🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب النعاس في الصلاة
باب: نماز میں اونگھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 31 (787)، (تحفة الأشراف: 14721)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 184 (1372)، مسند احمد (2/218) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (787)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥همام بن منبه اليماني، أبو عقبة
Newهمام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← همام بن منبه اليماني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1836
إذا قام أحدكم من الليل فاستعجم القرآن على لسانه فلم يدر ما يقول فليضطجع
سنن أبي داود
1311
إذا قام أحدكم من الليل فاستعجم القرآن على لسانه فلم يدر ما يقول فليضطجع
سنن ابن ماجه
1372
إذا قام أحدكم من الليل فاستعجم القرآن على لسانه فلم يدر ما يقول اضطجع
صحيفة همام بن منبه
117
إذا قام أحدكم من الليل فاستعجم القرآن على لسانه فلم يدر ما يقول فليضطجع
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1311 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1311
1311. اردو حاشیہ: فائدہ: نیند کے غلبے یا مسلسل نماز وقراءت کرنے سے تھکاوٹ کے باعث بھی زبان اٹکنے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں انسان کو آرام کرلینا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1311]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1372
نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر (نیند کے غلبے کی وجہ سے) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیئے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1372]
اردو حاشہ:
فائدہ:
قرآن مشکل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اونگھ کی وجہ سے قرآن پڑھنا مشکل ہوجائے اور نیند کیوجہ سے اپنے کہے ہوئے الفاظ بھی سمجھ میں نہ آ رہے ہوں تو نماز اور تلاوت ختم کرکے سونے کے لئے لیٹ جانا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1372]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1836
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص رات کو قیام کرے اور اس کی زبان پر قراءت مشکل ہو جائے،زبان پر قراءت جاری نہ رہے (کیونکہ نیند آرہی ہے) اور اسے پتہ نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1836]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اِسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ:
قراءت میں بندش اور رکاوٹ پیدا ہو یا زبان میں روانی نہ رہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیند کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنا بند کر دینا چاہیے جب نیند کر لے تو پھر نماز پڑھ لے اور غلبہ نیند کا یہ مقصد ہے کہ زبان پر جاری ہونے والے الفاظ کا پتہ نہ رہے کہ میں نے کون سا لفظ پڑھا ہے معنی کا جاننا لازم نہیں ہے۔
اگرچہ بہتر یہی ہے کہ انسان کم از کم نماز کی دعاؤں اورعام طور پر پڑھے جانے والی سورتوں کا معنی سیکھے تاکہ نماز کے اندر خشوع وخضوع پیدا ہو اور معانی ومطالب کی طرف دھیان کیوجہ سے اس کا ذہن اِدھر اُدھر نہ بھٹکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1836]