مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ قَتَادَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَفْتِي النَّاسَ، وَلَا يَذْكُرُ فِي فُتْيَاهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ عِرَاقِيٌّ، وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ؟ فَقَالَ: ادْنُهْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اس دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں، اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہو گیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا، ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3272]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5963، م: 2110
الرواة الحديث:
قتادة بن دعامة السدوسي ← عبد الله بن العباس القرشي