🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. تَوَاضُعُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تواضع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2985
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ اقرأ ﴿فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ﴾ [يوسف: 50] ، قال:"لو بُعِثَ إلىَّ لأسرعتُ الإجابةَ وما ابتَغيتُ العُذْرَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2948 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۂ یوسف کی آیت نمبر 50 کی یوں) تلاوت کی: (فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللَّاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ) پھر آپ نے فرمایا: اگر میری طرف پیغام آتا تو میں فوراً مان لیتا اور کوئی عذر نہ ڈھونڈتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2985]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2986
أخبرني الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا أبو العبَّاس أحمد بن محمد، حدثنا هارون بن حاتم، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي حمّاد، حدثني إسحاق بن يوسف، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول لعليٍّ:"يا عليُّ، الناسُ من شجرٍ شَتَّى، وأنا وأنت من شجرةٍ واحدةٍ"، ثم قرأ رسول الله: ﷺ ﴿وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ (1) وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ﴾ [الرعد: 4] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يًخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2949 - لا والله هارون هالك
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی رضی اللہ عنہ: تمام لوگ مختلف درختوں سے ہیں جبکہ میں اور تو ایک ہی درخت سے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ الرعد کی آیت نمبر 4) تلاوت کی وَ جَنَّاتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَ غَیْرُ صِنْوَانٍ تُسْقَی بِمَآئٍ وَاحِد ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2986]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2987
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرِّقِّي، حدثنا أَبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرِّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن الأعمش، عن أبي صالح عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ: ﴿وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ﴾ [الرعد: 4] ؛ بالنون (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2950 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ رعد کی آیت نمبر 4: وَ نُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الْاُکُلِ (میں نفضل پر) نون پڑھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2987]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2988
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح، حدثنا الليث بن سعد، عن زِيادةَ بن محمد، عن محمد بن كعب الأنصاري، عن فَضَالة بن عُبيد الأنصاري، عن أبي الدرداء: أنَّ رسول الله ﷺ قال: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ [الرعد: 39] ؛ مخفّفة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2951 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ رعد کی آیت 39: یَمْحُو اللّٰہُ مَا یَشَآئُ وَ یُثْبِت (میں یُثْبِت کی باء کو) مخففہ یعنی بغیر تشدید کے پڑھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2988]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2989
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيِّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، قال: سمعتُه (2) يقول: سمعت القاسمَ بن رَبِيعة يقول: سمعتُ سعدًا يقرأ: (ما نَنسَخ من آيةٍ أو تَنسَها (3) ( [البقرة: 106] ، قال: فقلت: إنَّ سعيدًا يقرؤُها: ﴿أَوْ نُنْسِهَا﴾، قال: فقال: إنَّ القرآنَ لم يُنزَّلُ على المسيّب ولا على ابنه؛ قال: وحِفْظي أنه قرأ: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [الأعلى: 6] ، ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [الكهف: 24] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2952 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قاسم بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو (سورۃ بقرۃ کی آیت نمبر 106 یوں) پڑھتے سُنا ہے: مَا نَنْسَخْ مِنْ ااٰایَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا قاسم کہتے ہیں: میں نے کہا: سعید تو اس کو اَوْ نُنْسِھَا پڑھا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: قرآن پاک نہ تو مسیّب پر نازل ہوا ہے اور نہ اس کے بیٹے پر۔ انہوں نے کہا: جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے (سورۃ الاعلیٰ کی آیت 6 کی یوں) تلاوت کی: سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی اور (سورۂ کھف کی آیت نمبر 24 کی یوں) تلاوت کی: وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2989]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2990
