🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب بيان ان الإسلام بدا غريبا وسيعود غريبا وانه يارز بين المسجدين:
باب: اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور انتہاء میں بھی اجنبی ہو جائے گا اور دو مسجدوں میں سمٹ جائے گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 147 ترقیم شاملہ: -- 374
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ایمان مدینہ کی جانب یوں سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل کی جانب سمٹ آتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 374]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ میں لوٹ آئے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل کی طرف لوٹ آتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 374]
ترقیم فوادعبدالباقی: 147
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في فضائل المدينة، باب: الايمان يارز الی المدينة برقم (1876) وابن ماجه في ((سننه)) في المناسك، باب: فضل المدينة برقم (3111) انظر ((التحفة)) برقم (12266)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥حفص بن عاصم العدوي
Newحفص بن عاصم العدوي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو محمد، أبو الحارث
Newخبيب بن عبد الرحمن الأنصاري ← حفص بن عاصم العدوي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← خبيب بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1876
الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها
صحيح مسلم
374
الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها
سنن ابن ماجه
3111
الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها
مشكوة المصابيح
160
إن الإيمان ليارز إلى المدينة كما تارز الحيية إلى جحرها
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 374 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 374
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اسلام کا آغاز مکہ سے ہوا،
مدینہ سے پھیلا،
اس لیےاس کی پناہ گاہ مدینہ ہے،
اور آخری دور میں اسلام اپنی صحیح حالت میں صرف مدینہ میں ہوگا یا مکہ میں ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 374]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 160
ایمان مدینہ میں سمٹ جائے گا
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تأرز الحيية إِلَى جحرها» . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناًً ایمان سمٹ کر مدینہ کی طرف چلا آئے گا جس طرح سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ و بل میں آ جاتا ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور عنقریب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث «زروني ما تركتكم» کا ذکر کتاب المناسک میں آئے گا۔ اور سیدنا معاویہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی دو حدیثیں «لا يزال من امتي» اور «لا يزال باب ثواب هذه الامته» میں مذکور ہوں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 160]
تخریج الحدیث:
[صحيح بخاري 1876] ،
[صحيح مسلم 374]

فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ قیامت سے پہلے ایک دور ایسا بھی آئے گا جب ہر طرف گمراہی اور کفر کا دور دورہ ہو گا، لیکن مدینہ طیبہ اس فتنے سے محفوظ رہے گا۔
➋ قیامت تک ہر دور میں امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا۔
➌ تشبیہ کے لئے مشبہ بہ اور مشبہ کا ہر صفت میں ایک ہونا ضروری نہیں ہے۔
➍ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
➎ بعض علماء کے نزدیک مدینہ و مکہ دونوں شہر اور حجاز کا علاقہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ «والله اعلم»
➏ مومن کو ہر وقت اپنا ایمان بچانے کی فکر میں رہنا چاہئیے۔
➐ سانپ سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سانپ اگر اپنے سوراخ (بِل) میں داخل ہو جائے تو اس کے دشمن ناکام رہتے ہیں۔ اسی طرح دجال و کفار مدینہ طیبہ پر قبضے میں ناکام رہیں گے اور اللہ تعالیٰ اہلِ مدینہ کو اپنی حفاظت میں رکھے گا۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 160]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 1876
مدینہ منورہ کی فضیلت
«. . . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْمَدِينَةِ: 1876]
لغوی توضیح:
«لَيَارِزُ» سمٹ آنا، سکڑ آنا۔
«الْحَيَّة» سانپ۔
«جُحْر» بِل۔

فہم الحدیث:
اس حدیث میں مدینہ منورہ کی فضیلت کا بیان ہے۔ اس لیے مدینہ میں رہائش اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ فرمان نبوی کے مطابق مدینہ میں فوت ہونے والے کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سفارش فرمائیں گے۔ [صحيح: هداية الرواة 2681، ترمذي 3917]
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 89]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3111
مدینہ کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ میں اسی طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سما جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3111]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مدینے سے محبت کی وجہ سے مومن ہر دور میں اس کی زیارت کا شوق رکھتے ہیں۔

(2)
قیامت کے قریب جب ساری دنیا میں کفر پھیل جائے گاتو مدینہ میں اس وقت بھی مومن موجود رہیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3111]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1876
1876. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ کی جانب اس طرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ جاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1876]
حدیث حاشیہ:
اسی طرح اخیر زمانہ میں سچے مسلمان ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں چلے جائیں گے۔
حافظ نے کہا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاءراشدین کے زمانوں میں تھا، قیامت کے قریب پھر ایسا ہی دور پلٹ کر آئے گا وما ذلك علی اللہ بعزیز۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1876]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1876
1876. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ کی جانب اس طرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ جاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1876]
حدیث حاشیہ:
(1)
تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایمان مدینہ طیبہ سے دوسرے شہروں کی طرف پھیلے گا تو مدینہ طیبہ میں ایمان بالکل نہیں رہے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایمان کا سرچشمہ مدینہ طیبہ سے پھوٹا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے قرون ثلاثہ تک اسلام بڑا غالب رہا۔
پھر اس کے بعد حالات بدل گئے، بدعات کا دور دورہ ہوا اور باطل فرقے اپنے زہر آلود عقائد باطلہ سے مسلمانوں کے دین و ایمان کو لوٹنے لگے۔
بالآخر قریب قیامت کے وقت ایمان کو پناہ مدینہ طیبہ ہی میں ملے گی۔
لوگ اپنا ایمان بچانے کے لیے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر کے آئیں گے جیسا کہ سانپ اپنے بل سے نکل کر اِدھر اُدھر پھرتا ہے، پھر جب وہ کسی سے خوف محسوس کرتا ہے تو اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے۔
(2)
قرب قیامت کے وقت ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ مدینہ طیبہ کے علاوہ کہیں بھی کوئی مومن نہیں رہے گا۔
حدیث میں ہے کہ مدینہ طیبہ تمام شہروں کے آخر میں تباہی سے دوچار ہو گا، یہ اس لیے کہ اس میں آخر وقت تک ایمان باقی رہے گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1876]