المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1153. دعاء النبى للأنصار ولأبناء الأنصار
نبی کریم ﷺ کی انصار اور انصار کے بیٹوں کے لیے دعا
حدیث نمبر: 7153
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدَّثنا يحيى بن أبي طالب، حدَّثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدَّثنا سعيدٌ بن أبي عَرُوبة، عن قَتادةَ، عن أنس بن مالك قال: افتخرَ الحيَّانِ من الأنصار الأوسُ والخزرجُ، فقالتِ الأوسُ: مِنَّا مَن اهتزَّ لموته عرشُ الرحمن سعدُ بن معاذ، ومِنَّا من حَمَتْه الدَّبْرُ عاصمُ بن ثابت بن الأَقلَح، ومِنَّا مَن غسَّلته الملائكةُ حنظلةُ ابن الراهب، ومِنَّا من أُجيزت شهادتُه بشهادةِ رجلينِ خُزيمةُ بن ثابت. وقال الخزرجيُّون: مِنَّا أربعةٌ جمعوا القرآنَ لم يجمعه غيرُهم: أُبيُّ بن كعب، ومعاذُ بن جبل، وزيدُ بن ثابت، وأبو زيد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6977 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6977 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انصار کے دو قبیلوں ” اوس “ اور ” خزرج “ نے فخر کیا۔ اوس نے کہا: * ہم میں وہ شخصیت ہے جس کی موت پر اللہ تعالیٰ کا عرش بھی ہل گیا تھا، وہ ہیں ” سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ۔ * اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کا دفاع بھڑوں نے کیا۔ اور وہ ہے سیدنا عاصم بن ثابت بن افلح رضی اللہ عنہ۔ * اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کو فرشتوں نے غسل دیا تھا، وہ سیدنا حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ ہیں۔ * ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کی اکیلے کی گواہی دو کے برابر قرار دی گئی ہے، وہ ہیں ” سیدنا خزیمہ بن ثابت۔“ خزرجی لوگ کہنے لگے: * وہ چاروں صحابی ہم میں سے ہیں جنہوں نے قرآن کریم جمع کیا ہے، ان کے علاوہ اور کوئی شخص اس کام میں شامل نہیں تھا۔ وہ چاروں صحابہ کرام یہ تھے ” سیدنا ابی بن کعب، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہم۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7153]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7153 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند "قوی" (مضبوط) ہے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (7090)، وأبو يعلى (2953)، والحكيم الترمذي في "النوادر" (65)، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" 10/ 374 و 14/ 222، والطبراني في "الكبير" (3488)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2226)، وفي "دلائل النبوة" (420)، وابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 140، وابن عساكر 16/ 368 و 368 - 369، والضياء في "المختارة" 7/ (2570 - 2572) من طرق عن عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار (7090)، ابو یعلیٰ (2953)، طحاوی، طبرانی، ابو نعیم، ابن عبدالبر اور ابن عساکر وغیرہ نے عبدالوہاب بن عطاء الخفاف کے مختلف طرق سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 21/ (13441) عن عبد الوهاب بن عطاء، عن سعيد، عن قَتادةَ، عن أنس قال: جمع القرآن على عهد رسول الله ﷺ أربعة نفر، كلهم من الأنصار: أبي بن كعب، ومعاذ بن جبل، وزيد بن ثابت، وأبو زيد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (13441) نے عبدالوہاب بن عطاء از سعید بن ابی عروبہ از قتادہ بن دعامہ از حضرت انس کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چار افراد نے قرآن جمع کیا تھا اور وہ سب کے سب انصاری تھے: حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابو زید رضی اللہ عنہم۔
وأخرج أحمد (13454)، وكذا مسلم (2467) عن محمد بن عبد الله الرزي، كلاهما (أحمد ومحمد) عن عبد الوهاب، عن سعيد، قال قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ النبي ﷺ قال وجنازة سعد موضوعة: "اهتزَّ لها عرشُ الرحمن".
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (13454) اور امام مسلم (2467) نے محمد بن عبداللہ الرزی کے طریق سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازے کے وقت فرمایا: "اس (سعد) کے لیے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے"۔
وسيأتي مختصرًا بقصة خُزيمة بن ثابت برقم (7233)، وهذه القصة سلفت من حديث خزيمة نفسه برقم (2218).
