🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب ثواب العبد واجره إذا نصح لسيده واحسن عبادة الله:
باب: غلام کے اجر و ثواب کا بیان اگر وہ اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ تعالیٰ کی اچھے طریقے سے عبادت کرے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1664 ترقیم شاملہ: -- 4319
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عبیداللہ اور اسامہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4319]
امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی چار سندوں سے نافع ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1664
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد
Newأسامة بن زيد الليثي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق يهم كثيرا
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← أسامة بن زيد الليثي
ثقة حافظ
👤←👥هارون بن سعيد السعدي، أبو جعفر
Newهارون بن سعيد السعدي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة فاضل
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← هارون بن سعيد السعدي
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4319 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4319
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اسلام کی تعلیمات و ہدایات کا یہ ایک بنیادی اصول اور خصوصی امتیاز ہے کہ اس نے ہر فرد اور ہر طبقہ کو دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ترغیب دی ہے کہ ہر انسان اور طبقہ اپنا فرض ادا کر کے دوسروں کے حقوق کو ادا کرنے کو اپنی کامیابی اور فرض منصبی تصور کرے،
اس کی پرواہ نہ کرے کہ دوسرا فرد اپنا فرض ادا کر کے اس کا حق ادا کرتا ہے یا اس کی ادائیگی میں کوتاہی برتتا ہے،
آقاؤں اور مالکوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ غلاموں زیردستوں کے بارے میں اللہ سے ڈریں اور ان کے حقوق ادا کریں،
ان کے ساتھ بہتر سلوک کریں اور ان کو اپنا بھائی سمجھیں،
جس کی ضروریات کی فراہمی ان کی ذمہ داری ہے،
اور غلاموں اور ماتحتوں کو ہدایت فرمائی،
بلکہ ترغیب دلائی کہ وہ اپنے آقاؤں اور مالکوں کے خیرخواہ اور وفادار رہ کر کام کریں،
لیکن آج کی دنیا کے شر و فساد یا بگاڑ کی جڑ اور بنیاد یہی ہے کہ ہر فرد اور ہر طبقہ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے،
لیکن اپنا حق دوسروں سے وصول کرنے بلکہ چھیننے کے لیے ہر کشمکش اور ہر حربہ اور سازش کو صرف جائز ہی نہیں ضروری سمجھتا ہے،
جس کی بنا پر دنیا جہنم کدہ بن چکی ہے،
اور یہ دنیا اس وقت امن و سکون اور طمانیت و تسکین سے محروم رہے گی،
جب تک کہ حق لینے اور چھیننے کی بجائے ہر فرد اور گروہ و طبقہ حق ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
(2)
ایسا غلام جو اپنے سید اور آقا کا وفادار اور اطاعت گزار ہے،
اور اس کے باوجود یہ چیز،
اللہ کے حق کی ادائیگی میں مانع یا رکاوٹ نہیں بدلتی،
ظاہر ہے اس کے لیے اس کو زیادہ اہتمام اور محنت و تندہی کی ضرورت ہے،
اس لیے اس اطاعت الٰہی پر دوہرا اجر ملتا ہے،
جس طرح قرآن مجید کے اس قاری کو دوہرا ثواب ملتا ہے،
جس کی زبان میں لکنت ہے،
اور وہ اٹک اٹک کر،
مشقت برداشت کرتے ہوئے قراءت کرتا ہے،
تو اس محنت و مشقت کی بنا پر زیادہ اجر حاصل کر رہا ہے،
تو کام تو اس نے ایک ہی کیا ہے،
لیکن محنت و مشقت کی بنا پر اجر میں اضافہ ہو گیا ہے،
اسی طرح غلام کو صرف ایک عمل اللہ تعالیٰ کی حسن عبادت کا ثواب دوہرا مل رہا ہے۔
اپنے آقا اور مالک کی اطاعت و وفاداری کا اجروثواب یا فضیلت اس سے الگ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4319]

Sahih Muslim Hadith 4319 in Urdu