صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب في سعة رحمة الله تعالى وانها سبقت غضبه:
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2756 ترقیم شاملہ: -- 6981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ؟، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَقَالَ لِلْأَرْضِ: أَدِّي مَا أَخَذْتِ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، فَقَالَ: خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ أَوَ قَالَ مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ " ,
معمر نے کہا: زہری نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ (پھر) زہری نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے اپنے آپ پر ہر قسم کی زیادتی کی (ہر گناہ کا ارتکاب کر کے خود کو مجرم بنایا۔) تو جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا، پھر مجھے ہوا میں، سمندر میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے قابوکر لیا تو مجھے یقیناً ایسا عذاب دے گا جو کسی اور کو نہ دیا ہو گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کے ساتھ یہی کیا۔ تو اللہ نے زمین سے کہا: جو تو نے لیا پورا واپس کر، تو وہ (پورے کا پورا سامنے) کھڑا تھا۔ اللہ نے اس سے فرمایا: تو نے جو کیا اس پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: میرے پروردگار! تیری خشیت نے۔۔ یا کہا۔۔: تیرے خوف نے تو اسی (بات) کی بنا پر اس (اللہ) نے اسے بخش دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6981]
معمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں مجھے زہری رحمہ اللہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟“ مجھے حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے بتایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے اپنے نفس پر زیادتی کی (معاصی اور منکرات کا ارتکاب کیا)، تو جب اس کی موت کا وقت آ پہنچا اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میرے جلے ہوئے جسم کو پیس ڈالنا، پھر میری راکھ کو سمندر میں اڑا دینا، اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے اس قدر سخت عذاب دے گا، جو کسی کو نہیں دیا ہو گا، تو انہوں نے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرمایا: جو لیا ہے وہ ادا کرو، تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا، سو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: جو حرکت تو نے کی ہے، تجھے اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیری خشیت یا تیرے خوف نے، تو اس بنا پر اللہ نے اسے بخش دیا۔“ زہری رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا تھا: ”کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟“ ان میں سے ایک مذکورہ بالا ہے اور دوسری حدیث مندرجہ ذیل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 6981 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي