علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب النهي عن التكني بابي القاسم وبيان ما يستحب من الاسماء:
باب: ابوالقاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2133 ترقیم شاملہ: -- 5593
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ".
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار نے اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو، میری کنیت پر (اپنی) کنیت نہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5593]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار نے اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5593]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3538
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
6187
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
صحيح البخاري |
3114
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي جعلت قاسما أقسم بينكم |
صحيح البخاري |
3115
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي إنما أنا قاسم |
صحيح البخاري |
6196
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5589
| سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي بعثت قاسما أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5588
| تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي إنما أنا قاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5591
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي أنا أبو القاسم أقسم بينكم |
صحيح مسلم |
5593
| سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي |
جامع الترمذي |
2842
| إذا سميتم باسمي فلا تكتنوا بي |
سنن أبي داود |
4966
| من تسمى باسمي فلا يتكنى بكنيتي من تكنى بكنيتي فلا يتسمى باسمي |
سنن ابن ماجه |
3736
| تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي |
مسندالحميدي |
1267
| اسم ابنك عبد الرحمن |
Sahih Muslim Hadith 5593 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري