🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1608. ‏(‏53‏)‏ باب ذكر البيان أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما أراد بالنجدة والرسل- فى هذا الموضع- العسر واليسر،
اس بات کا بیان کہ اس حدیث میں مذکورہ الفاظ «‏‏‏‏النَّجْدَۃِ» ‏‏‏‏ اور «‏‏‏‏الرِّسْلِ» ‏‏‏‏ سے مرادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تنگدستی اور خوشحالی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2322
وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا أَيْ‏:‏ وَفِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا
اور آپ کے اس فرمان «‏‏‏‏مِنْ نَجْدَتِھَا وَرِسْلِھَا» ‏‏‏‏ سے آپ کی مراد «‏‏‏‏فِیْ نَجْدَتِھَا وَرِسْلِھَا» ‏‏‏‏ یعنی تنگدستی اور خوشحالی میں ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: Q2322]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقِيلَ: هَذَا مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالا، فَدَعَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكِ، فَقَالَ: نَعَمْ، لِي مِائَةُ حُمُرٍ أَوْ لِي مِائَةُ أَدَمٍ، وَلِي كَذَا وَكَذَا مِنَ الْغَنَمِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِيَّاكَ وَإِخْفَافَ الإِبِلِ، وَإِيَّاكَ وَإِظْلافَ الْغَنَمِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ لَهُ إِبِلٌ لا يُؤَدِّي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، إِلا بَرَزَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَجَاءَتْهُ كَأَفَذِّ مَا يَكُونُ وَأَشَدُّهُ، مَا أَسْمَنَهُ أَوْ أَعْظَمَهُ شَكَّ شُعْبَةُ، فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا , كُلَّمَا جَازَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ لَهُ غَنَمٌ، لا يُؤَدِّي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَنَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا، عُسْرُهَا وَيُسْرُهَا، إِلا بَرَزَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَفَذِّ مَا يَكُونُ وَأَشَدُّهُ وَأَسْمَنَهُ وَأَعْظَمَهُ شَكَّ شُعْبَةُ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا جَازَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَرَى سَبِيلَهُ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ بَقَرٌ لا يُؤَدِّي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَنَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا، عُسْرُهَا وَيُسْرُهَا، إِلا بَرَزَ لَهُ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَفَذِّ مَا يَكُونُ، وَأَشَدُّهُ وَأَسْمَنَهُ أَوْ أَعْظَمَهُ شَكَّ شُعْبَةُ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا جَازَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ" ، فَقَالَ لَهُ الْعَامِرِيُّ: وَمَا حَقُّ الإِبِلِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: تُعْطِي الْكَرِيمَةَ، وَتَمْنَحُ الْعَزِيزَةَ، وَتُفْقِرُ الظُّهْرَ، وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ، وَتَسْقِي اللَّبَنَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ شُعْبَةَ
جناب ابوعمرالغدانی رحمه الله سے روایت ہے کہ بنی عامر کا ایک شخص ان کے پاس سے گزرا تو کہا گیا کہ یہ سب سے زیادہ مالدارشخص ہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُسے بلایا اور اُس سے اُس کے بارے میں پوچھا تو اُس شخص نے جواب دیا کہ جی ہاں، میرے پاس سو بہترین سرخ اونٹ ہیں یا میرے پاس سو خاکستری اونٹ ہیں اور میرے پاس اتنی اتنی بکریاں ہیں۔ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خبردار، اونٹوں کے پاؤں اور بکریوں کے کھروں (تلے روندیں جانے) سے بچنا۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو انہیں ایک چٹیل میدان میں لایا جائیگا۔ وہ خوب موٹے تازہ اور فربہ ہوکر آئیںگے اور اس شخص کو اپنے قدموں تلے روندیںگے۔ جب بھی آخری اونٹ گزرجائیگا تو پہلا اونٹ اُس پر واپس آئیگا۔ (یہ عذاب مسلسل) پچاس ہزار سال والے دن میں ہوتا رہیگا حتّیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائیگا تو یہ شخص بھی اپنا راستہ دیکھ لیگا۔ اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا (تنگی اور خوشحالی میں) تو انہیں ایک ہموار میدان میں جمع کیا جائیگا وہ بہت زیادہ فربہ حالت میں آئیںگی تو اس شخص کو اپنے کھروں کے ساتھ روندیںگی اور سینگوں کے ساتھ ٹکریں ماریںگی۔ جب بھی آخری بکری گزرجائیگی تو پہلی بکری اس پر لوٹ آئیگی۔ (اسے یہ عذاب مسلسل ہوتا رہیگا) اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے حتّیٰ کہ لوگوں کے درمیاں فیصلہ کردیا جائے تو یہ شخص بھی اپنا راستہ (جنّت یا جہنّم کر طرف) دیکھ لیگا۔ اور جو شخص بھی گائیوں کا مالک ہو اور وہ تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا اس سے مراد تنگی اور خوشحالی ہے، تو انہیں ایک بالکل ہموار میدان میں جمع کیا جائیگا وہ خوب موٹی تازی، چاک چوبند اور فربہ حالت میں آئیںگی تو اسے اپنے قدموں تلے روندیںگی اور اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریںگی۔ جب بھی آخری گائے گزر جائیگی تو پہلی گائے اس پر لوٹ آئیگی۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائیگا تو یہ شخص اپناراستہ (جنّت یا جہنّم) کی طرف دیکھ لیگا۔ تو بنی عامر کے شخص نے عرض کی کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تو اپنی بہترین اونٹنی دیدے اور اپنی دودھ والی اونٹنی دودھ پینے کے لئے دیدے اور کسی (ضرورت مند کو) سواری کے لئے اونٹ دیدے، جفتی کے لئے نر اونٹ دیدے اور (غرباء کو) دودھ پلادے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امام شعبہ سے صرف یزید بن ہارون ہی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2322]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، 1443، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، ومالك فى (الموطأ) برقم: 887، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، 2253، 2254، 2291، 2321، 2322، 2437، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، 2788، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو عمر الغداني، أبو عمرو، أبو عمر
Newأبو عمر الغداني ← أبو هريرة الدوسي
مقبول
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أبو عمر الغداني
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل
Newعبدة بن عبد الله الخزاعي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2322 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2322
فوائد:
یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ تنگی و خوشحالی میں، جس مال پر زکوۃ واجب ہو اس کی زکوۃ نکالنا واجب ہے اور اس عمل میں خیر و برکت ہے۔
بصورت دیگر زکوۃ کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا اور عدم ادائیگی کی صورت میں روز قیامت مانعین زکوۃ کا بہت بُرا حشر ہو گا اور یہی مال جسے دنیا میں وہ سنبھال سنبھال کر رکھتے ہوں گے، روز قیامت ان کے لیے عذاب کا باعث بنے گا۔
لہذا دنیا میں انسان یہ بوجھ اتار دے تو آخرت میں اس فریضہ کی ادائیگی اس کی نجات کا باعث بھی ہو گی اور وہ شخص اس دن کی ذلت و رسوائی سے بھی محفوظ رہے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2322]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2322 in Urdu