🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب كيف الحشر:
باب: حشر کی کیفیت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6523
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؟ قَالَ:" أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ قَتَادَةُ: بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا، کہا ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے کہا، اے اللہ کے نبی! قیامت میں کافروں کو ان کے چہرے کے بل کس طرح حشر کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے انہیں دنیا میں دو پاؤں پر چلایا اسے اس پر قدرت نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں چہرے کے بل چلا دے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ضرور ہے، ہمارے رب کی عزت کی قسم، بیشک وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6523]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کافر کا چہرے کے بل کیسے حشر کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ ذات جس نے اسے دنیا میں دونوں پاؤں پر چلایا ہے، اسے اس بات پر قدرت نہیں کہ اسے قیامت کے دن چہرے کے بل چلا دے؟ (راویِ حدیث) قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: کیوں نہیں، ہمارے رب کی عزت و آبرو کی قسم! وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6523]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد
Newيونس بن محمد المؤدب ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← يونس بن محمد المؤدب
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6523
الذي أمشاه على الرجلين في الدنيا قادرا على أن يمشيه على وجهه يوم القيامة
صحيح البخاري
4760
الذي أمشاه على الرجلين في الدنيا قادرا على أن يمشيه على وجهه يوم القيامة
صحيح مسلم
7087
الذي أمشاه على رجليه في الدنيا قادرا على أن يمشيه على وجهه يوم القيامة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6523 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6523
حدیث حاشیہ:
(1)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قیامت کے دن ہم ان (کافروں)
کو اوندھے منہ، گونگے اور بہرے بنا کر اٹھائیں گے۔
ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
(بني إسرائیل: 97/17)
اس آیت کے پیش نظر صحابی نے سوال کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔
(2)
بہرحال قانون جزا و سزا اور اعمال انسان میں مماثلت پائی جاتی ہے، جیسے کوئی شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کو بھولا رہا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے بھلا دے گا، جس نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آنکھیں بند کر لیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اندھا کر کے اٹھائے گا۔
اسی طرح کافر جب دنیا میں اللہ کو سجدہ نہیں کرتا تھا تو اس کی ذلت و رسوائی کو ظاہر کرنے کے لیے قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلایا جائے گا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حکمت کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 465/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6523]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7087
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے پوچھا،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے دن کافر کو اس کے چہرے کے بل کیسے اٹھایا جائے گا؟آپ نے فرمایا:" کیا جس نے اسے دنیا میں اس کے دونوں پاؤں پر چلایا ہے، وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ اسے قیامت کے دن، اس کے چہرے کے بل چلادے۔"قتادہ نے کہا کیوں نہیں ہمارے رب کی عزت و قدرت کی قسم۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7087]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
احوال قیامت کو دنیا کے حالات پر قیاس کرنے کے نتیجہ میں اور قدرت الٰہی سے صرف نظر کرنے کی بنا پر بہت سی باتوں کو عجیب خیال کیا جاتا ہے،
حالانکہ آخرت کے حالات کو دنیا پر قیاس کرنا درست نہیں ہے،
جس طرح دنیا کی زندگی کو ماں کے پیٹ والی زندگی پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے،
اسی طرح الٰہی قدرت کو نظر انداز کر کے کسی چیز کو سمجھنے کی کوشش کرنا اشکال و اعتراض کا باعث ہے،
اگر قدرت الٰہی پر نظر ہو تو کسی قسم کا اشکال یا شک و شبہ پیدا نہیں ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7087]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4760
4760. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4760]
حدیث حاشیہ:
قیامت کے دن ایک منظر یہ بھی ہوگا کہ کفار ومشرکین منہ کے بل چلائے جائیں گے جس سے ان کی انتہائی ذلت وخواری ہوگی۔
اللھم لا تجعلنا منھم آمین!
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4760]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4760
4760. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4760]
حدیث حاشیہ:

وہ کافر جو دنیا میں اللہ کے حضور جھکتے نہیں تھے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ذلیل و خوار کرنے کے لیے اوندھے منہ چلنے پر مجبور کردے گا۔
دنیا میں جس طرح انسان اپنے پاؤں کے ذریعے سے راستے کی اذیت سے بچتا ہے قیامت کے دن وہ منہ کے ذریعے سے بچنے کی کوشش کرے گا۔
(فتح الباري: 465/11)

قرآن کریم میں صراط مستقیم سے ہٹ کر دوسرا راستہ اختیار کرنا اس کے لیے ان الفاظ کو بطور تمثیل بھی بیان کیا گیا ہےجیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
کیا وہ شخص زیادہ ہدایت والا ہے جو اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چلتا ہے یا وہ جو سیدھا راہ راست پر چلتا ہے۔
(الملك: 22)
منہ کے بل اوندھا چلنے والے کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں ہی سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟ یقیناً نہیں پہنچ سکتا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4760]

Sahih Bukhari Hadith 6523 in Urdu