علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
210. باب الإجابة أية ساعة هي في يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی کون سی ہے؟
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ؟ يَعْنِي السَّاعَةَ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ.
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے اپنے والد سے جمعہ کے معاملہ میں یعنی قبولیت دعا والی گھڑی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے کچھ سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ وہ (ساعت) امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی منبر پر (بیٹھنے سے لے کر)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1049]
جناب ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: ”کیا آپ نے اپنے والد سے جمعہ کے بارے میں کچھ سنا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرتے تھے یعنی قبولیت کی گھڑی کون سی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں! میں نے ان کو سنا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ فرماتے تھے: ”یہ گھڑی امام کے (منبر پر) بیٹھ جانے سے لے کر نماز مکمل ہونے تک کے مابین ہے۔“”امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یعنی منبر پر (بیٹھ جانے سے)۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 4 (853)، (تحفة الأشراف: 9078) (صحیح)» (بعض حفاظ نے اس کو ابوبردہ کا قول بتایا ہے، اور بعض نے اس کو مرفوع حدیث کے مخالف گردانا ہے، جس میں صراحت ہے کہ یہ عصر کے بعد کی گھڑی ہے، (جبکہ ابوہریرہ و جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے یہاں یہ ساعت (گھڑی) دن کی آخری گھڑی ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری)
قال الشيخ الألباني: ضعيف والمحفوظ موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (853)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1975
| هي ما بين أن يجلس الإمام إلى أن تقضى الصلاة |
سنن أبي داود |
1049
| هي ما بين أن يجلس الإمام إلى أن تقضى الصلاة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1049 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1049
1049۔ اردو حاشیہ:
مختلف روایات میں جمع و تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ساعت مختلف اوقات میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
مختلف روایات میں جمع و تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ساعت مختلف اوقات میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1049]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1975
ابو مو سیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ابو بردہ کی روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: کیا تم نے اپنے باپ سے جمعہ کی ساعت کے بارے میں حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں نے انسے یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز کے پڑھنے تک ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1975]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ساعت جمعہ کے بارے میں بہت اختلافات ہیں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سے زائد اقوال نقل کیے ہیں۔
لیکن صحیح ترین قول دو ہیں جو احادیث سے ثابت ہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ساعت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک ہے اور مسند احمد اور سنن میں مختلف صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عصر کے بعد ہے اس لیے بعض نے مسلم شریف کی روایت کو ترجیح دی ہے اور اکثریت کے نزدیک یہ عصر کے بعد ہے حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل سے ترجیح عصر کے بعد کی ساعت کو دی ہے لیکن یہ لکھا ہے کہ لوگوں کے اجتماع،
ان کی نماز،
ان کی اللہ کے حضور عاجزی اور تضرع اور گڑگڑانا کو بھی دعا کی قبولیت میں داخل ہے۔
اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنی امت کو ان دونوں اوقات میں دعا اور اللہ کے سامنے گڑگڑانے کی ترغیب دی ہے۔
اور اس کا شوق و آمادگی دلائی ہے۔
لیکن یہ دونوں اوقات ایسے ہیں کہ ان میں انسان نماز نہیں پڑھ سکتا۔
اس لیے قَائِمٌ یُّصَلي،
کھڑا ہوکر نماز پڑھتا ہے میں تاویل کی ضرورت ہے اس کا یا تو یہ معنی کرنا ہوگا کہ قیام سے مراد مواظبت اور پابندی ہے اور صلوۃ سے مراد دعا ہے کہ وہ دعا پر مواظبت اور پابندی کرتا ہے یا انتظار صلوۃ مراد ہوگا کہ وہ نماز کا منتظر ہے۔
جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس ساعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے۔
میں نے اعتراض کیا:
(وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلَّى فِيْهَا)
اس گھڑی میں نماز نہیں پڑھی جاتی تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو انسان نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے۔
(فَهُوَ فِي صَلَاةٍ)
وہ نماز ہی پڑھ رہا ہے۔
تو میں نے کہا،
ہاں،
انہوں نےکہا،
بس یہی بات ہے،
اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ ہے کہ یہ سوال حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ جواب دیا تھا،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ساعت توعصر کے بعد ہی ہے لیکن مطلوب دونو،
جگہ دعا کرنا ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خطبہ کے دوران دعا مانگنا انصات اورخاموشی کے منافی نہیں ہے۔
(کیونکہ علامہ شامی کے بقول تو یہ ساعت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر فراغت نماز تک ہے (شرح صحیح مسلم،
علامہ سعیدی،
ج2 ص 648)
فوائد ومسائل:
ساعت جمعہ کے بارے میں بہت اختلافات ہیں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے چالیس سے زائد اقوال نقل کیے ہیں۔
لیکن صحیح ترین قول دو ہیں جو احادیث سے ثابت ہیں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ساعت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک ہے اور مسند احمد اور سنن میں مختلف صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عصر کے بعد ہے اس لیے بعض نے مسلم شریف کی روایت کو ترجیح دی ہے اور اکثریت کے نزدیک یہ عصر کے بعد ہے حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل سے ترجیح عصر کے بعد کی ساعت کو دی ہے لیکن یہ لکھا ہے کہ لوگوں کے اجتماع،
ان کی نماز،
ان کی اللہ کے حضور عاجزی اور تضرع اور گڑگڑانا کو بھی دعا کی قبولیت میں داخل ہے۔
اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنی امت کو ان دونوں اوقات میں دعا اور اللہ کے سامنے گڑگڑانے کی ترغیب دی ہے۔
اور اس کا شوق و آمادگی دلائی ہے۔
لیکن یہ دونوں اوقات ایسے ہیں کہ ان میں انسان نماز نہیں پڑھ سکتا۔
اس لیے قَائِمٌ یُّصَلي،
کھڑا ہوکر نماز پڑھتا ہے میں تاویل کی ضرورت ہے اس کا یا تو یہ معنی کرنا ہوگا کہ قیام سے مراد مواظبت اور پابندی ہے اور صلوۃ سے مراد دعا ہے کہ وہ دعا پر مواظبت اور پابندی کرتا ہے یا انتظار صلوۃ مراد ہوگا کہ وہ نماز کا منتظر ہے۔
جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس ساعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے۔
میں نے اعتراض کیا:
(وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلَّى فِيْهَا)
اس گھڑی میں نماز نہیں پڑھی جاتی تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو انسان نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے۔
(فَهُوَ فِي صَلَاةٍ)
وہ نماز ہی پڑھ رہا ہے۔
تو میں نے کہا،
ہاں،
انہوں نےکہا،
بس یہی بات ہے،
اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ ہے کہ یہ سوال حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ جواب دیا تھا،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ساعت توعصر کے بعد ہی ہے لیکن مطلوب دونو،
جگہ دعا کرنا ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خطبہ کے دوران دعا مانگنا انصات اورخاموشی کے منافی نہیں ہے۔
(کیونکہ علامہ شامی کے بقول تو یہ ساعت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر فراغت نماز تک ہے (شرح صحیح مسلم،
علامہ سعیدی،
ج2 ص 648)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1975]
Sunan Abi Dawud Hadith 1049 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري