🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب : ما جاء فيمن مات مريضا
باب: بیماری کی حالت میں مرنے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا، وَوُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14627، ومصباح الزجاجة: 588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/404) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابراہیم بن محمد سخت ضعیف ہیں، اور حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
إبراهيم الأسلمي: متروك
و قيل: أنه كان يتبرأ من ھذا الحديث
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 437

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥موسى بن وردان القرشي، أبو عمر
Newموسى بن وردان القرشي ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إبراهيم بن أبي يحيى الأسلمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن أبي يحيى الأسلمي ← موسى بن وردان القرشي
متروك الحديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← إبراهيم بن أبي يحيى الأسلمي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن عبد الله الهمداني، أبو عبيدة
Newأحمد بن عبد الله الهمداني ← الحجاج بن محمد المصيصي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← أحمد بن عبد الله الهمداني
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن يوسف الأزدي، أبو الحسن
Newأحمد بن يوسف الأزدي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
حافظ ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1615
من مات مريضا مات شهيدا ووقي فتنة القبر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1615 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1615
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن جریج ہے۔
اس سے غلطی ہوئی ہے یا ابراہیم بن محمد بن ابو عطاء نے غلطی کی ہے۔
اس لئے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔
اصل میں یہ فضیلت جہاد کے موقع پر سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کےلئے ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
ایک دن رات سرحد پرٹھرنا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔
اور اگر وہ (محاذ پر ٹھرنے کے دوران میں)
فوت ہوگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا۔
جو وہ کرتا تھا۔ (اس عمل کا ثواب مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا۔)
اور اس کا رزق اسے ملتا رہے گا۔
اور وہ آزمائش سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب فضل الرباط فی سبیل اللہ عزوجل، حدیث: 163)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1615]