📝 نوٹ / توضیح: حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا واقعہ مختصراً آگے نمبر (7233) پر آئے گا، جبکہ یہ قصہ خود حضرت خزیمہ کی مسند میں نمبر (2218) پر گزر چکا ہے۔
وأخرج ابن حبان (7032) من طريق شعبة، عن قَتادةَ عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قال وجنازةُ سعد موضوعة: "اهتزَّ لها عرشُ الرحمن "فطفق المنافقون في جنازته، وقالوا: ما أخفَّها، فبلغ ذلك النبي ﷺ، فقال: "إنما كانت تحمله الملائكةُ معهم".
📖 حوالہ / مصدر: ابن حبان (7032) نے شعبہ از قتادہ از حضرت انس کی سند سے روایت کیا کہ جب حضرت سعد کا جنازہ رکھا گیا تو منافقین کہنے لگے کہ یہ کتنا ہلکا ہے! نبی ﷺ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے تو فرشتے اٹھائے ہوئے تھے"۔
وأخرج أحمد 21/ (13942)، والبخاري (3810)، ومسلم (2465)، والترمذي (3794)، والنسائي (7946) و (8228)، وابن حبان (7130) من طريق شعبة، والبخاري (5003)، ومسلم (2465) من طريق همام بن يحيى، كلاهما عن قَتادةَ، قال: سألت أنس بن مالك: من جمع القرآن على عهد النبي ﷺ؟ قال: أربعة، كلهم من الأنصار: أبي بن كعب، ومعاذ بن جبل، وزيد بن ثابت، وأبو زيد. سقط من مطبوع "صحيح مسلم" ذكرُ قتادة، واستدركناه من "تحفة الأشراف" 1/ 359.
📖 حوالہ / مصدر: ائمہ احمد، بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی نے شعبہ از قتادہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی ﷺ کے زمانے میں قرآن کس نے جمع کیا تھا؟ فرمایا: چار افراد نے، جو سب انصاری تھے (ابی، معاذ، زید بن ثابت اور ابو زید)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: صحیح مسلم کے مطبوعہ نسخے میں قتادہ کا نام ساقط ہو گیا تھا جسے ہم نے "تحفۃ الاشراف" 1/ 359 کی مدد سے درست کیا ہے۔
وأخرج البخاري (5004) من طريق عبد الله بن المثنى، قال: حدثني ثابت البناني وثمامة، عن أنس بن مالك، قال: مات النبي ﷺ ولم يجمع القرآن غير أربعة: أبو الدرداء، ومعاذ بن جبل، وزيد بن ثابت، وأبو زيد. قال: ونحن ورثناه.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری (5004) نے عبداللہ بن مثنیٰ از ثابت بنانی و ثمامہ از حضرت انس رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی وفات کے وقت صرف چار لوگوں نے قرآن (مکمل طور پر سینوں میں) جمع کیا تھا: حضرت ابودرداء، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہم۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ (ابوزید کے) وارث ہم بنے۔
ويشهد لقصة عاصم بن ثابت حديثُ أبي هريرة عند أحمد 13/ (7928)، والبخاري (3045)، والنسائي (8788).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے واقعے کے شاہد کے طور پر حضرت ابوہریرہ کی روایت مسند احمد (7928) اور صحیح بخاری (3045) میں موجود ہے۔
ولقصة غسيل الملائكة حنظلة انظر ما سلف برقم (4979).
📝 نوٹ / توضیح: حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا، ان کا واقعہ نمبر (4979) پر گزر چکا ہے۔
وأبو زيد المذكور، قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 11/ 240: ذكر علي بن المديني أنَّ اسمه أوس، وعن يحيى بن معين: هو ثابت بن زيد، وقيل: هو سعد بن عبيد بن النعمان، وبذلك جزم الطبراني [في "الأوسط" (1542)] عن شيخه أبي بكر بن صدقة، قال: وهو الذي كان يقال له: القارئ، وكان على القادسية، واستشهد بها، وهو والد عمير بن سعد، وعن الواقدي: هو قيس بن السكن بن زعوراء بن حرام الأنصاري النجاري، ويرجحه قول أنس: "أحد عمومتي"، فإنه من قبيلة بني حرام.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مذکورہ بالا روایات میں "ابوزید" کی شناخت میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ حافظ ابن حجر "فتح الباری" 11/ 240 میں نقل کرتے ہیں: علی بن مدینی کے مطابق ان کا نام "اوس" ہے، یحییٰ بن معین کے مطابق "ثابت بن زید" ہے، جبکہ بعض نے انہیں "سعد بن عبید" (قادسیہ کے شہید) قرار دیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: واقدی کی رائے میں وہ "قیس بن السکن" ہیں، اور حضرت انس کا انہیں اپنا چچا کہنا اسی رائے کو تقویت دیتا ہے کیونکہ وہ بنی حرام قبیلے سے تھے۔