🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب النهي عن الحلف في البيع:
باب: بیع میں قسم کھانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1606 ترقیم شاملہ: -- 4125
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ كِلَاهُمَا، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ : أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: قسم سامان کو فروغ دینے والی، (بعد ازاں) نفع کو مٹانے والی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4125]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، قسم سامان کو قابل پذیرائی بنانے والی ہے، اور نفع کے مٹانے کا سبب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1606
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة
👤←👥عبد الله بن سعيد الأموي، أبو صفوان
Newعبد الله بن سعيد الأموي ← أحمد بن عمرو القرشي
ثقة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عبد الله بن سعيد الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2087
الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة
صحيح مسلم
4125
الحلف منفقة للسلعة ممحقة للربح
سنن أبي داود
3335
الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة
سنن النسائى الصغرى
4466
الحلف منفقة للسلعة ممحقة للكسب
مسندالحميدي
1060
اليمين الكاذبة، منفقة للسلعة، ممحقة للكسب
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4125 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4125
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
منفقة:
نفاق سے ماخوذ ہے،
جس کا معنی رواج دینا،
گاہکوں کے لیے پرکشش بنانا،
گویا مصدر میمی یہاں فاعل کے معنی میں ہے۔
(2)
ممحقة:
محق سے ماخوذ ہے،
مٹانا،
برباد کرنا۔
فوائد ومسائل:
سودے میں بلا ضرورت قسم اٹھانا جائز نہیں ہے،
کیونکہ جو انسان قسم اٹھانے کا عادی ہو جاتا ہے،
اس کے دل سے اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور عظمت نکل جاتی ہے،
اور وہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹی قسم اٹھانے لگتا ہے،
اس سے سودا تو بک جاتا ہے،
لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4125]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4466
جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھانے سے سامان بک تو جاتا ہے، لیکن کمائی (کی برکت) ختم ہو جاتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4466]
اردو حاشہ:
سامان بیچنے کے لیے جھوٹی قسم تو ایک طرف رہی، سچی قسمیں بھی نہیں کھانی چاہئیں کیونکہ جب قسم کھانے کی عادت بن جائے تو سچ جھوٹ کا امتیاز نہیں رہتا، نیز اس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کی حرمت ختم ہو جاتی ہے۔ قسم اسی وقت کھائی جائے جب اس کے بغیر چارہ نہ رہے۔ برکت اٹھ جانے کا مفہوم دیکھئے حدیث نمبر: 4462 میں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4466]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3335
خرید و فروخت میں (جھوٹی) قسم کھانے کی ممانعت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (جھوٹی) قسم (قسم کھانے والے کے خیال میں) سامان کو رائج کر دیتی ہے، لیکن برکت کو ختم کر دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3335]
فوائد ومسائل:
مسلمان تاجر کو چاہیے کہ بے جا قسمیں کھانے کی عادت تبدیل کرے۔
اور صدقات دیا کرے تاکہ اس غلط عمل کا کفارہ ہوتا رہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3335]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1060
1060- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جھوٹی قسم سودا فروخت کروا دیتی ہے لیکن آمدن میں برکت کو مٹا دیتی ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1060]
فائدہ:
جھوٹ کبیرہ گناہ ہے، جس چیز میں بھی بولا جائے تو اس کی برکت ختم ہو جاتی ہے، افسوس کہ آج کل ہر ہر کام میں جھوٹ کو عروج ہے، یہی وجہ ہے کہ آج برکت ختم ہے، اللہ تعالیٰ سچ کو لازم پکڑنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1060]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2087
2087. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: "(جھوٹی)قسم کھانے سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے لیکن وہ برکت کو ختم کردیتی ہے۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2087]
حدیث حاشیہ:
گو چند روز تک ایسی جھوٹی قسمیں کھانے سے مال تو کچھ نکل جاتا ہے لیکن آخر میں اس کا جھوٹ اور فریب کھل جاتا ہے اور برکت اس لیے ختم ہو جاتی ہے کہ لو گ اسے جھوٹا جان کر اس کی دکان پر آنا چھوڑ دیتے ہیں صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2087]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2087
2087. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: "(جھوٹی)قسم کھانے سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے لیکن وہ برکت کو ختم کردیتی ہے۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2087]
حدیث حاشیہ:
(1)
جس طرح جھوٹی قسم اٹھانے سے سوداگر کو خیروبرکت سے محروم کردیا جاتا ہے، اسی طرح سودی کاروبارکرنے والے کی برکت کواٹھالیا جاتا ہے،اگرچہ بظاہر سود لینے سے رقم زیادہ ہوجاتی ہے لیکن نتیجے کے لحاظ سے دنیاو آخرت میں نقصان ہوتا ہےجیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" سود سے اگرچہ رقم زیادہ ہوجاتی ہے مگر اس کا نتیجہ اور انجام قلت ہے۔
"(مسند احمد: 1/424) (2(سود کے مال میں برکت نہیں ہوتی "مال حرام بودبہ جائے حرام رفت"والی بات بن جاتی ہے۔
ویسے بھی جس معاشرے میں سود رائج ہوتا ہے وہاں غریب طبقے کی قوت خرید کم ہوتی ہے اور امیر طبقےکی تعداد قلیل ہونے کی وجہ سے گردش دولت کی رفتار بہت مست ہوجاتی ہے جس سے معاشی بحران پیدا ہوتے ہیں،امیر اور غریب میں طبقاتی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔
بعض دفعہ غریب طبقہ تنگ آکر امیروں کو لوٹنا شروع کردیتا ہے۔
آقا اور مزدور میں کشیدگی پیدا ہونے سے بہت سے مہلک نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔
بہرحال سود کا انجام انتہائی گھناؤنا اور خطرناک ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2087]