سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب في الرخصة في ذلك
باب: سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1678
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟" قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟" قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا.
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟“، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟“، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ۱؎، تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 16 (3675)، (تحفة الأشراف:10390)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 26 (1701) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہو گا، ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1912، 6030)
أخرجه الترمذي (3675 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (1912، 6030)
أخرجه الترمذي (3675 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3675
| ما أبقيت لأهلك قلت مثله وأتى أبو بكر بكل ما عنده فقال يا أبا بكر ما أبقيت لأهلك قال أبقيت لهم الله ورسوله قلت والله لا أسبقه إلى شيء أبدا |
سنن أبي داود |
1678
| ما أبقيت لأهلك قلت مثله قال وأتى أبو بكر بكل ما عنده فقال له رسول الله ما أبقيت لأهلك قال أبقيت لهم الله ورسوله قلت لا أسابقك إلى شيء أبدا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1678 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1678
1678. اردو حاشیہ: -1جو حضرات متوکل اور دل کے غنی ہوں۔ کہ کل مال صدقہ کرنے کی وجہ سے آنے والے فقر کو بخوشی قبول اور برداشت کرسکتے ہوں۔ ان کو ایسے عمل کی رخصت ہے۔ ورنہ عام لوگوں کے لئے وہی حکم ہے۔ جو حدیث 16 76 اور اس کے فائدے میں بیان ہوا ہے۔ نیز اسی حدیث میں صاحبین کی فضیلت اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت کا بیان ہے۔
➋ یہ حدیث نیکی کے کاموں میں مسابقت اور مقابلہ کرنے پر دلالت کرتی ہے۔
➋ یہ حدیث نیکی کے کاموں میں مسابقت اور مقابلہ کرنے پر دلالت کرتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1678]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ مبشر احمد رباني حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ترمذي 3675
اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی
«. . . أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . . .»
”. . . ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں . . .“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 3675]
«. . . أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . . .»
”. . . ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں . . .“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 3675]
فوائد و مسائل
شارحین حدیث نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس جملے «ابقيت لهم الله و رسوله» کی شرح «رضا هما» سے کی ہے۔ یعنی ” اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی۔“
جیسا کہ ملا علی قاری حنفی نے مشکوٰۃ کی شرح مرقاۃ [10/ 379] اور علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوری نے تحفتہ الاحوذی [10/ 154] میں ذکر کیا ہے۔
↰ لہٰذا اسے غلط رنگ دے کر بیان کرنا درست نہیں ہے۔ ہر مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور وہی کام کرنا پسند کر تا ہے جسے اللہ نے پسند کیا یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جو مقام صدیقیت پر فائز تھے، انہوں نے بھی صدقہ کرتے وقت جو سب کچھ دے دیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی میں دیا۔ اسی طرح کہا کہ گھر میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا ہی چھوڑی ہے۔ والله اعلم!
شارحین حدیث نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس جملے «ابقيت لهم الله و رسوله» کی شرح «رضا هما» سے کی ہے۔ یعنی ” اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی۔“
جیسا کہ ملا علی قاری حنفی نے مشکوٰۃ کی شرح مرقاۃ [10/ 379] اور علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوری نے تحفتہ الاحوذی [10/ 154] میں ذکر کیا ہے۔
↰ لہٰذا اسے غلط رنگ دے کر بیان کرنا درست نہیں ہے۔ ہر مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور وہی کام کرنا پسند کر تا ہے جسے اللہ نے پسند کیا یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جو مقام صدیقیت پر فائز تھے، انہوں نے بھی صدقہ کرتے وقت جو سب کچھ دے دیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی میں دیا۔ اسی طرح کہا کہ گھر میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا ہی چھوڑی ہے۔ والله اعلم!
[احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 25]
أسلم العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي