بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”الٰہی سر منڈانے والے حاجیوں پر رحم فرما“ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! بال ترشوانے والے پر بھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”بال ترشوانے والوں پر بھی۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 630]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی یہ حدیث بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”الٰہی سر منڈانے والے حاجیوں پر رحم فرما“ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! بال ترشوانے والے پر بھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”بال ترشوانے والوں پر بھی۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 630]
630 لغوی تشریح:
«المحلقين» تحلیق سے ماخوذ اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حج اور عمرے سے حلال ہونے کے موقع پر اپنے سر منڈاتے ہیں۔ حلق دراصل بالوں کو جڑوں تک صاف کر دینے کو کہتے ہیں۔
«والمقصرين» یہ عطف تلقین ہے، یعنی آپ یہ بھی کہیں: «والمقصرين» ۔ اور «تقصيعر» بال کٹوانے کو کہتے ہیں جن میں بال جڑ سے صاف نہیں کیے جاتے۔ یہ حدیث بال منڈوانے کی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔
«المحلقين» تحلیق سے ماخوذ اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حج اور عمرے سے حلال ہونے کے موقع پر اپنے سر منڈاتے ہیں۔ حلق دراصل بالوں کو جڑوں تک صاف کر دینے کو کہتے ہیں۔
«والمقصرين» یہ عطف تلقین ہے، یعنی آپ یہ بھی کہیں: «والمقصرين» ۔ اور «تقصيعر» بال کٹوانے کو کہتے ہیں جن میں بال جڑ سے صاف نہیں کیے جاتے۔ یہ حدیث بال منڈوانے کی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 630]
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي