صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ:
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2751 ترقیم شاملہ: -- 6969
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ".
مغیرہ حزامی نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنی کتاب میں لکھ دیا اور وہ (کتاب) عرش کے اوپر اس کے پاس ہے: «ان رحمتی تغلب غضبی» یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6969]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا، اپنے نوشتہ میں لکھا، جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6969]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2751 ترقیم شاملہ: -- 6970
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي ".
سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: «رحمتی سبقت غضبی» میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6970]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: میری رحمت میرے غضب سے پہلے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6970]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2751 ترقیم شاملہ: -- 6971
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ عَلَى نَفْسِهِ، فَهُوَ مَوْضُوعٌ عِنْدَهُ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ".
عطاء بن مینا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کے بارے میں فیصلہ فرما لیا تو اس نے اپنی کتاب میں اپنے اوپر لازم کرتے ہوئے لکھ دیا، وہ اس کے پاس رکھی ہوئی ہے: «ان رحمتی تغلب غضبی» یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6971]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا، اپنے نوشتہ میں اپنے اوپر لازم قرار دیا، جو اس کے پاس رکھا ہوا ہے: ”میری رحمت، میرے غضب پر غالب ہو گی۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6971]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2752 ترقیم شاملہ: -- 6972
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ تَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتَّى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ ".
سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ایک سو حصے کیے، ننانوے حصے اپنے پاس روک کر رکھ لیے اور ایک حصہ زمین پر اتارا، اسی ایک حصے میں سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے حتیٰ کہ ایک چوپایہ اس ڈر سے اپنا سم اپنے بچے سے اوپر اٹھا لیتا ہے کہ کہیں اس کو لگ نہ جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6972]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے ٹھہرائے، چنانچہ ننانوے اپنے پاس روک لیے اور زمین میں صرف ایک حصہ اتارا، اس ایک جزء کی بنا پر تمام مخلوق ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے حتیٰ کہ چوپایہ اپنے بچے سے اپنا پاؤں اٹھا لیتا ہے اس ڈر سے کہ اسے تکلیف نہ پہنچے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2752 ترقیم شاملہ: -- 6973
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونُ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ وَخَبَأَ عِنْدَهُ مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً ".
علاء کے والد (عبدالرحمان) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں، اس نے ایک رحمت اپنی مخلوق میں رکھی اور ایک کم سو رحمتیں (آئندہ کے لیے) اپنے پاس چھپا کر رکھ لیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6973]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں، سو ان میں سے ایک کو اپنی مخلوق میں رکھ دیا اور ایک کم سو اپنے پاس چھپا رکھیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6973]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2752 ترقیم شاملہ: -- 6974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت اس نے جن و انس، حیوانات اور حشرات الارض کے درمیان نازل فرما دی، اسی (ایک حصے کے ذریعے) سے وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، آپس میں رحمت کا برتاؤ کرتے ہیں، اسی سے وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کر کے رکھ لی ہیں، ان سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6974]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے صرف ایک اس نے جنوں، انسانوں، حیوانوں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتاری ہے، چنانچہ وہ اس کی بنا پر ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، اس کے سبب ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اس کے باعث وحشی (جنگلی جانور) اپنی اولاد پر شفقت کرتے ہیں، اور اللہ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کر دی ہیں، ان کے سبب قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحمت فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2753 ترقیم شاملہ: -- 6975
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ "،
معاذ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوعثمان نہدی نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے (رحمتیں) قیامت کے دن کے لیے (محفوظ) ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6975]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کے سبب مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے قیامت کے لیے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2753 ترقیم شاملہ: -- 6976
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6976]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2753 ترقیم شاملہ: -- 6977
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْأَرْضِ رَحْمَةً، فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ ".
داود بن ابی ہند نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن اس نے سو رحمتیں پیدا کیں، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کے درمیان کی وسعت کے برابر ہے، اس نے ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی، اسی رحمت کی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر رحمت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت کا سلوک کرتے ہیں، جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ ملا کر پوری (سو) کرے گا (اور بندوں کے ساتھ سو فیصد رحمت کا سلوک فرمائے گا۔)“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6977]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، سو رحمتیں پیدا کیں، ہر رحمت آسمان و زمین کی پورائی بھرائی کے برابر ہے، چنانچہ ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی، اس کے سبب ماں اپنی اولاد پر شفقت کرتی ہے، وحشی اور پرندے ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، سو جب قیامت کا دن ہوگا، اس رحمت سے ان سو کو مکمل کر دے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2754 ترقیم شاملہ: -- 6978
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لِحَسَنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ تَبْتَغِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ "، قُلْنَا " لَا وَاللَّهِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے، ان قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی، اچانک قیدیوں میں سے اسے ایک بچہ مل گیا، اس نے بچے کو اٹھا کر پیٹ سے چمٹا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟“ ہم نے کہا: اللہ کی قسم! اگر اس کے بس میں ہو کہ اسے نہ پھینکے (تو ہرگز نہیں پھینکے گی۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا اس عورت کو اپنے بچے کے ساتھ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6978]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صورت حال یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی لائے گئے، چنانچہ قیدیوں میں سے ایک عورت کچھ تلاش کر رہی تھی کہ اچانک قیدیوں میں سے اسے ایک بچہ ملا، اس نے اس کو پکڑ کر اپنے پیٹ سے چمٹا لیا اور اسے دودھ پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”کیا تمہارا خیال ہے، یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟“ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک اسے نہ ڈالنے کا اختیار ہے (یہ نہیں ڈالے گی)۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی اپنے بندوں پر، اس کی اپنے بچے پر سے رحمت زیادہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6978]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2754
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة