سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب خروج الدجال
باب: دجال کے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4324
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ يَعْنِي عِيسَى، وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ، فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اور ان یعنی عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں، یقیناً وہ اتریں گے، جب تم انہیں دیکھنا تو پہچان لینا، وہ ایک درمیانی قد و قامت کے شخص ہوں گے، ان کا رنگ سرخ و سفید ہو گا، ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے، ایسا لگے گا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے گو وہ تر نہ ہوں گے، تو وہ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے، صلیب توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے اور جزیہ معاف کر دیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے سارے مذاہب کو ختم کر دے گا، وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے، پھر اس کے بعد دنیا میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے، پھر ان کی وفات ہو گی تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4324]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے، اور وہ اترنے والے ہیں، جب تم انہیں دیکھو گے تو پہچان جاؤ گے کہ درمیانی قامت والے ہیں اور رنگ ان کا سرخ و سفید ہو گا، ہلکے زرد رنگ کے لباس میں ہوں گے، ایسے محسوس ہو گا جیسے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو، حالانکہ نمی (پانی) لگا نہیں ہو گا۔ (انتہائی نظیف اور چمکدار رنگ کے ہوں گے) وہ لوگوں سے اسلام کے لیے قتال کریں گے، صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ دیگر سب دینوں کو ختم کر دے گا۔ وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال رہیں گے، پھر ان کی وفات ہو گی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13589)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/406، 437) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
قتادة صرح بالسماع عند أحمد (2/437)
قتادة صرح بالسماع عند أحمد (2/437)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن آدم البصري عبد الرحمن بن آدم البصري ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← عبد الرحمن بن آدم البصري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر همام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة | |
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد هدبة بن خالد القيسي ← همام بن يحيى العوذي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4324
| عيسى وإنه نازل فإذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع إلى الحمرة والبياض بين ممصرتين كأن رأسه يقطر وإن لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الإسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها إلا الإسلام ويهلك المسيح الدجال |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4324 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4324
فوائد ومسائل:
سیدنا عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں۔
اللہ تعالی نے انہیں یہودیوں کے مکرو فریب اور حملے سے محفوظ فرما کر آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔
یہ مضمون صریح اور صحیح احادیث کے علاوہ قرآن مجید میں بھی بیان ہو ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: (وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ) انھوں نے نہ انھیں قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا؛ بلکہ انہیں شبے میں ڈال دیا گیا۔
(بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ) بلکہ اللہ تعالٰی نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
(النساء 158) اسی طرح سورۃ آلِ عمران آیت 55 میں بھی ہے۔
پھر قیامت کے قریب جب دجال کا ظہور ہوگا حضرت عیسیٰ ؑ کا دمشق میں ظہور ہوگا دجال کو قتل کریں گے۔
انکا نزول احادیثِ صحیحہ کے علاوہ قرآن مجید میں بھی وارد ہے ارشادِ باری تعالی ٰ ہے: (وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا) اور بلا شبہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کی علامات میں سے ہیں تو اس میں ہرگز شبہ نہ کریں۔
الزخرف 61 اور دوسرے مقام پر فرمایا: (وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا) اور اہلِ کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہیں بچے گا جو حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہونگےز النساء 159 اور یہ اعتراض کہ نبورت ختم ہو چکی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کو ئی بنی نہیں تو اس کا جواب ان احادیث میں مذکور ہے کہ آنجناب شریعتِ محمدیہ کی تنفیذ ہی فرمائیں گےز جیسے کہ سیدنا موسٰی ؑ کے بارے میں فرمایا گیاز اگر موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو تا۔
(مسند ذحمد: 3 /387)
سیدنا عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں۔
اللہ تعالی نے انہیں یہودیوں کے مکرو فریب اور حملے سے محفوظ فرما کر آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔
یہ مضمون صریح اور صحیح احادیث کے علاوہ قرآن مجید میں بھی بیان ہو ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: (وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ) انھوں نے نہ انھیں قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا؛ بلکہ انہیں شبے میں ڈال دیا گیا۔
(بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ) بلکہ اللہ تعالٰی نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
(النساء 158) اسی طرح سورۃ آلِ عمران آیت 55 میں بھی ہے۔
پھر قیامت کے قریب جب دجال کا ظہور ہوگا حضرت عیسیٰ ؑ کا دمشق میں ظہور ہوگا دجال کو قتل کریں گے۔
انکا نزول احادیثِ صحیحہ کے علاوہ قرآن مجید میں بھی وارد ہے ارشادِ باری تعالی ٰ ہے: (وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا) اور بلا شبہ حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کی علامات میں سے ہیں تو اس میں ہرگز شبہ نہ کریں۔
الزخرف 61 اور دوسرے مقام پر فرمایا: (وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا) اور اہلِ کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہیں بچے گا جو حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہونگےز النساء 159 اور یہ اعتراض کہ نبورت ختم ہو چکی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کو ئی بنی نہیں تو اس کا جواب ان احادیث میں مذکور ہے کہ آنجناب شریعتِ محمدیہ کی تنفیذ ہی فرمائیں گےز جیسے کہ سیدنا موسٰی ؑ کے بارے میں فرمایا گیاز اگر موسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو تا۔
(مسند ذحمد: 3 /387)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4324]
Sunan Abi Dawud Hadith 4324 in Urdu
عبد الرحمن بن آدم البصري ← أبو هريرة الدوسي