صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب إطلاق اسم الكفر على الطعن في النسب والنياحة على الميت:
باب: نسب میں طعن کرنے والے اور میت پر نوحہ کرنے والے پر کفر کا اطلاق۔
ترقیم عبدالباقی: 67 ترقیم شاملہ: -- 227
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ، الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں دو باتیں ہیں، وہ دونوں ان میں کفر (کی بقیہ عادتیں) ہیں: (کسی کے) نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 227]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی دو باتیں ان میں کفر کی ہیں، نسب میں طعن کرنا اور میّت پر نوحہ کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 227]
ترقیم فوادعبدالباقی: 67
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12458)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
227
| اثنتان في الناس هما بهم كفر الطعن في النسب والنياحة على الميت |
جامع الترمذي |
1001
| أربع في أمتي من أمر الجاهلية لن يدعهن الناس النياحة والطعن في الأحساب والعدوى أجرب بعير فأجرب مائة بعير من أجرب البعير الأول والأنواء مطرنا بنوء كذا وكذا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 227 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 227
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
جاہلیت کے دور میں لوگ حسب ونسب پر فخر کرتے تھے اور دوسروں کے حسب ونسب پر طعن وتشنیع کرتے تھے،
کیونکہ ان کے نزدیک تفوق وبرتری کا انحصار تقوی اور اعمال صالحہ پر نہیں تھا،
لیکن اسلام کی رو سے عزت وشرافت کا مدار تقوی اور دینداری پر ہے،
قیامت کے دن،
ایمان اور اعمال کے بغیر ذات اور نسب کچھ کام نہ دیں گے۔
لیکن مسلمانوں میں ابھی یہ ذہنیت موجود چلی آرہی ہے جو کافرانہ حرکت ہے،
جس سے بچنا لازم ہے۔
(2)
میت پر چیخنا اور واویلا کرنا بھی جاہلیت کا شعار ہے،
وہ اس کام میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے اور عورتیں نوحہ کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں،
اور مسلمانوں میں یہ رسم دور جاہلیت کی یادگار کے طو ر پرچلی آرہی ہےجس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
جاہلیت کے دور میں لوگ حسب ونسب پر فخر کرتے تھے اور دوسروں کے حسب ونسب پر طعن وتشنیع کرتے تھے،
کیونکہ ان کے نزدیک تفوق وبرتری کا انحصار تقوی اور اعمال صالحہ پر نہیں تھا،
لیکن اسلام کی رو سے عزت وشرافت کا مدار تقوی اور دینداری پر ہے،
قیامت کے دن،
ایمان اور اعمال کے بغیر ذات اور نسب کچھ کام نہ دیں گے۔
لیکن مسلمانوں میں ابھی یہ ذہنیت موجود چلی آرہی ہے جو کافرانہ حرکت ہے،
جس سے بچنا لازم ہے۔
(2)
میت پر چیخنا اور واویلا کرنا بھی جاہلیت کا شعار ہے،
وہ اس کام میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے اور عورتیں نوحہ کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں،
اور مسلمانوں میں یہ رسم دور جاہلیت کی یادگار کے طو ر پرچلی آرہی ہےجس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 227]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي