🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : اليمين عند مقاطع الحقوق
باب: حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14949، ومصباح الزجاجة: 815)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/518) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥الحسن بن يزيد الضمري، أبو يونس
Newالحسن بن يزيد الضمري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← الحسن بن يزيد الضمري
ثقة ثبت
👤←👥زيد بن أخزم الطائي، أبو طالب
Newزيد بن أخزم الطائي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← زيد بن أخزم الطائي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2326
لا يحلف عند هذا المنبر عبد ولا أمة على يمين آثمة ولو على سواك رطب إلا وجبت له النار
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2326 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2326
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
باہمی اختلاف اور جھگڑے کے فیصلے کےلیے قسم لینا اور قسم کھانا جائز ہے بشرطیکہ سچی قسم ہو۔
گناہ صرف جھوٹی قسم کھانے میں ہے۔

(2)
کسی عام جگہ گناہ کرنے کی نسبت احترام والی جگہ گناہ کرنا زیادہ برا ہے اور اس کی سزا بھی زیادہ سخت ہو گی۔

(3)
مسجد دوسرے مقامات سے زیادہ احترام کی مستحق ہے۔

(4)
تمام مسجدوں میں سے سب سے زیادہ احترام والی مسجدیں تین ہیں:
مسجد حرام، جس میں کعبہ شریف ہے، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔

(5)
مسجد میں منبر کے قریب کی جگہ زیادہ تقدس کی حامل ہے خصوصاً مسجد نبوی میں منبر کے قریب کی جگہ کو جنت کا باغیچہ فرمایا گیا ہے۔
ارشاد نبوی ہے:
میرے گھر (حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا)
اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ (صحيح البخاري، فضل الصلاة فى مسجد مكة و المدينة، باب فضل ما بين القبر والمنبر، حديث: 1192- وصحيح مسلم.الحج .باب مابين القبر والمنبر روضة من رياض الحنة . حديث: 1390)
۔ 6۔
اس مقام پر جھوٹی قسم کھانا انتہائی بری حرکت اور بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے خاص طور پر جب کسی معمولی چیز کےلیے ہو تو اور بھی بری بات ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2326]