سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : ثواب من رمى بسهم في سبيل الله عز وجل
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ" , فَبَلَّغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ".
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا“ تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو (اس کا) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3145]
حضرت ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر (دشمن تک) پہنچایا، اسے جنت میں ایک درجہ حاصل ہو جائے گا۔“ میں نے اس دن سولہ تیر دشمنوں تک پہنچائے، نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر چلائے تو اسے غلام کے آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 14 (3965) مطولا، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1638) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10768)، مسند احمد (4/113، 384) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1638
| من رمى بسهم في سبيل الله فهو له عدل محرر |
جامع الترمذي |
1635
| من شاب شيبة في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة |
سنن أبي داود |
3965
| أيما رجل مسلم أعتق رجلا مسلما فإن الله جاعل وقاء كل عظم من عظامه عظما من عظام محرره من النار أيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة فإن الله جاعل وقاء كل عظم من عظامها عظما من عظام محررها من النار يوم القيامة |
سنن ابن ماجه |
2812
| من رمى العدو بسهم فبلغ سهمه العدو أصاب أو أخطأ فعدل رقبة |
سنن النسائى الصغرى |
3145
| من بلغ بسهم في سبيل الله فهو له درجة في الجنة فبلغت يومئذ ستة عشر سهما من رمى بسهم في سبيل الله فهو عدل محرر |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3145 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3145
اردو حاشہ:
تیر پہنچانے اور تیر چلانے میں مفہوم کے لحاظ سے بھی ترقی ہے اور ثواب کے لحاظ سے بھی۔ تیر چلانے سے مراد تو تیر پھینکا ہے، خواہ دشمن تک پہنچے یا نہ پہنچے، کسی کو لگے یا نہ لگے۔ تیر پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ تیر صحیح نشانے پر لگے اور جس مقصد کے لیے چلایا گیا ہے، وہ مقصد پورا ہو۔ ظاہر ہے دونوں میں بہت فرق ہے، لہٰذا اجروثواب میں بھی بہت فرق ہے۔
تیر پہنچانے اور تیر چلانے میں مفہوم کے لحاظ سے بھی ترقی ہے اور ثواب کے لحاظ سے بھی۔ تیر چلانے سے مراد تو تیر پھینکا ہے، خواہ دشمن تک پہنچے یا نہ پہنچے، کسی کو لگے یا نہ لگے۔ تیر پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ تیر صحیح نشانے پر لگے اور جس مقصد کے لیے چلایا گیا ہے، وہ مقصد پورا ہو۔ ظاہر ہے دونوں میں بہت فرق ہے، لہٰذا اجروثواب میں بھی بہت فرق ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3145]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3965
کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے؟
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے“ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ”جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3965]
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے“ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ”جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3965]
فوائد ومسائل:
1) جہاد فی سبیل اللہ میں ایک تیرمارنا، ایک گولی چلانا یا ایک گولہ پھینکنا بھی بہت بڑی فضیلت اوردرجہ کا باعث ہے۔
2) غلام اور لونڈی کو آزاد کرنا فضیلت ہے، مگر وہ مسلمان ہوتو بہت افضل ہے اور مذکورہ ضمانت حاصل کرنے کا ایک عمدہ ذریعہ ہے۔
1) جہاد فی سبیل اللہ میں ایک تیرمارنا، ایک گولی چلانا یا ایک گولہ پھینکنا بھی بہت بڑی فضیلت اوردرجہ کا باعث ہے۔
2) غلام اور لونڈی کو آزاد کرنا فضیلت ہے، مگر وہ مسلمان ہوتو بہت افضل ہے اور مذکورہ ضمانت حاصل کرنے کا ایک عمدہ ذریعہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3965]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2812
اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2812]
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2812]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تیر چلانے کا اصل مقصد جنگ میں دشمن کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے لیکن اگر کسی کا پھینکا ہوا تیر کسی دشمن کو زخمی یا ہلاک نہ کرسکے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ مجھے اس کا ثواب نہیں ملے گا۔
(2)
نیت صحیح ہوتو نامکمل کام بھی ثواب سے خالی نہیں ہوتا۔
(3)
میزائل بم اور توپ کے گولے کا بھی یہی حکم ہے اگر وہ نشانے پر نہ لگ سکے تو ہتھیار چلانے والے کو ثواب ملتا ہے کیونکہ اس کی کوشش اور نیت ٹارگٹ (نشانے)
کو تباہ کرنے کی ہوتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
تیر چلانے کا اصل مقصد جنگ میں دشمن کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے لیکن اگر کسی کا پھینکا ہوا تیر کسی دشمن کو زخمی یا ہلاک نہ کرسکے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ مجھے اس کا ثواب نہیں ملے گا۔
(2)
نیت صحیح ہوتو نامکمل کام بھی ثواب سے خالی نہیں ہوتا۔
(3)
میزائل بم اور توپ کے گولے کا بھی یہی حکم ہے اگر وہ نشانے پر نہ لگ سکے تو ہتھیار چلانے والے کو ثواب ملتا ہے کیونکہ اس کی کوشش اور نیت ٹارگٹ (نشانے)
کو تباہ کرنے کی ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2812]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3145 in Urdu
معدان بن أبي طلحة اليعمري ← عمرو بن عبسة السلمي