أخبرني أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا بكَّار بن محمد بن عبد الله، حدثنا محمد بن عبد العزيز، حدثنا أبو الزِّناد، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن زيد بن ثابت، أنَّ النبي ﷺ قال:"أُنزِلَ القرآنُ بالتفخيم" كهيئةِ: (عُذْرًا أَوْ نُذُرًا) [المرسلات: 6] ، و (الصُّدُفَينِ) [الكهف: 96] ، ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْر﴾ [الأعراف: 54] وأشباهِها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، لم يُخرجاه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن پاک تفخیم کے ساتھ اُترا (جیسے): کَھَیْئَۃِ الطَّیْر (آل عمران: 39) اور عُذْرًا اَوْ نُذْرًا (المرسلات: 6) اور وَالصَّدَفَیْن (الکھف: 96) اور اَلا لَہُ الْخَلْق وَالاَمْرُ (الاعراف: 54) اور اس جیسی دیگر آیات۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2990]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2991
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد، حدثنا أبو الشَّعثاء، حدثنا خالد بن نافع الأشعَري، عن سعيد ابن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن أبي موسى، عن النبي ﷺ قال:"إذا اجتَمعَ أهلُ النار في النار ومعهم من أهل القِبْلة مَن شاء الله، قالوا: ما أَغنَى عنكم إسلامُكم، وقد صِرتُم معنا في النار! قالوا: كانت لنا ذنوبٌ فأُخِذنا بها، فسمع الله ما قالوا، قال: فأَمَرَ بمن كان في النار من أهل القِبْلة فأُخرِجوا، قال: فقال: الكفار يا ليتَنا كنا مسلمين فنُخرَجَ كما أُخرجوا"، قال: وقرأ رسول الله ﷺ: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ (1) رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ﴾ [الحجر: 1 - 2] ؛ مثقلة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2954 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمام جہنمی، جہنم میں جمع ہو جائیں گے اور ان کے ہمراہ کچھ اہل قبلہ بھی ہوں گے تو (کفار) ان اہلِ قبلہ سے کہیں گے: تمہارے اسلام نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیا (اور آج) تم بھی ہمارے ہمارہ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے: ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہماری پکڑ ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گفتگو سُن لے گا۔ پھر جتنے بھی اہلِ قبلہ جہنم میں ہوں گے ان کو جہنم سے نکال لینے کا حکم دے گا اور ان کو نکال لیا جائے گا پھر کفار کہیں گے: کاش ہم بھی مسلمانوں کے ساتھ ہوتے تو آج ہمیں بھی نکال لیا جاتا جیسے ان کو نکال لیا گیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ الحجر کی پہلی دو آیتیں): الٓرٰ تِلْکَ ٰایٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُبِیْنٍ رُبَّمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ (الحجر: 1,2) (اس میں رُبَّمَا پر) تشدید پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2991]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2992
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ في قوله: ﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾ [الإسراء: 71] قال:"يُدعَى أحدُهم فيُعطَى كتابَه بيمينه، ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا، قال: ويُبيَّضُ وجهُه، ويُجعَلُ على رأسه تاجٌ من لؤلؤ يَتلَالأُ، قال: فيَنطلِقُ إلى أصحابه، فيَرَونَه من بعيد، فيقولون: اللهمَّ ائتِنا به وبارِكْ لنا في هذا، حتى يأتيَهم فيقول: أَبشِروا، إِنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا، وأمَّا الكافرُ فيُسوَّدُ وجهُه ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا؛ على صورة آدم، فيراه أصحابُه فيقولون: نعوذُ بالله من شرِّ هذا، اللهمَّ لا تأتِنا به، قال: فيأتيهم فيقولون: اللهمَّ أخِّرُه، قال: فيقول: أَبعَدَكم اللهُ، فإنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2955 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد یَوْمَ نَدْعُو کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِھِمْ کے متعلق فرمایا: ان میں سے ایک کو بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم ساٹھ ہاتھ تک لمبا کر دیا جائے گا، اس کے چہرے کو روشن کر دیا جائے گا اور اس کے سر پر چمکدار موتیوں والا تاج پہنایا جائے گا، آپ فرماتے ہیں: وہ چل کر اپنے ساتھیوں کی طرف آئے گا تو وہ اس کو دُور سے دیکھ کر کہیں گے: یا اللہ! اس کو ہمارے پاس بھیج دے اور ہمیں اس میں برکت عطا فرما۔ وہ ان کے پاس آ جائے گا اور کہے گا: تمہیں خوشخبری ہو کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے اسی کی مثل ہے اور جو کافر ہے اس کا چہرہ سیاہ کر دیا جائے گا اور اس کا جسم ساٹھ ہاتھ تک آدم کی صورت میں لمبا کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھی اس کو دیکھ کر پناہ مانگیں گے اور کہیں گے: اے اللہ! یہ ہمارے پاس نہ آئے (آپ فرماتے ہیں) وہ ان کے پاس آئے گا، وہ کہیں گے: یا اللہ! اس کو ہم سے دُور کر دے، وہ کہے گا: اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے اسی کی مثل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2992]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں