🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب الصلاة بعد العصر
باب: عصر کے بعد نفل پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1273
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْهُمَا"، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہو جا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/السھو 8 (1233)، المغازي 69 (4370)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (834)، (تحفة الأشراف: 17571، 18207)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت 35 (580)، مسند احمد (6/309)، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1476) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1233) صحيح مسلم (834)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4370
أتاني أناس من عبد القيس بالإسلام من قومهم فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان
صحيح البخاري
1233
أتاني ناس من عبد القيس فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان
صحيح مسلم
1933
أتاني ناس من عبد القيس بالإسلام من قومهم فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان
سنن أبي داود
1273
أتاني ناس من عبد القيس بالإسلام من قومهم فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان
سنن النسائى الصغرى
580
هما ركعتان كنت أصليهما بعد الظهر فشغلت عنهما حتى صليت العصر
سنن النسائى الصغرى
581
شغل رسول الله عن الركعتين قبل العصر فصلاهما بعد العصر
سنن ابن ماجه
1159
شغلني أمر الساعي أن أصليهما بعد الظهر فصليتهما بعد العصر
بلوغ المرام
143
شغلت عن ركعتين بعد الظهر فصليتهما الآن
مسندالحميدي
296
لا إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات من ماء ثم تفيضي عليك الماء فتطهري
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1273 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1273
1273۔ اردو حاشیہ:
➊ ظہر کی پچھلی سنتیں مؤکدہ سنتوں میں سے ہیں اور ان کا پڑھنا مستحب ہے۔
➋ ممنوع وقت میں کسی مشروع سبب سے نماز پڑھنا جائز ہے۔
➌ عصر کے بعد ان رکعات کی ہمیشگی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی خصوصیت تھی۔
➍ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مسئلے کی تحقیق میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف تحویل کرنا، ان آداب میں سے ہے کہ اعلم اور اہل فضل کی طرف مراجعت کی جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1273]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 143
عصر کے بعد ظہر کی رہ جانے والی سنتوں کی قضا
«. . . صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العصر. ثم دخل بيتي فصلى ركعتين. فسالته فقال: ‏‏‏‏شغلت عن ركعتين بعد الظهر فصليتهما الآن . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ میں نے عرض کیا یہ دو رکعت کیسی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا ظہر کے فرائض کے بعد کی دو سنتیں پڑھ نہیں سکا تھا وہ اب میں نے پڑھی ہیں . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 143]
لغوی تشریح:
«شُغِلْتُ» صیغہ مجہول۔ اس کے معنی ہیں کہ مجھے روک دیا گیا، اس طرف سے توجہ پھیر دی گئی۔ مانع یہ تھا کہ قبیلۂ عبدالقیس کے کچھ لوگ آ گئے تھے یا صدقے کا مال آ گیا تھا۔ مال کی تقسیم یا ان سے گفتگو کرتے رہنے کی وجہ سے ظہر کی دو سنتیں رہ گئی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھیں۔
«فصليتهما الآن» یعنی میں نے ان دونوں کی اب قضا دی ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ہم بھی چھوٹ جانے کی صورت میں اس وقت قضا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت انہیں قضا ہونے کی صورت میں ادا نہ کرو۔
علامہ یمانی نے کہا ہے کہ اس سے ثابت ہوا نماز عصر کے بعد ان سنتوں کی قضا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے، کسی بھی دوسرے کے لیے یہ جائز نہیں ہے اور ایک دن کے عمل کے بعد آپ کا ہمیشہ انہیں نماز عصر کے بعد ادا کرتے رہنا اس بنا پر تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب ایک عمل ایک مرتبہ کر لیتے تو اسے ہمیشہ انجام دیتے تھے۔ تو گویا یہ بھی آپ کی خصوصیت تھی۔

فائدہ:
حدیث مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ عصر کے بعد ظہر کی رہ جانے والی سنتوں کی قضا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ اور امتیاز تھا جیسا کہ امام طحاوی اور علامہ یمانی رحمہما اللہ نے کہا ہے مگر امام بیہقی اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رحمہما اللہ نے کہا ہے کہ اس روایت کا آخری حصہ «أَفَنَقُضِيهِمَا إذَا فَتَتَا؟ قال: لا» جب یہ رہ جائیں تو کیا ہم ان کی قضا دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ضعیف اور غیر محفوظ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ عصر کے بعد قضا نماز فرض ہو یا سنت، ادا ہو سکتی ہے۔ اس کی تفصیل أعلام أھل العصر میں شارح ابوداود شیخ شمس الحق محدیث ڈیانوی نے خوب بیان کی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 143]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 581
عصر کے بعد نماز کی اجازت کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 581]
581 ۔ اردو حاشیہ: عصر کے بعد نوافل پڑھنا جائز ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہو جیسا کہ پیچھے تفصیل گزر چکی ہے۔ دیکھیے، حدیث: 574 اور 579 کے فوائدومسائل۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 581]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1159
جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے و۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1159]
اردو حاشہ:
فائدہ:

(1)
مذکور روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اورشیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے منکر قرار دیا ہے۔
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عصر کے بعد دورکعتیں پڑھنے کا ثبوت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ملتا ہے۔
اسی لئے بعض محققین نے اس روایت کی سند کو تو ضعیف قراردیا ہے۔
لیکن فی نفسہ مسئلہ یعنی عصر کے بعد دورکعت پڑھنے کو صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة، مسند الإمام أحمد بن حنبل: 257، 256، 210، 209/44 وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشارعواد، حدیث: 115)

(2)
ظہر کی پچھلی دو سنتیں مؤکدہ سنتوں میں سے ہیں۔
اور ان کا پڑھنا مستحب ہے۔

(3)
ممنوع وقت میں کسی مشروع سبب سے نماز پڑھنا جائز ہے۔

(4)
عصر کے بعد ان رکعات کی ہمیشگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1159]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:296
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حیض یا نفاس کے ختم ہونے پر غسل کرتے وقت عورت کا سر کے بالوں کو کھولنا واجب ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر یوں باب باندھا ہے: بـاب نـقـض الـمـرأة شعرها عند غسـل الـمحيض حائضہ عورت کا غسل کرتے وقت اپنے بالوں کو کھولنے کا بیان۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غسل حیض کے لیے بال کھولنا ضروری ہے۔ (تھذیب السنن: 165/1 - 168) یاد رہے کہ جنبی عورت کا غسل جنابت میں اپنے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے سر کے بال اچھی طرح مضبوطی سے گوندھتی ہوں، کیا میں انھیں غسل جنابت کے وقت کھولا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا کھولنا ضروری نہیں ہے، تیرے لیے یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی اپنے سر پر ڈالے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہائے، پس تو پاک ہو جائے گی۔ (صحیح مسلم: 230)
اہل علم نے غسل حیض و جنابت میں فرق کی توجیہ بیان کی ہے کہ حالت جنابت چونکہ بکثرت ہوتی ہے، لہٰذا اس کے لیے ہر مرتبہ سر کے بالوں کو کھولنا باعث مشقت ہے، جبکہ حیض تو ایک ماہ میں ایک بار ہی آتا ہے، اور نفاس تو سالوں میں بھی کبھار آ تا ہے، ان میں چوٹی اور مینڈھیاں کھولنا باعث مشقت نہیں ہے۔ (المغنی لابن قدامہ: 227/1- عارضة الاحوذی: 160/1)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 296]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1933
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمان بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا اور سب نے مجھے کہا کہ ہم سب کی طرف سے انھیں سلام عرض کرنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں سوال کرنا اور ان سے پوچھنا ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ آپ دو رکعتیں پڑھتی ہیں۔ جبکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1933]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
انسان کی فطرت اور مزاج میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ کسی کے قول و فعل میں تضاد دیکھتا ہے تو چاہے یہ کام کرنے والی شخصیت کتنی ہی عظیم اور محبوب ہو وہ خلجان میں پڑجاتا ہے اور اس کے قول و فعل کے تضاد کے سبب کو معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جن کے باپ کا نام ابو امیہ خذیفہ ہے اس بنا پر آپ سے سوال کیا تھا۔
(2)
نماز ظہر کے بعد کی سنتیں اگرچہ فرض نہیں ہیں،
لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان کی پابندی کرتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عادت کو برقرار رکھنے کے لیے سنتوں کی قضائی دی۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سنتوں کی قضائی پسندیدہ ہے اور امام محمد کا قول بھی یہی ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کے مطابق نہیں ہے اور دوسرے قول کی انسان کو اختیار ہے،
جیسے چاہے کر لے۔
(3)
عصر کے بعد سنتوں کی قضائی دینے سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد سببی نماز پڑھنا جائز ہے،
اس بنا پر فرض نماز کی قضاء،
نماز جنازہ،
