🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ومن سورة البقرة
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2989
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، قَالَ: وَذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» ۱؎ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم» ۲؎ (پھر) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے (میرے رب! اے میرے رب!) اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے۔ پھر اس کی دعا کیوں کر قبول ہو گی ۳؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 20 (1015) (تحفة الأشراف: 13413)، و مسند احمد (2/328)، وسنن الدارمی/الرقاق 9 (2759) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اے رسولو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں (المومنون: ۵۱)۔
۲؎: اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو (البقرہ: ۱۷۲)۔
۳؎: معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت کے لیے جہاں بہت ساری شرطیں ہیں، انہی میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان کا ذریعہ معاش حلال ہو، کھانے، پینے، پہننے اور اوڑھنے سے متعلق جو بھی چیزیں ہیں وہ سب حلال طریقے سے حاصل کی جاری ہوں جبھی دعا کے قبول ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن غاية المرام (17)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري
Newعدي بن ثابت الأنصاري ← سلمان مولى عزة
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥الفضيل بن مرزوق الأغر، أبو عبد الرحمن
Newالفضيل بن مرزوق الأغر ← عدي بن ثابت الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← الفضيل بن مرزوق الأغر
ثقة ثبت
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← الفضل بن دكين الملائي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2346
الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال يأيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم
جامع الترمذي
2989
الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال يأيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2989 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2989
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے رسولو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو،
تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں (المومنون: 51)

2؎:
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ،
پیو (البقرۃ: 172)

3؎:
معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت کے لیے جہاں بہت ساری شرطیں ہیں،
انہی میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان کا ذریعہ معاش حلال ہو،
کھانے،
پینے،
پہننے اور اوڑھنے سے متعلق جو بھی چیزیں ہیں وہ سب حلال طریقے سے حاصل کی جا رہی ہوں جبھی دعا کے قبول ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2989]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2346
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے (ہر نقص و کمزوری سے) اور پاک مال ہی قبول فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس بات کا حکم دیا ہے جس بات کا حکم رسولوں کو دیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور صحیح و درست کام کرو۔ (نیک کام کرو) جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے آگا ہوں (جانتا ہوں)مومنون آیت 51 اور فرمایا: اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمھیں عنایت... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2346]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فلُوَّ:
بچھیرا،
گھوڑے کا بچہ۔
(2)
فصيل:
ٹوڈا،
اونٹ کا بچہ۔
(3)
قلوص:
نوجوان اونٹ۔
(4)
اشعث:
پراگندہ بال۔
(5)
اغبر:
غبار آلود جسم۔
(6)
غذي:
پالا پوسا گیا۔
فوائد ومسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ ہر عیب و نقص اور کمزوری سے پاک صاف ہے اس لیے پاک صاف چیز کو قبول فرماتا ہے۔
ناجائز اور حرام مال اس کے ہاں شرف قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔
اس لیے ناپاک اور حرام مال صدقہ کرنا اپنے آپ سے دھوکا اور فراڈ ہےکیونکہ اللہ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیرو کاروں کو پاک مال کھانے اور اچھے عمل کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ پاک رزق کھانے سے ہی نیک عمل کی تعریفیں ملتی ہے (اور صدقہ بھی نیک کام ہے اور اسے وہی کر سکتا ہے جس کا مال حلال اور پاک ہو گا۔
) (2)
اللہ تعالیٰ بے نیاز اور غنی ہے وہ صدقات و خیرات کا محتاج نہیں ہے۔
وہ انسان کی بھلائی اور بہتری کے لیے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ قیامت کے دن ایک کھجور بھی جو اخلاص اور نیک نیتی سے صحیح اور برمحل پاک مال سے صرف کی گئی ہے ایک پہاڑ کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑھ کرانسان کے لیے نفع رساں ہو۔
(3)
جس طرح ناپاک اور حرام مال اللہ کے ہاں قبول نہیں ہے اسی طرح ناپاک بندہ جس کو حرام مال سے پالا پوسا گیا اور وہ حرام مال بھی کھاتا پیتا اور پہنتا ہے اللہ کے ہاں بار یابی کا شرف حاصل نہیں کر سکتا۔
اور ایسا انسان اپنی دعا کی قبولیت کی امید نہیں رکھ سکتا قبولیت دعا کے لیے کمائی کا پاک اور جائز ہونا بنیادی شرط ہے استدراج (ڈھیل کی مصلحت)
کے طور پر بظاہر اگر کسی کی دعا قبول کر لی جاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے جس کا مداراس کی حکمت پر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2346]