علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب النهي عن التكني بابي القاسم وبيان ما يستحب من الاسماء:
باب: ابوالقاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2133 ترقیم شاملہ: -- 5589
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، فَقُلْنَا: لَا نَكْنِكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَسْتَأْمِرَهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ قَوْمِي أَبَوْا أَنْ يَكْنُونِي بِهِ حَتَّى تَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ".
حسین نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ہم (انصار) میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھا ہم نے اس سے کہا: ہم تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے۔ یہاں تک کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بات کی) اجازت لے لو۔ سو وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اس کا نام رکھا ہے اور میری قوم نے اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ مجھے اس کے نام کی کنیت سے پکاریں یہاں تک کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، بے شک میں قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں، تمہارے درمیان (اللہ کا دیا ہوا فضل) تقسیم کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5589]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھا تو ہم نے کہا، ہم تیری کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی کنیت نہیں رکھیں گے، حتی کہ آپ سے مشورہ کر لیں تو وہ آپ کے پاس آیا اور عرض کی، میرا ایک بچہ پیدا ہوا ہے، تو میں نے اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے اور میری قوم نے اس کے نام پر میری کنیت رکھنے سے انکار کیا ہے، حتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لے تو آپ نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں تو قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں، تمہارے درمیان (علم و مال) بانٹتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5589]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3538
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
6187
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
3114
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي جعلت قاسما أقسم بينكم |
صحيح البخاري |
3115
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي إنما أنا قاسم |
صحيح البخاري |
6196
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5589
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي بعثت قاسما أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5588
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5591
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي أنا أبو القاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5593
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
جامع الترمذي |
2842
| إذا سميتم باسمي فلا تكتنوا بي |
سنن أبي داود |
4966
| من تسمى باسمي فلا يتكنى بكنيتي من تكنى بكنيتي فلا يتسمى باسمي |
سنن ابن ماجه |
3736
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي |
مسندالحميدي |
1267
| اسم ابنك عبد الرحمن |
Sahih Muslim Hadith 5589 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري