صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب ثواب العبد واجره إذا نصح لسيده واحسن عبادة الله:
باب: غلام کے اجر و ثواب کا بیان اگر وہ اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ تعالیٰ کی اچھے طریقے سے عبادت کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 1665 ترقیم شاملہ: -- 4320
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ "، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ، قَالَ: وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَكُنْ يَحُجُّ حَتَّى مَاتَتْ أُمُّهُ لِصُحْبَتِهَا، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: فِي حَدِيثِهِ لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَمْلُوكَ،
ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والے کسی کے مملوک (غلام) کے لیے دو اجر ہیں۔“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد، حج اور اپنی والدہ کی خدمت (جیسے کام) نہ ہوتے تو میں پسند کرتا کہ میں مروں تو غلام ہوں۔ (سعید بن مسیب نے) کہا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کی وفات تک ان کے ساتھ رہنے (اور خدمت کرنے) کی بنا پر حج نہیں کرتے تھے۔ ابوطاہر نے اپنی حدیث میں ”اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والا“عَبد”(غلام) کہا، ”مملوک“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4320]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوب کار مملوک (آقا کا خیرخواہ، رب کا عبادت گزار) دوہرے اجر کا حقدار ہے۔“ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جان ہے، اگر اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت، حج (کا ثواب) اور میری ماں کی وفاداری (کی ضرورت نہ ہوتی) تو میں غلامی کی موت کو پسند کرتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ (نفلی) حج نہیں کرتے تھے، حتی کہ ان کی والدہ (امیمہ یا میمونہ) فوت ہو گئی، ابو طاہر کی روایت میں للعبد [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1665
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة حافظ | |
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص حرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر أحمد بن عمرو القرشي ← حرملة بن يحيى التجيبي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2549
| نعما لأحدهم يحسن عبادة ربه وينصح لسيده |
صحيح البخاري |
2548
| للعبد المملوك الصالح أجران |
صحيح مسلم |
4320
| للعبد المملوك المصلح أجران |
صحيح مسلم |
4322
| إذا أدى العبد حق الله وحق مواليه كان له أجران |
صحيح مسلم |
4324
| نعما للمملوك أن يتوفى يحسن عبادة الله وصحابة سيده نعما له |
جامع الترمذي |
1985
| نعما لأحدهم أن يطيع ربه ويؤدي حق سيده |
صحيفة همام بن منبه |
119
| نعما للمملوك أن يتوفاه الله بحسن طاعة ربه وطاعة سيده نعما له نعما له |
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي