صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها:
باب: پاک کمائی سے صدقہ کا قبول ہونا اور اس کا پرورش پانا۔
ترقیم عبدالباقی: 1015 ترقیم شاملہ: -- 2346
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا، اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» اے پیغمبران کرام! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو، جو عمل تم کرتے ہو، میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ» اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، اس میں سے کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے۔ (دعا کے لیے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے، اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2346]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! «إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا» ”اللہ تعالیٰ پاک ہے (ہر نقص و کمزوری سے) اور پاک مال ہی قبول فرماتا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس بات کا حکم دیا ہے جس بات کا حکم رسولوں کو دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ [سورة المؤمنون: 51] ”اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور صحیح و درست کام کرو (نیک کام کرو)، جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے آگاہ ہوں (جانتا ہوں)۔“ اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ [سورة البقرة: 172] ”اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمھیں عنایت فرمایا ہے اس سے کھاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کا تذکرہ فرمایا جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال، غبار آلود، آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے): «يَا رَبِّ، يَا رَبِّ» ”اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کو غذا حرام کی دی گئی، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو گی؟“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1015
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2346
| الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال يأيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم |
جامع الترمذي |
2989
| الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال يأيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2346 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2346
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فلُوَّ:
بچھیرا،
گھوڑے کا بچہ۔
(2)
فصيل:
ٹوڈا،
اونٹ کا بچہ۔
(3)
قلوص:
نوجوان اونٹ۔
(4)
اشعث:
پراگندہ بال۔
(5)
اغبر:
غبار آلود جسم۔
(6)
غذي:
پالا پوسا گیا۔
فوائد ومسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ ہر عیب و نقص اور کمزوری سے پاک صاف ہے اس لیے پاک صاف چیز کو قبول فرماتا ہے۔
ناجائز اور حرام مال اس کے ہاں شرف قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔
اس لیے ناپاک اور حرام مال صدقہ کرنا اپنے آپ سے دھوکا اور فراڈ ہےکیونکہ اللہ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیرو کاروں کو پاک مال کھانے اور اچھے عمل کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ پاک رزق کھانے سے ہی نیک عمل کی تعریفیں ملتی ہے (اور صدقہ بھی نیک کام ہے اور اسے وہی کر سکتا ہے جس کا مال حلال اور پاک ہو گا۔
) (2)
اللہ تعالیٰ بے نیاز اور غنی ہے وہ صدقات و خیرات کا محتاج نہیں ہے۔
وہ انسان کی بھلائی اور بہتری کے لیے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ قیامت کے دن ایک کھجور بھی جو اخلاص اور نیک نیتی سے صحیح اور برمحل پاک مال سے صرف کی گئی ہے ایک پہاڑ کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑھ کرانسان کے لیے نفع رساں ہو۔
(3)
جس طرح ناپاک اور حرام مال اللہ کے ہاں قبول نہیں ہے اسی طرح ناپاک بندہ جس کو حرام مال سے پالا پوسا گیا اور وہ حرام مال بھی کھاتا پیتا اور پہنتا ہے اللہ کے ہاں بار یابی کا شرف حاصل نہیں کر سکتا۔
اور ایسا انسان اپنی دعا کی قبولیت کی امید نہیں رکھ سکتا قبولیت دعا کے لیے کمائی کا پاک اور جائز ہونا بنیادی شرط ہے استدراج (ڈھیل کی مصلحت)
کے طور پر بظاہر اگر کسی کی دعا قبول کر لی جاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے جس کا مداراس کی حکمت پر ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
فلُوَّ:
بچھیرا،
گھوڑے کا بچہ۔
(2)
فصيل:
ٹوڈا،
اونٹ کا بچہ۔
(3)
قلوص:
نوجوان اونٹ۔
(4)
اشعث:
پراگندہ بال۔
(5)
اغبر:
غبار آلود جسم۔
(6)
غذي:
پالا پوسا گیا۔
فوائد ومسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ ہر عیب و نقص اور کمزوری سے پاک صاف ہے اس لیے پاک صاف چیز کو قبول فرماتا ہے۔
ناجائز اور حرام مال اس کے ہاں شرف قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔
اس لیے ناپاک اور حرام مال صدقہ کرنا اپنے آپ سے دھوکا اور فراڈ ہےکیونکہ اللہ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیرو کاروں کو پاک مال کھانے اور اچھے عمل کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ پاک رزق کھانے سے ہی نیک عمل کی تعریفیں ملتی ہے (اور صدقہ بھی نیک کام ہے اور اسے وہی کر سکتا ہے جس کا مال حلال اور پاک ہو گا۔
) (2)
اللہ تعالیٰ بے نیاز اور غنی ہے وہ صدقات و خیرات کا محتاج نہیں ہے۔
وہ انسان کی بھلائی اور بہتری کے لیے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ قیامت کے دن ایک کھجور بھی جو اخلاص اور نیک نیتی سے صحیح اور برمحل پاک مال سے صرف کی گئی ہے ایک پہاڑ کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑھ کرانسان کے لیے نفع رساں ہو۔
(3)
جس طرح ناپاک اور حرام مال اللہ کے ہاں قبول نہیں ہے اسی طرح ناپاک بندہ جس کو حرام مال سے پالا پوسا گیا اور وہ حرام مال بھی کھاتا پیتا اور پہنتا ہے اللہ کے ہاں بار یابی کا شرف حاصل نہیں کر سکتا۔
اور ایسا انسان اپنی دعا کی قبولیت کی امید نہیں رکھ سکتا قبولیت دعا کے لیے کمائی کا پاک اور جائز ہونا بنیادی شرط ہے استدراج (ڈھیل کی مصلحت)
کے طور پر بظاہر اگر کسی کی دعا قبول کر لی جاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے جس کا مداراس کی حکمت پر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2346]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2989
سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» ۱؎ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم» ۲؎ (پھر) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے (میرے رب! اے میرے رب!) ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2989]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» ۱؎ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم» ۲؎ (پھر) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے (میرے رب! اے میرے رب!) ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2989]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے رسولو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو،
تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں (المومنون: 51)
2؎:
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ،
پیو (البقرۃ: 172)
3؎:
معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت کے لیے جہاں بہت ساری شرطیں ہیں،
انہی میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان کا ذریعہ معاش حلال ہو،
کھانے،
پینے،
پہننے اور اوڑھنے سے متعلق جو بھی چیزیں ہیں وہ سب حلال طریقے سے حاصل کی جا رہی ہوں جبھی دعا کے قبول ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔
وضاحت:
1؎:
اے رسولو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو،
تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں (المومنون: 51)
2؎:
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ،
پیو (البقرۃ: 172)
3؎:
معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت کے لیے جہاں بہت ساری شرطیں ہیں،
انہی میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان کا ذریعہ معاش حلال ہو،
کھانے،
پینے،
پہننے اور اوڑھنے سے متعلق جو بھی چیزیں ہیں وہ سب حلال طریقے سے حاصل کی جا رہی ہوں جبھی دعا کے قبول ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2989]
Sahih Muslim Hadith 2346 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي