علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب من رأى أن لا يجمع بينهما
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت ایک ساتھ نہ رکھے اس کے قائلین کی دلیل۔
حدیث نمبر: 4966
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي" , قَالَ أبو داود: وَرَوَى بِهَذَا الْمَعْنَى ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , اخْتُلِفَ فِيهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَى مَا قال أَبُو الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَلَى مَا قال ابْنُ سِيرِينَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَى الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2983، 13612)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/313) (منکر)» (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، صحیح بخاری میں سالم بن ابی الجعد نے جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سمو ا بأسمی ولا تکنوا بکنیتي'' الأدب 6187» )
وضاحت: ۱؎: خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دونوں لفظوں کے ساتھ آئی ہے: اس طرح بھی جیسے محمد بن سیرین نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، جو یہ ہے «تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي» ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو“ اور اس طرح بھی جیسے ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، دونوں روایتوں میں فرق یہ ہے کہ بطریق ابوالزبیر عن جابر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت الگ الگ رکھنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے، اور بطریق ابن سیرین ابوہریرہ کی روایت سے نام رکھنے کا جواز اور کنیت رکھنے کا عدم جواز ثابت ہو رہا ہے، صحیح بخاری کی حدیث بطریق سالم بن ابی الجعد عن جابر رضی اللہ عنہ: ابن سیرین کی ابوہریرہ سے حدیث کی طرح ہے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4770)
وله شاھد عند أحمد (2/433 ح9598 وسنده حسن) وحديث البخاري (3538) ومسلم (2133) يغني عنه
مشكوة المصابيح (4770)
وله شاھد عند أحمد (2/433 ح9598 وسنده حسن) وحديث البخاري (3538) ومسلم (2133) يغني عنه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو مسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة مأمون |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3538
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
6187
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
3114
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي جعلت قاسما أقسم بينكم |
صحيح البخاري |
3115
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي إنما أنا قاسم |
صحيح البخاري |
6196
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5589
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي بعثت قاسما أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5588
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5591
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي أنا أبو القاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5593
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
جامع الترمذي |
2842
| إذا سميتم باسمي فلا تكتنوا بي |
سنن أبي داود |
4966
| من تسمى باسمي فلا يتكنى بكنيتي من تكنى بكنيتي فلا يتسمى باسمي |
سنن ابن ماجه |
3736
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي |
مسندالحميدي |
1267
| اسم ابنك عبد الرحمن |
Sunan Abi Dawud Hadith 4966 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري