صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ:
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2755 ترقیم شاملہ: -- 6979
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مومن کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سزا کیا ہے تو کوئی شخص اس کی جنت کی امید ہی نہ رکھے، اور اگر کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کے پاس رحمت کس قدر ہے تو کوئی ایک بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6979]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مومن اللہ کی سزا اور عقوبت کو جان لے (جو ہر گناہ کے لیے تیار ہے) تو کوئی انسان (اپنے گناہوں کو دیکھ کر) جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر اللہ کی رحمت کو جان لے (جو اس کے مومن بندوں کے لیے ہے) تو کوئی انسان اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2755
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2756 ترقیم شاملہ: -- 6980
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ بِنْتِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ، وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، اپنے گھر والوں سے کہا: جب وہ مرے تو اسے جلا دیں، پھر اس کا آدھا حصہ (ہواؤں میں اڑا کر) خشکی پر بکھیر دیں اور آدھا حصہ سمندر میں بہا دیں، کیونکہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے قابوکر لیا تو اس کو ضرور بالضرور ایسا عذاب دے گا جو تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دے گا، چنانچہ جب وہ آدمی مر گیا تو انہوں نے وہی کیا جس کا اس نے حکم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا، اس شخص کا جو بھی حصہ اس (خشکی) میں تھا اس نے اس کو اکٹھا کر دیا اور سمندر کو حکم دیا تو جو کچھ اس میں تھا اس نے اکٹھا کر دیا، پھر (اللہ نے) اس سے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا: میرے رب! تیرے ڈر سے (ایسا کیا تھا) اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے (کہ میری بات سچ ہے) تو اللہ نے (اس سچی خشیت کی بنا پر) اسے بخش دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6980]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا دینا، پھر اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی راکھ سمندر میں بکھیر دینا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر اللہ اس پر گرفت کر سکا تو اسے اس قدر شدید عذاب دے گا جو کائنات میں کسی کو نہیں دیا ہو گا، پھر جب وہ آدمی فوت ہو گیا تو انہوں نے (گھر والوں نے) اس کے مشورے پر عمل کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا تو اس نے اس میں بکھرے ہوئے ذرات کو جمع کر دیا اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس میں موجود ذرات کو جمع کر ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے انسان! تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیری خشیت اور ڈر کی وجہ سے اور تجھے خوب علم ہے، سو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6980]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2756 ترقیم شاملہ: -- 6981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ؟، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَقَالَ لِلْأَرْضِ: أَدِّي مَا أَخَذْتِ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، فَقَالَ: خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ أَوَ قَالَ مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ " ,
معمر نے کہا: زہری نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ (پھر) زہری نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے اپنے آپ پر ہر قسم کی زیادتی کی (ہر گناہ کا ارتکاب کر کے خود کو مجرم بنایا۔) تو جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا، پھر مجھے ہوا میں، سمندر میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے قابوکر لیا تو مجھے یقیناً ایسا عذاب دے گا جو کسی اور کو نہ دیا ہو گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کے ساتھ یہی کیا۔ تو اللہ نے زمین سے کہا: جو تو نے لیا پورا واپس کر، تو وہ (پورے کا پورا سامنے) کھڑا تھا۔ اللہ نے اس سے فرمایا: تو نے جو کیا اس پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: میرے پروردگار! تیری خشیت نے۔۔ یا کہا۔۔: تیرے خوف نے تو اسی (بات) کی بنا پر اس (اللہ) نے اسے بخش دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6981]
معمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں مجھے زہری رحمہ اللہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟“ مجھے حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے بتایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے اپنے نفس پر زیادتی کی (معاصی اور منکرات کا ارتکاب کیا)، تو جب اس کی موت کا وقت آ پہنچا اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میرے جلے ہوئے جسم کو پیس ڈالنا، پھر میری راکھ کو سمندر میں اڑا دینا، اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے اس قدر سخت عذاب دے گا، جو کسی کو نہیں دیا ہو گا، تو انہوں نے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرمایا: جو لیا ہے وہ ادا کرو، تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا، سو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: جو حرکت تو نے کی ہے، تجھے اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیری خشیت یا تیرے خوف نے، تو اس بنا پر اللہ نے اسے بخش دیا۔“ زہری رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا تھا: ”کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟“ ان میں سے ایک مذکورہ بالا ہے اور دوسری حدیث مندرجہ ذیل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2619 ترقیم شاملہ: -- 6982
قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ذَلِكَ لِئَلَّا يَتَّكِلَ رَجُلٌ وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ،
زہری نے کہا: اور حمید نے مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت بلی کے معاملے میں جہنم میں ڈال دی گئی جسے اس نے باندھ رکھا تھا۔ اس نے نہ اس کو کھلایا، نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے چھوٹے چھوٹے جانور کھا لیتی، وہ لاغر ہو کر مر گئی۔“ زہری نے کہا: یہ اس لیے (فرمایا گیا) ہے کہ کوئی شخص نہ صرف (رحمت پر) بھروسہ کر لے اور نہ صرف مایوسی ہی کو اپنا لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6982]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت بلی کو باندھے رکھنے کے باعث آگ میں گئی، نہ تو اسے کھلایا اور نہ ہی اس نے اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی کہ وہ کمزوری سے مر گئی۔“ زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ دو حدیثیں اس لیے سنائی ہیں تاکہ نہ تو کوئی انسان اللہ کی رحمت پر اعتماد کر کے گناہوں سے بے پروا ہو اور نہ ہی گناہوں کے سبب اللہ کی رحمت سے ناامید ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6982]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2756 ترقیم شاملہ: -- 6983
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ، بِنَحْوِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِلَى قَوْلِهِ: فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ الْمَرْأَةِ فِي قِصَّةِ الْهِرَّةِ، وَفِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ.
