مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أخبرني أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ، أَوْ بِعُسْفَانَ، فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ , قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَإِذَا نَاسٌ قَدْ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: يَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: أَخْرِجُوهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ".
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک بیٹا مقام قدید یا عسفان میں فوت ہو گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: کریب! دیکھ کر آؤ کتنے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں؟ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو کچھ لوگ جمع ہو چکے تھے، میں نے انہیں آ کر بتا دیا، انہوں نے پوچھا کہ ان کی تعداد چالیس ہوگی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر جنازے کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اگر کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہو جائیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش مردے کے حق میں ضرور قبول فرما لیتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2509]
حکم دارالسلام: إسناده جيد، م: 948
الرواة الحديث:
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي