🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب قوله: {وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی دکھ دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4686
الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ: الْعَوْنُ الْمُعِينُ رَفَدْتُهُ أَعَنْتُهُ، تَرْكَنُوا: تَمِيلُوا، فَلَوْلَا كَانَ: فَهَلَّا كَانَ، أُتْرِفُوا: أُهْلِكُوا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ: شَدِيدٌ وَصَوْتٌ ضَعِيفٌ.
‏‏‏‏ «الرفد المرفود» مدد جو دی جائے (انعام جو مرحمت ہو)۔ عرب لوگ کہتے ہیں «رفدته» یعنی میں نے اس کی مدد کی۔ «تركنوا» کا معنی جھکو، مائل ہو۔ «فلولا كان» یعنی کیوں نہ ہوئے۔ «أترفوا» ہلاک کئے گئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «زفير» زور کی آواز کو اور «شهيق» پست آواز کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4686]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4686
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ سورة هود آية 102".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد‏» اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4686]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4686
الله ليملي للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته قال ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة إن أخذه أليم شديد
صحيح مسلم
6581
الله يملي للظالم فإذا أخذه لم يفلته ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة إن أخذه أليم شديد
جامع الترمذي
3110
الله تبارك و يملي وربما قال يمهل للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة
سنن ابن ماجه
4018
الله يملي للظالم فإذا أخذه لم يفلته ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4686 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4686
حدیث حاشیہ:

اس حدیث اور مذکورہ آیت سے اللہ تعالیٰ کی سنت کا پتی چلتا ہے کہ وہ اہل ظلم کا ضرورمؤاخذہ کرتا ہے۔
اس سلسلے میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ہوتا۔
لہٰذا ظلم پیشہ لوگوں کو اپنے انجام سے ڈرتے رہنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ظلم پیشہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
"اور تم لوگ ان کی طرف مت جھکو جو ظلم کرنے والے ہیں ورنہ جہنم کی آگ تمھیں پکڑے گی۔
پھر اللہ کے علاوہ تمھارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا اور نہ تمھاری مدد کی جائے گی۔
" (ھود: 11۔
113)

یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر قسم کے ظالموں کو شامل ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا فاسق و فاجر، بہر حال ظلم کا انجام اچھا نہیں ہو تا۔
اس سے عقل مند انسان کو اجتناب کرنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4686]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4018
سزاؤں کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے (سورة الهود: 102)، کی تلاوت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4018]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مجرم کو اگر اللہ کی طرف سے فوری سزا نہ ملے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چھوٹ گیا ہے بلکہ اللہ تعالی ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے۔
پھر اچانک پکڑلیتا ہے۔

(2)
مجرموں کو مہلت دینے میں اللہ کی صفت رحمت کا اظہار ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر ہدایت قبول کرلیں اور اس طرح وہ عذاب سے بچ کر انعام کے مستحق بن جائیں۔

(3)
اللہ کے عذاب سے کوئی نبی اور ولی نہیں بچاسکتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4018]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3110
سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے (ہود: ۱۰۲)، تلاوت فرمائی۔ (راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3110]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت،
دردناک ہوتی ہے (ہود: 102)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3110]