زبیدی نے مجھے حدیث سنائی کہ زہری نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے نے اپنے آپ پر ہر طرح کی زیادتی کی۔“ (آگے) معمر کی حدیث کی طرح ہے، اس قول تک: ”پس اللہ نے اسے بخش دیا۔“ اور انہوں نے بلی کے واقعے (کے بارے) میں عورت والی حدیث کا ذکر نہیں کیا۔ اور زبیدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہر شے سے، جس نے اس (جلائے جانے والے شخص) کی کوئی بھی چیز لی تھی، فرمایا: اس کا جو حصہ تیرے پاس ہے پورا واپس کر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6983]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے نے اپنے نفس پر زیادتی کی،“ آگے مذکورہ بالا پہلی حدیث ہے، بلی والا واقعہ بیان نہیں کیا اور زبیدی کی حدیث میں ہے، اللہ عزوجل نے ہر اس چیز کو جس نے اس کا کوئی ذرہ بھی لیا تھا، کہا: ”اس سے جو کچھ تو نے لیا ہے، اس کو ادا کر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2757 ترقیم شاملہ: -- 6984
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، فَقَالَ لِوَلَدِهِ: لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ أَوْ لَأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَكُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ، فَأَحْرِقُونِي وَأَكْثَرُ عِلْمِي، أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ، فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَيَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي، قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا، فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّي، فَقَالَ اللَّهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟، فَقَالَ مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا "،
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے: ”تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا۔ اس نے اپنے بچوں سے کہا: ہر صورت وہی کچھ کرو گے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں، یا میں اپنا ورثہ دوسروں کے سپرد کر دوں گا، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دو۔۔ اور مجھے زیادہ یہ لگتا ہے کہ قتادہ نے کہا۔۔ پھر مجھے کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دو، پھر مجھے ہوا میں اڑا دو کیونکہ میں نے اللہ کے ہاں کوئی اچھائی ذخیرہ نہیں کی۔ اللہ مجھ پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ مجھے عذاب دے۔ کہا: اس نے ان (اپنی اولاد) سے پختہ عہد و پیمان لیا، تو میرے رب کی قسم! انہوں نے اس کے ساتھ وہی کیا (جو اس نے کہا تھا۔) اللہ تعالیٰ نے پوچھا: تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے۔ فرمایا: پھر اسے اس کے سوا (جو وہ بھگت چکا تھا، یعنی لاش کا جلنا اور اللہ کے سامنے پیشی وغیرہ) اور کوئی عذاب نہ ہوا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6984]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا، چنانچہ اس نے اپنی اولاد سے کہا: جو میں تمھیں حکم دینے والا ہوں، لازماً تم اس پر عمل پیرا ہو گے یا میں اپنی وراثت تمھارے سوا کسی اور کو دے دوں گا، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا۔ راوی کہتا ہے: میرا ظنِ غالب یہی ہے کہ اس نے کہا: پھر مجھے پیس ڈالنا اور مجھے ہوا میں اڑا دینا، کیونکہ میں نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی نہیں بھیجی، ذخیرہ نہیں کی، کیونکہ اللہ مجھے عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے (اگر مجھے اسی حالت میں دفن کر دیا گیا)۔ چنانچہ اس نے ان سے پختہ عہد لیا، سو انھوں نے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا، میرے رب کی قسم! تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا: جو کام تو نے کیا ہے، اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے۔ تو اسے اس خوف کے سوا کسی اور چیز نے نہیں بچایا (یعنی اس کے برے عملوں کا تدارک و ازالہ خوفِ الٰہی نے کیا)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2757
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2757 ترقیم شاملہ: -- 6985
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ذَكَرُوا جَمِيعًا بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ، وَأَبِي عَوَانَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، وَفِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ، فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، قَالَ: فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، مَا امْتَأَرَ بِالْمِيمِ.
سلیمان، شیبان بن عبدالرحمان اور ابوعوانہ سب نے قتادہ سے شعبہ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ شیبان اور ابوعوانہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال اور اولاد سے نوازا۔“ اور تمیمی کی حدیث میں ہے: ”اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی جمع نہ کرائی۔“ کہا کہ قتادہ نے اس کی یہ تشریح کی: اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی ذخیرہ نہ کی۔ اور شیبان کی حدیث میں ہے: ”بے شک اس نے، اللہ کی قسم! اللہ کے ہاں کوئی نیکی محفوظ نہ کرائی۔“ اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے: ”اس نے کچھ جمع نہ کیا۔“ امتار میم کے ساتھ (یہ سب بولنے میں بھی ملتے جلتے الفاظ ہیں اور معنی میں بھی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6985]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، شیبان اور ابو عوانہ کی روایت ہے: ”لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے بہت مال اور اولاد دی۔“ اور تیمی کی حدیث ہے: ”کیونکہ اس نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی ذخیرہ نہیں کی۔“ قتادہ نے «لَمْ يَبْتَئِرْ» کی تفسیر «لَمْ يَدَّخِرْ» کی ہے یعنی جمع نہیں کیا، اور شیبان کی حدیث ہے: ”کیونکہ اس نے اللہ کی قسم! اللہ کے ہاں کوئی نیکی جمع نہیں کی۔“ اور ابو عوانہ کی روایت میں «مَا ابْتَأَرَ» کی جگہ «وَمَا امْتَأَرَ» ہے، یعنی باقی جگہ میم ہے، معنی ہر صورت میں ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 6985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2757
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة