🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. باب القراءة فى المغرب:
باب: نماز مغرب میں قرآت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ" وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، وَاللَّهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ام فضل رضی اللہ عنہا (ان کی ماں) نے انہیں «والمرسلات عرفا» پڑھتے ہوئے سنا۔ پھر کہا کہ اے بیٹے! تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلایا۔ میں آخر عمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 763]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ان کی والدہ) ام الفضل رضی اللہ عنہا نے انہیں سورہ ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾ [سورة المرسلات: 1] پڑھتے سنا تو کہنے لگیں: میرے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد دلا دیا کہ یہی وہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت نماز مغرب میں پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥لبابة بنت الحارث الهلالية، أم الفضلصحابية
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← لبابة بنت الحارث الهلالية
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4429
يقرأ في المغرب ب والمرسلات عرفا
صحيح البخاري
763
يقرأ والمرسلات عرفا فقالت يا بني والله لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله يقرأ بها في المغرب
صحيح مسلم
1033
يقرأ والمرسلات عرفا فقالت يا بني لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله يقرأ بها في المغرب
جامع الترمذي
308
صلى المغرب فقرأ ب المرسلات
سنن أبي داود
810
يقرأ والمرسلات عرفا فقالت يا بني لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله يقرأ بها في المغرب
سنن النسائى الصغرى
987
يقرأ في المغرب بالمرسلات
سنن ابن ماجه
831
يقرأ في المغرب ب والمرسلات عرفا
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
139
يقرا بها فى المغرب.
مسندالحميدي
340
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 763 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:763
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں حضرت ام الفضل ؓ نے صراحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آخری نماز پڑھائی تھی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کرلیا تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4429)
جبکہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض وفات میں آخری نماز ظہر کی پڑھائی تھی۔
جیسا کہ صحیح بخاری (حدیث: 687)
میں ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس تعارض کو اس طرح دور فرمایا ہے کہ حضرت ام الفضل نے جس نماز مغرب کا ذکر کیا ہے وہ آپ نے اپنے گھر میں پڑھی تھی۔
جیسا کہ سنن نسائی میں ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 986)
اور حضرت عائشہ ؓ نے جس نماز ظہر کا بیان کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پڑھائی تھی۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے لیکن جامع ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اس حالت میں نکلے کہ آپ نے بیماری کی وجہ سے اپنے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی، پھر آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 308)
اس روایت کی توجیہ اس طرح ممکن ہے کہ آپ جہاں آرام فرما تھے وہاں سے نماز کے لیے باہر تشریف لائے، یعنی اپنے کمرے سے باہر صحن میں تشریف لائے۔
اس طرح تمام روایات میں تطبیق ہوسکتی ہے اور ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں رہتا۔
(فتح الباري: 319/2)
(2)
مغرب کی نماز کا وقت چونکہ مختصر ہے، اس لیے بالعموم چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھی جاتی ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار کوئی بڑی سورت بھی پڑھ لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے ایک دفعہ مغرب میں سورۂ"والطور" پڑھی تھی۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 988)
ایک روایت میں سورۂ الدخان پڑھنے کا ذکر بھی ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 989)
یہ بھی مسنون طریقہ ہے۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 763]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 139
نماز مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھنا
... سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ (ان کی والدہ) ام الفضل (لبابہ) بنت الحارث نے انہیں (نماز میں سورة المرسلات) «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: اے میرے بیٹے! تم نے اس قرأت کے ساتھ مجھے یاد دلا دیا ہے کہ یہ وہ سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آخر میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں اس کی قرأت کر رہے تھے ... [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 139]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 763، ومسلم 462، من حديث ما لك به]

تفقه:
➊ آیت کریمہ «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» اور دیگر دلائل کی رو سے نماز میں فاتحہ کے علاوہ دوسری قرأت کا تعین و توقيت وجوباً ثابت نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہےکہ مسنون قرأت کا التزام کیا جائے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز مغرب میں درج ذیل سورتوں کا پڑھنا بھی ثابت ہے:
◈ سورة الطور [صحيح بخاري: 765، وصحيح مسلم: 463، الاتحاف الباسم: 69]
◈ سورة الاعراف دو رکعتوں میں [سنن النسائي 170/2 ح 992 وسنده صحيح]
◈ قصار المفصل والی سورتیں يعني سورة البینة سے لے کر آخر تک [سنن النسائي: 167/2 ح 983 وسنده حسن و صححه ابن خزيمة: 520 وابن حبان، الا حسان: 1837]
➌ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما انفرادی نماز کی چاروں رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ اور قرآن کی ایک سورت پڑھتے تھے۔ [موطأ الامام مالك79/1 ح 171، وسنده صحيح]
➍ مزید فوائد کے لئے دیکھئے: [الموطأ حديث: 69، البخاري 765، ومسلم 463]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 49]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 987
مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 987]
987 ۔ اردو حاشیہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہما ہی ہیں جو پہلی حدیث کی بھی راویہ ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 987]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 308
مغرب کی قرأت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے: ان کی ماں ام الفضل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، مغرب پڑھائی تو سورۂ مرسلات پڑھی، پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 308]
اردو حاشہ:
1؎:
صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ((إِنَّ آخِرَ صَلَاةِِ صَلاَّهَا النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي مَرَضِ مَوتِهِ الظُّهْرَ)) بظاہران دونوں روایتوں میں تعارض ہے،
تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جو نماز آپ نے مسجد میں پڑھی اس میں سب سے آخری نماز ظہرکی تھی،
اور آپ نے جو نمازیں گھر میں پڑھیں ان میں آخری نماز مغرب تھی،
لیکن اس توجیہ پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ام الفضل کی روایت میں ہے ((خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے آپ سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے جس سے لگتا ہے کہ یہ نماز بھی آپ نے مسجد میں پڑھی تھی،
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں نکلنے سے مراد مسجد میں جانا نہیں ہے بلکہ جس جگہ آپ سوئے ہوئے تھے وہاں سے اٹھ کر گھر والوں کے پاس آنا مراد ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 308]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4429
4429. حضرت ام فضل بنت حارث ؓ سےروایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا پڑھتے ہوئے سنا۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں کوئی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو فوت کر لیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4429]
حدیث حاشیہ:

اُم فضل ؓ حضرت ابن عباسؓ کی والدہ ہیں حضرت ام المومنین سیدہ میمونہ ؓ کی حقیقی بہن ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ان کی زیارت کے لیے ان کے گھر تشریف لے جاتے اور وہیں قلیولہ فرماتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دنوں میں یہ اکثر اوقات اپنی بہن کے گھر ٹھہری رہیں۔
ایک دن حضرت ابن عباس ؓ نے سورہ مرسلات تلاوت کی تو انھوں نے فرمایا:
بیٹے اللہ کی قسم!اس سورت کی تلاوت سے تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت یاد کرا دی ہے۔
آپ نے ایک دفعہ نماز مغرب میں اس سورت کو تلاوت کیا تھا۔
اس کے بعد ہم آپ کی تلاوت نہ سن سکے۔
یہ آپ کی آخری تلاوت تھی۔
اس کے بعد اللہ کی طرف سے پیغام رحلت آگیا۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 763)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4429]

Sahih Bukhari Hadith 763 in Urdu