سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ومن سورة هود
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُمْلِي، وَرُبَّمَا قَالَ: يُمْهِلُ، لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ سورة هود آية 102 الْآيَةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ نَحْوَهُ، وَقَالَ: يُمْلِي.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں“، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ”ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے“ (ہود: ۱۰۲)، تلاوت فرمائی۔ (راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- ابواسامہ نے بھی اسے برید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور «یُملی» کا لفظ استعمال کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3110]
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- ابواسامہ نے بھی اسے برید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور «یُملی» کا لفظ استعمال کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر ھود 4 (4686)، صحیح مسلم/البر والصلة 15 (2583)، سنن ابن ماجہ/الفتن 22 (4018) (تحفة الأشراف: 9037) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4686
| الله ليملي للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته قال ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة إن أخذه أليم شديد |
صحيح مسلم |
6581
| الله يملي للظالم فإذا أخذه لم يفلته ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة إن أخذه أليم شديد |
جامع الترمذي |
3110
| الله تبارك و يملي وربما قال يمهل للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة |
سنن ابن ماجه |
4018
| الله يملي للظالم فإذا أخذه لم يفلته ثم قرأ وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3110 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3110
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت،
دردناک ہوتی ہے (ہود: 102)
وضاحت:
1؎:
ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت،
دردناک ہوتی ہے (ہود: 102)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3110]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4018
سزاؤں کا بیان۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ”تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے“ (سورة الهود: 102)، کی تلاوت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4018]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ”تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے“ (سورة الهود: 102)، کی تلاوت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4018]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مجرم کو اگر اللہ کی طرف سے فوری سزا نہ ملے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چھوٹ گیا ہے بلکہ اللہ تعالی ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے۔
پھر اچانک پکڑلیتا ہے۔
(2)
مجرموں کو مہلت دینے میں اللہ کی صفت رحمت کا اظہار ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر ہدایت قبول کرلیں اور اس طرح وہ عذاب سے بچ کر انعام کے مستحق بن جائیں۔
(3)
اللہ کے عذاب سے کوئی نبی اور ولی نہیں بچاسکتا۔
فوائد و مسائل:
(1)
مجرم کو اگر اللہ کی طرف سے فوری سزا نہ ملے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چھوٹ گیا ہے بلکہ اللہ تعالی ایک خاص وقت تک مہلت دیتا ہے۔
پھر اچانک پکڑلیتا ہے۔
(2)
مجرموں کو مہلت دینے میں اللہ کی صفت رحمت کا اظہار ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر ہدایت قبول کرلیں اور اس طرح وہ عذاب سے بچ کر انعام کے مستحق بن جائیں۔
(3)
اللہ کے عذاب سے کوئی نبی اور ولی نہیں بچاسکتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4018]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4686
4686. حضرت ابو موسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالٰی ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ لیتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "اور اسی طرح جب بھی آپ کا رب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے۔ بلاشبہ اس کی گرفت بہت تکلیف دہ اور سخت ہوتی ہے۔" [صحيح بخاري، حديث نمبر:4686]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث اور مذکورہ آیت سے اللہ تعالیٰ کی سنت کا پتی چلتا ہے کہ وہ اہل ظلم کا ضرورمؤاخذہ کرتا ہے۔
اس سلسلے میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ہوتا۔
لہٰذا ظلم پیشہ لوگوں کو اپنے انجام سے ڈرتے رہنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ظلم پیشہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
"اور تم لوگ ان کی طرف مت جھکو جو ظلم کرنے والے ہیں ورنہ جہنم کی آگ تمھیں پکڑے گی۔
پھر اللہ کے علاوہ تمھارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا اور نہ تمھاری مدد کی جائے گی۔
" (ھود: 11۔
113)
2۔
یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر قسم کے ظالموں کو شامل ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا فاسق و فاجر، بہر حال ظلم کا انجام اچھا نہیں ہو تا۔
اس سے عقل مند انسان کو اجتناب کرنا چاہیے۔
1۔
اس حدیث اور مذکورہ آیت سے اللہ تعالیٰ کی سنت کا پتی چلتا ہے کہ وہ اہل ظلم کا ضرورمؤاخذہ کرتا ہے۔
اس سلسلے میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ہوتا۔
لہٰذا ظلم پیشہ لوگوں کو اپنے انجام سے ڈرتے رہنا چاہیے اور دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ظلم پیشہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
"اور تم لوگ ان کی طرف مت جھکو جو ظلم کرنے والے ہیں ورنہ جہنم کی آگ تمھیں پکڑے گی۔
پھر اللہ کے علاوہ تمھارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا اور نہ تمھاری مدد کی جائے گی۔
" (ھود: 11۔
113)
2۔
یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ہر قسم کے ظالموں کو شامل ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا فاسق و فاجر، بہر حال ظلم کا انجام اچھا نہیں ہو تا۔
اس سے عقل مند انسان کو اجتناب کرنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4686]
حدیث نمبر: 3110M
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: يُمْلِي وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ.
ابوموسیٰ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی اور اس میں «یُملی» کا لفظ کسی شک کے بغیر کہا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3110M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري