مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
5. باب بيان الوضوء بعد أكل ما مسته النار
باب آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 21
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَن عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" ، وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.
عبد بن ابراہیم زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا، میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کے اوپر وضو کرتے دیکھا تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو میں کیوں وضو کر رہا ہوں؟ میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے ”آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو۔“ امام زہری رحمہ اللہ آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو فرماتے تھے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن سعيد بن المسيب/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، الحيض، باب الوضوء مما مست النار: 351»
الرواة الحديث:
إبراهيم بن عبد الله الكناني ← أبو هريرة الدوسي