الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
48. باب ما ورد فى طهارة المني وحكمه رطبا ويابسا
باب: تر یا خشک منی کے پاک ہونے اور اس کے حکم کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
ترقیم العلمیہ : 440 ترقیم الرسالہ : -- 447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الأَزْهَرِ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ، قَالَ: إِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُخَاطِ وَالْبُزَاقِ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَمْسَحَهُ بِخِرْقَةٍ أَوْ بِإِذْخِرَةٍ" . لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، ثِقَةٌ فِي حِفْظِهِ شَيْءٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں پر منی لگ جانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”یہ بلغم اور تھوک کی طرح ہے، تمہارے لیے اتنا کافی ہو گا، تم اسے کسی کپڑے یا گھاس کے ذریعے صاف کر لو۔“ صرف اسحاق نامی راوی نے اس روایت کو ”مرفوع“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 447]
ترقیم العلمیہ: 440
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4241، 4242، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 447، 448، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 1437، 1438، 1440، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 928، 929، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11013، 11321»
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي