🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ:
باب: حشر کی کیفیت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6522
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وهيب، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ، وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا".
ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے والد طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا (ایک فرقہ والے) لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے۔ (دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی (اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہو گا) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6522]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہوگا: ایک یہ کہ لوگ رغبت کرنے اور ڈرنے والے ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے، کسی پر تین ہوں گے، کسی پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور تیسرا یہ کہ باقی ماندہ لوگوں کو آگ جمع کرے گی۔ جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی، جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ہوگی، جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ہوگی، نیز جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہوگی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6522]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام فاضل
👤←👥عبد الله بن طاوس اليماني، أبو محمد
Newعبد الله بن طاوس اليماني ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← عبد الله بن طاوس اليماني
ثقة ثبت
👤←👥المعلى بن أسد العمي، أبو الهيثم
Newالمعلى بن أسد العمي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6522
يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين راهبين اثنان على بعير وثلاثة على بعير وأربعة على بعير وعشرة على بعير يحشر بقيتهم النار تقيل معهم حيث قالوا وتبيت معهم حيث باتوا وتصبح معهم حيث أصبحوا وتمسي معهم حيث أمسوا
صحيح مسلم
7202
يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين راهبين اثنان على بعير وثلاثة على بعير وأربعة على بعير وعشرة على بعير تحشر بقيتهم النار تبيت معهم حيث باتوا وتقيل معهم حيث قالوا وتصبح معهم حيث أصبحوا وتمسي معهم حيث أمسوا
سنن النسائى الصغرى
2087
يحشر الناس يوم القيامة على ثلاث طرائق راغبين راهبين اثنان على بعير وثلاثة على بعير وأربعة على بعير وعشرة على بعير تحشر بقيتهم النار تقيل معهم حيث قالوا وتبيت معهم حيث باتوا وتصبح معهم حيث أصبحوا وتمسي معهم حيث أمسوا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6522 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6522
حدیث حاشیہ:
علمائے اسلام نے اس آگ سے مراد کئی ناری واقعات کو لیا ہے۔
باقی اصل حقیقت اللہ کو ہی معلوم ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6522]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6522
حدیث حاشیہ:
میدان محشر میں جمع کیے جانے والے لوگ تین قسموں پر مشتمل ہوں گے جیسا کہ حدیث میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے اور یہ حشر قیامت سے پہلے دنیا کے آخر میں ہو گا کیونکہ آئندہ حدیث میں وضاحت ہے کہ تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم، پیدل چلتے ہوئے اور بے ساختہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، نیز یہ بھی وضاحت ہے کہ کافر اس دن منہ کے بل چلیں گے۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ حشر قیامت سے تھوڑا سا پہلے ہو گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6522]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2087
موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2087]
اردو حاشہ:
(1) قیامت کے دن ظاہر روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حشر قیامت کے دن نہیں بلکہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ بہت سے محدثین نے اس قسم کی روایات کو علامات قیامت میں ذکر کیا ہے کیونکہ اس میں اونٹوں، دوپہر، رات، صبح اور شام کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے یہ چیزیں دنیا میں ہیں نہ کہ قیامت کے روز۔ اگرچہ بعض اہل علم نے اسے قیامت ہی کے دن پر محمول کیا ہے مگر اس میں بہت تکلف ہے۔ قیامت کے دن سے مراد قرب قیامت بھی ہوسکتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
(2) تین حالتوں میں یعنی کچھ خالص نیک، کچھ ملے جلے کاموں والے، کچھ خالص کافر۔ یا حشر کی تین حالتیں مراد ہیں: کچھ لوگ تو وقت ہی پر رغبت اور رہبت کے زیر اثر اپنے آپ محشر میں پہنچ جائیں گے۔ کچھ لوگ تنگ وقت میں بھاگیں گے جب سواریوں کی کمی ہوگی، پھر دو دو، تین تین، چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اونٹ پر سوار ہوکر بڑی تنگی کے ساتھ پہنچیں گے۔ کچھ لوگ آگ کے ساتھ زبردستی اکٹھے کیے جائیں گے۔
(3) یہ آگ قیامت سے قبل عدن کے ساحل سے نکلے گی۔ (صحیح مسلم، باب في الآیات التي تكون قبل الساعة، حدیث: 2901) بعض لوگوں نے اس آگ سے حقیقی آگ کے بجائے فتنہ مراد لیا ہے اور مجازاً فتنے کو بھی آگ کہہ لیا جاتا ہے لیکن پہلی بات ہی درست ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2087]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7202
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لوگوں کا حشر تین گروہوں یا تین جماعتوں کی شکل میں ہو گا، ایک قسم، رغبت رکھنے والے (اللہ کی رحمت کی)ڈرنے والے (اپنے گناہوں کے مواخذہ سے) دوسری قسم، دو ایک اونٹ پر تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر حتی کہ دس ایک اونٹ پر، تیسری قسم، باقی لوگ جن کو آگ جمع کرے گی، جہاں وہ رات بسر کریں گے،وہ بھی ان کے ساتھ رات گزارے فی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، وہیں وہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7202]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے مراد،
لوگوں کا قیامت کے قریب آگ کے ڈر سے محفوظ جگہ کی طرف جاناہے،
یہ آگ قعر عدن سے نکلے گی،
لوگ اس سے بچنے کے لیے،
محفوظ جگہوں کی طرف بھاگیں گے،
خوش حال اور آسودہ لوگ اچھے زاد راہ اور سواریوں کے ساتھ،
محفوظ جگہ کی رغبت رکھتے ہوئے اور اپنی جگہ رہنے سے ڈر کر نکلیں گے،
دوسرا گروہ سواریوں کی قلت کی بنا پر،
دو،
دو،
تین،
تین،
حتی کہ،
دس ساتھی مل کر ایک اونٹ پر باری باری سوار ہو کر چل پڑیں گے،
تیسرے گروہ کو کوئی سواری نہ مل سکے گی،
وہ پیدل بھاگ کھڑے ہوں گے،
آگ ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی،
ہر وقت،
ہر جگہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7202]

Sahih Bukhari Hadith 6522 in Urdu