المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. تواضعه صلى الله عليه وسلم
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تواضع
حدیث نمبر: 2992
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ في قوله: ﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾ [الإسراء: 71] قال:"يُدعَى أحدُهم فيُعطَى كتابَه بيمينه، ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا، قال: ويُبيَّضُ وجهُه، ويُجعَلُ على رأسه تاجٌ من لؤلؤ يَتلَالأُ، قال: فيَنطلِقُ إلى أصحابه، فيَرَونَه من بعيد، فيقولون: اللهمَّ ائتِنا به وبارِكْ لنا في هذا، حتى يأتيَهم فيقول: أَبشِروا، إِنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا، وأمَّا الكافرُ فيُسوَّدُ وجهُه ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا؛ على صورة آدم، فيراه أصحابُه فيقولون: نعوذُ بالله من شرِّ هذا، اللهمَّ لا تأتِنا به، قال: فيأتيهم فيقولون: اللهمَّ أخِّرُه، قال: فيقول: أَبعَدَكم اللهُ، فإنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2955 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2955 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ” یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِھِمْ “ کے متعلق فرمایا: ان میں سے ایک کو بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم ساٹھ ہاتھ تک لمبا کر دیا جائے گا، اس کے چہرے کو روشن کر دیا جائے گا اور اس کے سر پر چمکدار موتیوں والا تاج پہنایا جائے گا، آپ فرماتے ہیں: وہ چل کر اپنے ساتھیوں کی طرف آئے گا تو وہ اس کو دُور سے دیکھ کر کہیں گے: یا اللہ! اس کو ہمارے پاس بھیج دے اور ہمیں اس میں برکت عطا فرما۔ وہ ان کے پاس آ جائے گا اور کہے گا: تمہیں خوشخبری ہو کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے اسی کی مثل ہے اور جو کافر ہے اس کا چہرہ سیاہ کر دیا جائے گا اور اس کا جسم ساٹھ ہاتھ تک آدم کی صورت میں لمبا کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھی اس کو دیکھ کر پناہ مانگیں گے اور کہیں گے: اے اللہ! یہ ہمارے پاس نہ آئے (آپ فرماتے ہیں) وہ ان کے پاس آئے گا، وہ کہیں گے: یا اللہ! اس کو ہم سے دُور کر دے، وہ کہے گا: اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے اسی کی مثل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2992]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2992 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة - صدوق حسن الحديث وقد تفرد بالرواية عن أبيه، وأبوه تابعي، ذكره ابن حبان في "الثقات" ولم يؤثر جرحه عن أحد. وأخرجه الترمذي (3136) عن عبد الله بن عبد الرحمن - وهو الدارمي - عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد. وحسَّنه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سدی (جو اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ ہیں) "صدوق" اور "حسن الحدیث" ہیں، اور وہ اپنے والد سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ ان کے والد تابعی ہیں جنہیں ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور کسی سے ان پر جرح منقول نہیں ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3136) نے عبد اللہ بن عبد الرحمن (جو الدارمی ہیں)، عن عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اسے "حسن" کہا ہے۔
وأخرجه ابن حبان في "صحيحه" (7349) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن إسرائيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے اپنی "صحیح" (7349) میں عبد الرحمن بن مہدی، عن اسرائیل کے طریق سے روایت کیا ہے۔