علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب غلظ تحريم قتل الإنسان نفسه وإن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار وانه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة:
باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 111 ترقیم شاملہ: -- 305
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَى بِالإِسْلَامِ: هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّار، فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ آنِفًا: إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا، وَقَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَى النَّارِ، فَكَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ قِيلَ إِنَّهُ: لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ حنین میں شریک ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں، جسے مسلمان کہا جاتا تھا، فرمایا: ”یہ جہنمیوں میں سے ہے۔“ جب ہم لڑائی میں گئے تو اس آدمی نے بڑی زور دار جنگ لڑی جس کی وجہ سے اسے زخم لگ گئے اس پر آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی فرمایا تھا: ”وہ جہنمیوں میں سے ہے“ اس نے تو آج بڑی شدید جنگ لڑی ہے اور وہ مر چکا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کی طرف (جائے گا۔)“ بعض مسلمان آپ کے اس فرمان کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہونے لگے، (کہ ایسا جانثار کیسے دوزخی ہو سکتا ہے۔) لوگ اسی حالت میں تھے کہ بتایا گیا: وہ مرا نہیں ہے لیکن اسے شدید زخم لگے ہیں۔ جب رات پڑی تو وہ (اپنے) زخموں پر صبر نہ کر سکا، اس نے خودکشی کر لی۔ آپ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا: ”یقیناً اس جان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا جو اسلام پر ہے اور بلاشبہ اللہ برے لوگوں سے بھی اس دین کی تائید کراتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 305]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے دعویدار ایک شخص کے بارے میں فرمایا: ”یہ جہنمی ہے۔“ جب لڑائی شروع ہوئی تو اس آدمی نے بڑی زوردار جنگ لڑی، جس سے وہ زخمی ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آدمی جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی فرمایا تھا: ”وہ دوزخی ہے۔“ اس نے تو آج بڑی شدید جنگ لڑی ہے اور وہ مر چکا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کی طرف جائے گا۔“ تو قریب تھا کہ بعض مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں شک و شبہ میں پڑ جاتے (کہ ایسا جان نثار دوزخی ہوگا) اسی اثنا میں بتلایا گیا کہ وہ مرا نہیں ہے لیکن شدید زخمی ہے۔ جب رات پڑی تو وہ اپنے زخموں پر صبر نہ کر سکا اور خود کشی کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبریائی و عظمت کا مستحق اللہ ہے! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو اس نے لوگوں میں اعلان کیا: ”کہ مسلمان شخص ہی جنت میں داخل ہو سکے گا، اور اللہ اس دین کی تائید کا کام برے لوگوں سے بھی لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 305]
ترقیم فوادعبدالباقی: 111
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: ان الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر برقم (2897) وفي القدر، باب: العمل بالخواتيم برقم (6232) انظر ((التحفة)) برقم (13277)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد عبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله محمد بن رافع القشيري ← عبد بن حميد الكشي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6606
| لا يدخل الجنة إلا مؤمن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر |
صحيح البخاري |
3062
| لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر |
صحيح مسلم |
305
| لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر |
المعجم الصغير للطبراني |
811
| لا يدخل الجنة إلا مؤمن الله يؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر |
Sahih Muslim Hadith 305 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي