سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في من نام عن الصلاة أو نسيها
باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَهَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ عَنِ الصُّبْحِ، حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَنَحَّوْا عَنْ هَذَا الْمَكَانِ، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ فجر میں سوئے رہ گئے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: ”اس جگہ سے کوچ کر چلو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 444]
جناب زبرقان نے اپنے چچا سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت میں سوئے رہے حتیٰ کہ سورج نکل آیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے تو فرمایا: ”اس جگہ سے دور ہو چلو۔“ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی۔ پھر سب نے وضو کیا اور فجر کی سنتیں پڑھیں۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10703)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/91، 139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
444
| تنحوا عن هذا المكان قال ثم أمر بلالا فأذن ثم توضئوا وصلوا ركعتي الفجر ثم أمر بلالا فأقام الصلاة فصلى بهم صلاة الصبح |
Sunan Abi Dawud Hadith 444 in Urdu
الزبرقان بن عمرو الضمري ← عمرو بن أمية الضمري