🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب أى الرقاب أفضل
باب: کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ،عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ:" حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْرِ الطَّائِفِ، قَالَ مُعَاذٌ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بِقَصْرِ الطَّائِفِ بِحِصْنِ الطَّائِفِ كُلَّ ذَلِكَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/فضائل الجھاد 11 (1638)، سنن النسائی/الجھاد 26 (3145)، (تحفة الأشراف: 10768)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/113، 384، 386) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3873)
قتادة صرح بالسماع عند البيھقي (9/161) وأبو نجيح ھو عمرو بن سلمة رضي الله عنه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن عبسة السلمي، أبو نجيحصحابي
👤←👥معدان بن أبي طلحة اليعمري
Newمعدان بن أبي طلحة اليعمري ← عمرو بن عبسة السلمي
ثقة
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← معدان بن أبي طلحة اليعمري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1638
من رمى بسهم في سبيل الله فهو له عدل محرر
جامع الترمذي
1635
من شاب شيبة في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة
سنن أبي داود
3965
أيما رجل مسلم أعتق رجلا مسلما فإن الله جاعل وقاء كل عظم من عظامه عظما من عظام محرره من النار أيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة فإن الله جاعل وقاء كل عظم من عظامها عظما من عظام محررها من النار يوم القيامة
سنن ابن ماجه
2812
من رمى العدو بسهم فبلغ سهمه العدو أصاب أو أخطأ فعدل رقبة
سنن النسائى الصغرى
3145
من بلغ بسهم في سبيل الله فهو له درجة في الجنة فبلغت يومئذ ستة عشر سهما من رمى بسهم في سبيل الله فهو عدل محرر
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3965 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3965
فوائد ومسائل:
1) جہاد فی سبیل اللہ میں ایک تیرمارنا، ایک گولی چلانا یا ایک گولہ پھینکنا بھی بہت بڑی فضیلت اوردرجہ کا باعث ہے۔

2) غلام اور لونڈی کو آزاد کرنا فضیلت ہے، مگر وہ مسلمان ہوتو بہت افضل ہے اور مذکورہ ضمانت حاصل کرنے کا ایک عمدہ ذریعہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3965]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3145
اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو (اس کا) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3145]
اردو حاشہ:
تیر پہنچانے اور تیر چلانے میں مفہوم کے لحاظ سے بھی ترقی ہے اور ثواب کے لحاظ سے بھی۔ تیر چلانے سے مراد تو تیر پھینکا ہے، خواہ دشمن تک پہنچے یا نہ پہنچے، کسی کو لگے یا نہ لگے۔ تیر پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ تیر صحیح نشانے پر لگے اور جس مقصد کے لیے چلایا گیا ہے، وہ مقصد پورا ہو۔ ظاہر ہے دونوں میں بہت فرق ہے، لہٰذا اجروثواب میں بھی بہت فرق ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3145]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2812
اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2812]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تیر چلانے کا اصل مقصد جنگ میں دشمن کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے لیکن اگر کسی کا پھینکا ہوا تیر کسی دشمن کو زخمی یا ہلاک نہ کرسکے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ مجھے اس کا ثواب نہیں ملے گا۔

(2)
نیت صحیح ہوتو نامکمل کام بھی ثواب سے خالی نہیں ہوتا۔

(3)
میزائل بم اور توپ کے گولے کا بھی یہی حکم ہے اگر وہ نشانے پر نہ لگ سکے تو ہتھیار چلانے والے کو ثواب ملتا ہے کیونکہ اس کی کوشش اور نیت ٹارگٹ (نشانے)
کو تباہ کرنے کی ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2812]