صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب جواز قتل النساء والصبيان في البيات من غير تعمد:
باب: رات کو اگر چھاپا ماریں تو عورتوں اور بچوں کا قتل درست ہے بشرطیکہ عمداً نہ ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1745 ترقیم شاملہ: -- 4551
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ ".
عمرو بن دینار نے مجھے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کچھ گھڑ سوار رات کو دھاوا بولیں اور مشرکوں کے (ساتھ ان کے کچھ) بیٹوں کو (بھی) قتل کر دیں (تو گناہ تو نہیں ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4551]
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اگر شہسوار یا گھڑ سوار دستہ رات کو حملہ کرے اور مشرکوں کے بیٹوں کو قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے آباء کے حکم میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4551]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1745
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4550
| نصيب في البيات من ذراري المشركين قال هم منهم |
صحيح مسلم |
4549
| الذراري من المشركين يبيتون فيصيبون من نسائهم وذراريهم فقال هم منهم |
صحيح مسلم |
4551
| خيلا أغارت من الليل فأصابت من أبناء المشركين قال هم من آبائهم |
جامع الترمذي |
1570
| هم من آبائهم |
سنن ابن ماجه |
2839
| الدار من المشركين يبيتون فيصاب النساء والصبيان قال هم منهم |
عبد الله بن العباس القرشي ← الصعب بن جثامة الليثي