سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب الرجلين يدعيان شيئا وليست لهما بينة
باب: دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3616]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی کسی مال کا تنازع لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لو، جس کا بھی نکل آئے، تمہیں یہ پسند ہو یا نہ۔“ (اس کا یہی حل ہے کہ جو قسم کھائے گا مال لے لے گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2329)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/489، 524) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329،2346)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329،2346)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3616
| رجلين اختصما في متاع إلى النبي ليس لواحد منهما بينة فقال النبي استهما على اليمين ما كان أحبا ذلك أو كرها |
سنن ابن ماجه |
2346
| رجلين تدارءا في بيع ليس لواحد منهما بينة فأمرهما رسول الله أن يستهما على اليمين أحبا ذلك أم كرها |
سنن ابن ماجه |
2329
| رجلين ادعيا دابة ولم يكن بينهما بينة فأمرهما النبي أن يستهما على اليمين |
Sunan Abi Dawud Hadith 3616 in Urdu
نفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي