🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1153. دُعَاءُ النَّبِيِّ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ
نبی کریم ﷺ کی انصار اور انصار کے بیٹوں کے لیے دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7150
حدَّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدَّثنا محمد بن غالب، حدَّثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدَّثنا عاصم بن سُوَيد، حدثني يحيى بن سعيد، عن أنس بن مالك، قال: جاءَ أُسيد بن حُضَير الأشهلي إلى رسول الله ﷺ وقد كان قَسَمَ طعامًا، فذَكَر له أهلَ بيتٍ من الأنصار من بني ظَفَرٍ فيهم حاجةٌ، قال: وجُلُّ أهل ذلك البيت نِسوةٌ، قال: فقال له رسول الله ﷺ:"تركتنا يا أُسيدُ حتى ذهبَ ما في أيدينا، فإذا سمعتَ بشيء قد جاءنا، فاذكُر لي أهلَ ذلك البيتِ"، قال: فجاءه بعدَ ذلك طعامٌ من خيبرَ (1) شعيرٌ وتمرٌ، قال: فقَسَمَ رسولُ الله ﷺ في الناس، وقَسَمَ في الأنصار فأجزلَ، وقَسَمَ في أهل ذلك البيت فأجزلَ، قال: فقال له أُسيدُ بن حُضير متشكِّرًا: جزاكَ الله أيْ نبيَّ الله عنَّا أفضلَ الجَزاء، أو قال: خيرًا، فقال النبيُّ ﷺ:"وأنتم يا معشرَ الأنصار، فجزاكم الله أطيبَ الجزاء - أو قال: خيرًا - فإنكم - ما عَلِمتُ - أعِفَّةٌ صُبُر، وسترونَ بعدي أَثَرةً في الأمر والقَسْم، فاصبِرُوا حتى تلقوني على الحَوْض" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6974 - صحيح
سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں: سیدنا اسید بن حضیر اشہلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب طعام تقسیم فرما چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے قبیلے بنی ظفر کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بہت ضرورت مند ہیں۔ اس گھرانے میں زیادہ عورتیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے اسید تم نے ہمیں چھوڑ دیا، اور جو کچھ ہمارے ہاتھ میں تھا سب چلا گیا، (آئندہ سے یوں کرنا کہ) جب بھی تمہیں پتہ چلے کہ میرے پاس کوئی چیز آئی ہے تم مجھے اس گھرانے کے بارے میں یاد دلا دیا کرنا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد خیبر کے جو اور کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں لوگوں میں تقسیم فرما دیں، اس تقسیم میں انصار کو اور اس گھرانے کو کافی زیادہ حصہ عطا فرمایا۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف طرف سے بہت اچھی جزاء عطا فرمائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گروہ انصار! اللہ تعالیٰ تمہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے، کیونکہ میں نے تمہیں ہمیشہ پاکدامن اور صابر ہی پایا ہے، تم میرے بعد حکومت میں اور تقسیم میں کچھ (نامناسب) معاملات دیکھو گے، تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم مجھے حوض کوثر پر آ ملو گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7150]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7151
أخبرني الأستاذ أبو الوليد، حدَّثنا الحسن بن سفيان، حدَّثنا عبد الوارث بن عبد الصمد، حدثني أبي، حدثني عبد الله بن أبي يزيد، عن موسى بن أنس، عن أنس: أنَّ الأنصار اشتدَّتْ عليهم السَّوَاني، فأتَوُا النبيَّ ﷺ ليدعوَ لهم، أو يَحفِرَ لهم نهرًا، فأُخبر النبيُّ ﷺ، فقال:"لا تسألوني اليومَ عن شيء إِلَّا أُعطِيتُم"، فلما سمعوا ما قال النبيُّ ﷺ قالوا: ادعُ الله لنا بالمغفرة، قال:"اللهمَّ اغفِرْ للأنصار، ولأبناءِ الأنصار، ولأبناءِ أبناءِ الأنصار" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6975 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دور دراز سے پانی بھر کر لانا انصار کے لئے بہت دشوار تھا، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا فرما دیں یا ان کے لئے نہر کھدوا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آج مجھ سے جو کچھ بھی مانگو گے، میں تمہیں دوں گا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عالی سنا تو کہنے لگے: آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے یوں دعا مانگی اے اللہ انصار کی مغفرت فرما، انصار کی اولادوں کی مغفرت فرما، ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7151]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7152
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدَّثنا محمد بن كَثير، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ استقبل (1) غِلمانًا من غِلمان الأنصار وإماءً وعَبيدًا، فقال:"والله إنِّي لأُحبُّكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6976 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ بچوں، غلاموں اور لونڈیوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7152]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7153
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدَّثنا يحيى بن أبي طالب، حدَّثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدَّثنا سعيدٌ بن أبي عَرُوبة، عن قَتادةَ، عن أنس بن مالك قال: افتخرَ الحيَّانِ من الأنصار الأوسُ والخزرجُ، فقالتِ الأوسُ: مِنَّا مَن اهتزَّ لموته عرشُ الرحمن سعدُ بن معاذ، ومِنَّا من حَمَتْه الدَّبْرُ عاصمُ بن ثابت بن الأَقلَح، ومِنَّا مَن غسَّلته الملائكةُ حنظلةُ ابن الراهب، ومِنَّا من أُجيزت شهادتُه بشهادةِ رجلينِ خُزيمةُ بن ثابت. وقال الخزرجيُّون: مِنَّا أربعةٌ جمعوا القرآنَ لم يجمعه غيرُهم: أُبيُّ بن كعب، ومعاذُ بن جبل، وزيدُ بن ثابت، وأبو زيد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6977 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج نے فخر کیا۔ اوس نے کہا: * ہم میں وہ شخصیت ہے جس کی موت پر اللہ تعالیٰ کا عرش بھی ہل گیا تھا، وہ ہیں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ۔ * اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کا دفاع بھڑوں نے کیا۔ اور وہ ہے سیدنا عاصم بن ثابت بن افلح رضی اللہ عنہ۔ * اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کو فرشتوں نے غسل دیا تھا، وہ سیدنا حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ ہیں۔ * ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کی اکیلے کی گواہی دو کے برابر قرار دی گئی ہے، وہ ہیں سیدنا خزیمہ بن ثابت۔ خزرجی لوگ کہنے لگے: * وہ چاروں صحابی ہم میں سے ہیں جنہوں نے قرآن کریم جمع کیا ہے، ان کے علاوہ اور کوئی شخص اس کام میں شامل نہیں تھا۔ وہ چاروں صحابہ کرام یہ تھے سیدنا ابی بن کعب، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہم۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7153]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں