🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب استحباب صلاة النافلة في بيته وجوازها في المسجد:
باب: نفل نماز کا گھر میں مستحب اور مسجد میں جائز ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 778 ترقیم شاملہ: -- 1822
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی مسجد میں نماز (باجماعت) ادا کر لے تو اپنی نماز میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے کیونکہ اللہ اس کے گھر میں اس کے نماز پڑھنے کی وجہ سے خیر و بھلائی رکھے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1822]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا: جب تم میں سے کو ئی اپنی مسجد کی نماز پوری کر لے، تو اپنی نماز سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے، کیونکہ اس کی اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے اللہ ا س کے گھر میں خیروبھلا ئی پیدا کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1822]
ترقیم فوادعبدالباقی: 778
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان
Newطلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← طلحة بن نافع القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1822
إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا
سنن ابن ماجه
1376
إذا قضى أحدكم صلاته فليجعل لبيته منها نصيبا فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1822 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1822
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
فرض نماز مسجد کا حصہ ہے اور نفل ونوافل اور سنن گھر کا حصہ ہیں،
جو انسان کے گھر میں خیروبرکت اور بھلائی کا باعث بنتے ہیں۔
انسان کے اہل وعیال اس کو دیکھ کر نماز پڑھتے اور سیکھتے ہیں،
اللہ کی رحمت اور اس کے فرشتوں کے نزول سے شیطان اور اس کی ذریت وہاں سے بھاگتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1822]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1376
گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی نماز ادا کر لے تو اس میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا کرنے والا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1376]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مردوں کے لئے فرض نماز مسجد میں ادا کرنا ضروری ہے۔

(2)
نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
فرض نمازوں کی سنتیں بھی نوافل میں شامل ہیں۔

(3)
نفل نماز مسجد میں ادا کرنا بھی جائز ہے۔

(4)
گھر میں نفل نماز ادا کرنا گھر میں خیروبرکت کا باعث ہے۔

(5)
عورتیں مسجد میں نمازیں ادا کرسکتی ہیں۔
تاہم ان کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
اگر وہ جماعت کا ثواب حاصل کرنا چاہیں تو گھر کی عورتیں مل کر باجماعت نماز ادا کرسکتی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1376]