🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : فيما أنكرت الجهمية
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّوَّاسُ بْنُ سَمْعَانَ الْكِلَابِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ"، قَالَ:" وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا، وَيَخْفِضُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر شخص کا دل اللہ تعالیٰ کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اسے حق پر قائم رکھے اور چاہے تو اسے حق سے منحرف کر دے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے: اے دلوں کے ثابت رکھنے والے! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اور ترازو رحمن کے ہاتھ میں ہے، کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ کو پست، قیامت تک (ایسے ہی کرتا رہے گا)۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 199]
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ہر دل رحمان کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ چاہے اسے سیدھا (ہدایت پر قائم) رکھے، چاہے تو ٹیڑھا (اور گمراہ) کر دے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کو ثابت رکھنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میزان رحمان کے ہاتھ میں ہے، وہ قیامت تک کچھ لوگوں کو بلند کرتا رہے گا اور کچھ لوگوں کو پست کرتا رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11715، ومصباح الزجاجة: 71)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/182) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نواس بن سمعان الكلابيصحابي
👤←👥أبو إدريس الخولاني، أبو إدريس
Newأبو إدريس الخولاني ← نواس بن سمعان الكلابي
ثقة
👤←👥بسر بن عبيد الله الحضرمي
Newبسر بن عبيد الله الحضرمي ← أبو إدريس الخولاني
ثقة حافظ
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← بسر بن عبيد الله الحضرمي
ثقة
👤←👥صدقة بن خالد القرشي، أبو العباس
Newصدقة بن خالد القرشي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← صدقة بن خالد القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
199
بين إصبعين من أصابع الرحمن إن شاء أقامه وإن شاء أزاغه يا مثبت القلوب ثبت قلوبنا على دينك الميزان بيد الرحمن يرفع أقواما ويخفض آخرين إلى يوم القيامة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 199 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث199
اردو حاشہ:
(1)
مصنف اس حدیث کو اللہ تعالیٰ کی صفت اصابع (انگلیوں)
کے اثبات کے لیے لائے ہیں، اس قسم کی تمام حدیثوں میں سلف کا مسلک یہی ہے کہ ان پر بلا تشبیہ ایمان لانا چاہیے۔

(2)
ہدایت، اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے اس سے ہدایت اور ثابت قدمی کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت قدمی کے لیے دعا کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کے داعی کو قدم قدم پر جو مشکلات پیش آتی ہیں، ان میں اسے اللہ کی نصرت و توفیق کی ہر لمحہ ضرورت رہتی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں اپنے عجز اور احتیاج کا اظہار ہے جو عبادت کی بنیادی اور مرکزی چیز ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی عبادت کی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ امت بھی اس سے سبق حاصل کرے اور نبی علیہ السلام کی اقتدا کرتے ہوئے ہر امتی اللہ سے استقامت کی دعا کرتا رہے۔

(4)
عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے دنیا میں سربلندی، قوت، شان اور ہدایت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے پستی، ذلت اور گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اور یہ بات اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کون سا فرد یا گروہ کس درجہ کی عزت یا ذلت کا مستحق ہے، یہ پیمانہ کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔

(5)
بلندی اور پستی، عزت اور ذلت وغیرہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ سے انسان کے اپنے اعمال کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے، بعض اوقات یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اور اس کے مطابق انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں درجات کا مستحق ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 199]

Sunan Ibn Majah Hadith 199 in Urdu