اور نماز طواف کے بعد سب کے نزدیک جائز ہے تو پھر تحیۃ المسجد کیوں جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1933]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1233
1233. حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن ازہر ؓ نے انہیں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم سب کی طرف سے انہیں سلام کہنا اور ان سے نماز عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق دریافت کرنا، نیز ان سے عرض کرنا کہ ہماری اطلاع کے مطابق آپ عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہمیں یہ خبر پہنچتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا کہ میں حضرت عمر فاروق ؓ کے ہمراہ یہ دو رکعتیں پڑھنے والوں کو مارتا تھا۔ حضرت کریب کہتے ہیں: میں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس گیا اور انہیں وہ خبر پہنچا دی جس کے لیے انہوں نے مجھے بھیجا تھا، حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے اس کے متعلق دریافت کرو، چنانچہ میں ان حضرات کے پاس گیا اور انہیں حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ی بات سے آگاہ کر دیا۔ پھر انہوں نے مجھے حضرت ام۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1233]
حدیث حاشیہ:
نمازی سے کوئی بات کرے اور وہ سن کر اشارہ سے کچھ جواب دے دے تو نماز فاسد نہ ہوگی۔
جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوابی اشارہ اس حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے فعل سے حسب موقع کسی خلاف شریعت کا م پر مناسب طورپر مارنا اور سختی سے منع کرنا بھی ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1233]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4370
4370. حضرت کریب مولی ابن عباس سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ، عبدلرحمٰن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ ؓ نے انہیں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ی طرف بھیجا اور کہا کہ انہیں ہم سب کی طرف سے سلام کہیں اور ان سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق سوال کریں کیونکہ ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ آپ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بھی خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عمر ؓ کے ہمراہ لوگوں کو ان دو رکعتوں کے پڑھنے کی بنا پر مارتا تھا۔ کریب کہتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں وہ پیغام پہنچایا جو ان حضرات نے مجھے دیا تھا۔ ام المومنین نے فرمایا: ان کے متعلق حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے دریافت کرو، چنانچہ میں نے ان حضرات کو حضرت ام المومنین کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ‬ ؓ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4370]
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب اس سے نکلتا ہے کہ آخر حدیث میں وفد عبد القیس کے آنے کا ذکر ہے جس دو گا نہ کا ذکر ہے یہ عصر کا دو گانہ نہ تھا بلکہ ظہر کا دو گانہ تھا۔
طحاوی کی روایت میں یہی ہے کہ میرے پاس زکوۃ کے اونٹ آئے تھے، میں ان کو دیکھنے میں یہ دوگانہ پڑھنا بھول گیا تھا۔
پھر مجھے یاد آیا تو گھر آکر تمہارے پاس ان کو پڑھ لیا۔
ابو امیہ ام المومنین ام سلمہ ؓ کے والد تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4370]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1233
1233. حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن ازہر ؓ نے انہیں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم سب کی طرف سے انہیں سلام کہنا اور ان سے نماز عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق دریافت کرنا، نیز ان سے عرض کرنا کہ ہماری اطلاع کے مطابق آپ عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہمیں یہ خبر پہنچتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا کہ میں حضرت عمر فاروق ؓ کے ہمراہ یہ دو رکعتیں پڑھنے والوں کو مارتا تھا۔ حضرت کریب کہتے ہیں: میں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے پاس گیا اور انہیں وہ خبر پہنچا دی جس کے لیے انہوں نے مجھے بھیجا تھا، حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے اس کے متعلق دریافت کرو، چنانچہ میں ان حضرات کے پاس گیا اور انہیں حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ی بات سے آگاہ کر دیا۔ پھر انہوں نے مجھے حضرت ام۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1233]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے دوران میں کسی غیر کی بات سننے اور اس کا کلام سمجھنے سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی، نیز ہاتھ کا اشارہ ایک خفیف عمل ہے، اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اس سلسلے میں ادب یہ ہے کہ نمازی سے دوران نماز میں بات کرنے والا اس کے ساتھ یا پیچھے نہ کھڑا ہو، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے خشوع میں خلل آنے کا امکان ہے۔
(فتح الباري: 138/3) (2)
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو حسب موقع خلافِ شریعت کام پر مارنا اور سختی سے منع کرنا جائز ہے اور ایسا کرنا ظلم یا زیادتی نہیں۔
(3)
عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، کیونکہ آپ نے دو رکعت پڑھنے کا آغاز بطور قضا کیا تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہمیشہ پڑھتے تھے، حالانکہ قضا صرف ایک بار پڑھی جاتی ہے۔
آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی کام کو شروع کرتے تو پھر اس پر ہمیشگی کرتے۔
(4)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نسیان طاری ہو سکتا ہے، کیونکہ حضرت ام سلمہ ؓ کے استفسار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو نسیان پر محمول کر رہی تھیں یا نسخ پر یا خصوصیت پر۔
لیکن تیسری بات ثابت ہوئی کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1233]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4370
4370. حضرت کریب مولی ابن عباس سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ، عبدلرحمٰن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ ؓ نے انہیں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ی طرف بھیجا اور کہا کہ انہیں ہم سب کی طرف سے سلام کہیں اور ان سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق سوال کریں کیونکہ ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ آپ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بھی خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عمر ؓ کے ہمراہ لوگوں کو ان دو رکعتوں کے پڑھنے کی بنا پر مارتا تھا۔ کریب کہتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں وہ پیغام پہنچایا جو ان حضرات نے مجھے دیا تھا۔ ام المومنین نے فرمایا: ان کے متعلق حضرت ام سلمہ‬ ؓ س‬ے دریافت کرو، چنانچہ میں نے ان حضرات کو حضرت ام المومنین کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ‬ ؓ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4370]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس میں قبیلہ عبدالقیس کے لوگوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا ذکر ہے۔
واضح رہے کہ وفد عبدالقیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو دفعہ حاضر ہوا۔
ایک فتح مکہ سے پہلے چار یا پانچ ہجری میں، اس وقت یہ چودہ افراد پر مشتمل تھا۔
دوسری مرتبہ وفود کے سال حاضرہوا جبکہ اس وفد میں چالیس آدمی تھے۔
پہلے وفد کی تفصیل امام نووی ؒ نے بیان کی ہے کہ قبیلہ غنم بن ودیعہ کا ایک شخص "منقذبن حیان" زمانہ جاہلیت میں یثرب میں سامان تجارت لایا کرتا تھا۔
ایک دفعہ اپنے سامان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے منقذ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا:
کیا تو منقذ بن حیان ہے؟ تیری قوم کا اکیا حال ہے؟ پھر تمام سرداروں کے متعلق دریافت کیا اور ان کے نام بھی بتائے، اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورہ فاتحہ اور﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ کی تعلیم دی۔
اسے عبدالقیس کے چند افراد کے نام ایک خط بھی لکھ کر دیا۔
جب وہ واپس آیا تو تو اس خط کو کچھ دن چھپائے رکھا بالآخراس کی بیوی کو پتہ چلا جو اشج عصری کی بیٹی تھی اپنے گھر میں منقذ نماز پڑھتا اور اس کی بیوی ان عجیب و غریب حرکات کو دیکھتی، اس نے ایک دن اپنے باپ سے ذکر کیا کہ جب سے میرا خاوند یثرب سے واپس آیا ہے تو ہاتھ پاؤں دھو کر قبلہ رخ ہو جاتا ہے، کبھی اپنے آپ کو جھکا لیتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دیتا ہے، جب اشج نے منقذ سے اس کے متعلق گفتگو کی تو اسلام کی حقانیت اس کے دل میں بیٹھ گئی۔
پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر اپنے قبیلہ عصر اور محارب کی طرف گیا خط پڑھ کر سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔
چنانچہ ایک وفد تشکیل دیا گیا جن میں سے چند افراد کے نام یہ ہیں اشج عصری، یہ اس وفد کا امیر تھا مزیدہ بن مالک محاربی، عبیدہ بن ہمام محاربی، صحار بن عباس مری، عمرو بن موحوم عصری، حارث بن شعیب عصری اور حارث بن جندب، جب یہ وفد مدینہ کے قریب پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ابھی تمھارے پاس اہل مشرق کے بہترین افراد پر مشتمل قبیلہ عبدالقیس کا وفد آنے والا ہے، اس میں اشج عصری بھی ہے۔
" (شرح صحیح مسلم للنووي: 253/1،254)
حضرت عمر ؓ ان کے استقبال کے لیے گئے اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی بشارت دی، پھر ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
(فتح الباري: 107/8)

نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے متعلق تفصیل کتاب الصلاۃ میں گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس وفد عبدالقیس کی وجہ سے اس حدیث کو یہاں پیش کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4370]