صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3478
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا، فَقَالَ: لِبَنِيهِ لَمَّا حُضِرَ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ، قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ، قَالَ: فَإِنِّي لَمْ أَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوا فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ، قَالَ: مَخَافَتُكَ، فَتَلَقَّاهُ بِرَحْمَتِهِ، وَقَالَ مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ گزشتہ امتوں میں ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے خوب دولت دی تھی۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا میں تمہارے حق میں کیسا باپ ثابت ہوا؟ بیٹوں نے کہا کہ آپ ہمارے بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا لیکن میں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا۔ اس لیے جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور (راکھ کو) کسی سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ پاک نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس شخص نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے ہی خوف سے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی۔ اس حدیث کو معاذ عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3478]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ مال و اسباب دے رکھا تھا۔ جب اس پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگے تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے کہا: آپ ہمارے لیے بہترین باپ ہیں۔ اس نے کہا: میں نے اب تک کوئی اچھا کام نہیں کیا، لہذا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس کر تیز ہوا میں اڑا دینا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے (اس کے بکھرے ہوئے ذرات کو) اکٹھا کر کے فرمایا: تجھے اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: (اے اللہ!) تیرے خوف نے، چنانچہ اللہ نے اپنی رحمت سے اس کا استقبال کیا۔“ معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے خبر دی، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3478
| إذا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم ذروني في يوم عاصف ففعلوا فجمعه الله فقال ما حملك قال مخافتك فتلقاه برحمته |
صحيح مسلم |
6984
| إذا أنا مت فأحرقوني وأكثر علمي أنه قال ثم اسحقوني واذروني في الريح فإني لم أبتهر عند الله خيرا وإن الله يقدر علي أن يعذبني قال فأخذ منهم ميثاقا ففعلوا ذ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3478 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3478
حدیث حاشیہ:
اس کا یہ کام قدرت الٰہی کے عقیدے کے منافی تھا لیکن یہ معاملہ اس وقت کیا جب اس پر خوف کا غلبہ تھا اس بنا پروہ تدبر اور سوچ و بچارسے محروم تھا اور اسے ہر چیز بھول چکی تھی۔
ایسے حالات کی وجہ سے اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوا۔
بہر حال اس شخص کا اللہ پر ایمان تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کرنے پر اس نے بتایا کہ مجھے تیرے خوف نے اس کام پر آمادہ کیا۔
شدت خوف کے وقت اگر کوئی ایسی بات یا ایسا کام کرے جو دائرہ اسلام سے خارج ہو نے کا باعث ہو تو اس پر مؤاخذہ نہیں ہو گا۔
اس کا یہ کام قدرت الٰہی کے عقیدے کے منافی تھا لیکن یہ معاملہ اس وقت کیا جب اس پر خوف کا غلبہ تھا اس بنا پروہ تدبر اور سوچ و بچارسے محروم تھا اور اسے ہر چیز بھول چکی تھی۔
ایسے حالات کی وجہ سے اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوا۔
بہر حال اس شخص کا اللہ پر ایمان تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کرنے پر اس نے بتایا کہ مجھے تیرے خوف نے اس کام پر آمادہ کیا۔
شدت خوف کے وقت اگر کوئی ایسی بات یا ایسا کام کرے جو دائرہ اسلام سے خارج ہو نے کا باعث ہو تو اس پر مؤاخذہ نہیں ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3478]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6984
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ" تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا چنانچہ اس نے اپنی اولاد سے کہا، جو میں تمھیں حکم دینے والا ہوں، لازماً تم اس پر تم عمل پیرا ہو گے یا میں اپنی وراثت تمھارے سواکسی اورکو دے دوں گا، جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا راوی کہتا ہے میرا ظن غالب یہی ہے کہ اس نے کہا، پھر مجھے پیس ڈالنا اور مجھے ہوامیں اڑادینا کیونکہ میں نے اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6984]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
راشه:
اس کو عطا کیا،
اگرراسه تو معنی ہوگا،
(مال اور اولاد کا)
سرداربنایا۔
ابتئر:
اور ہمزہ کوہاء سے بدل دیتے ہیں،
ابتهر،
جمع کیا،
ذخیرہ کیا،
یعنی آگے بھیجا۔
فما تلافاه غيرها:
اس کے گناہوں کی تلافی اور ازالہ خوف الٰہی ہی نے کیا۔
مفردات الحدیث:
راشه:
اس کو عطا کیا،
اگرراسه تو معنی ہوگا،
(مال اور اولاد کا)
سرداربنایا۔
ابتئر:
اور ہمزہ کوہاء سے بدل دیتے ہیں،
ابتهر،
جمع کیا،
ذخیرہ کیا،
یعنی آگے بھیجا۔
فما تلافاه غيرها:
اس کے گناہوں کی تلافی اور ازالہ خوف الٰہی ہی نے کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6984]
Sahih Bukhari Hadith 3478 in Urdu
عقبة بن عبد الغافر العوذي ← أبو سعيد الخدري