سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : التشديد في الدين
باب: قرض کی شناعت اور اس پر وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2412
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور (گھمنڈ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 21 (1573)، (تحفة الأشراف: 2114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/276، 281، 282)، سنن الدارمی/البیوع 52 (2634) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1573)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
إسناده ضعيف
ترمذي (1573)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1573
| فارق الروح الجسد وهو بريء من ثلاث الكنز الغلول الدين دخل الجنة |
جامع الترمذي |
1572
| مات وهو بريء من ثلاث الكبر الغلول الدين دخل الجنة |
سنن ابن ماجه |
2412
| من فارق الروح الجسد وهو بريء من ثلاث دخل الجنة من الكبر الغلول الدين |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2412 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2412
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث میں مذکورتینوں گناہ بہت بڑے گناہ ہیں۔
(2)
کبیرہ گناہوں کا مرتکب اگراللہ نے پہلے پہل معاف نہ کیے، جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا حتی کہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت لے۔
یہ سزا سیکڑوں سال طویل بھی ہوسکتی ہے جب کہ جہنم کی ایک سکینڈ کی سزا بھی ناقابل برداشت ہے۔
(3)
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے:
(الکِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ)
(صحیح مسلم، الایمان، باب تحریم الکبر وبیانه، حدیث: 91)
”تکبر، حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“
(4)
مال غنیمت مسلمانوں کا مشترکہ حق ہوتا ہے۔
جب تقسیم کرکے ہرمجاہد کو اس کا حصہ د ے دیا جائے تو وہ ان کی جائز ملکیت بن جاتا ہے۔
تقسیم سے پہلے معمولی سی چیز لینا بھی حرام ہے، اسی طرح قوم کی اجتماعی ملکیت میں ناجائز تصرف کرنا یا اسے نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے جیسے قومی خزانے کےمال کو اپنی ضروریات پرخرچ کر لینا۔
مسجد مدرسہ یا کسی دینی یا دنیاوی تنظیم کافنڈ انھی مصارف پرخرچ ہونا چاہیے جن کےلیے وہ اکٹھا کیا جاتا ہے، اگرکوئی عہدے دار ان کے علاوہ کسی اورمصرف میں خرچ کرتا ہے توخیانت ہے۔
(5)
قرض جان بوجھ کرادا نہ کرنا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے لہٰذا اس سے بھی اجتناب کرنا فرض ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث میں مذکورتینوں گناہ بہت بڑے گناہ ہیں۔
(2)
کبیرہ گناہوں کا مرتکب اگراللہ نے پہلے پہل معاف نہ کیے، جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا حتی کہ جہنم میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت لے۔
یہ سزا سیکڑوں سال طویل بھی ہوسکتی ہے جب کہ جہنم کی ایک سکینڈ کی سزا بھی ناقابل برداشت ہے۔
(3)
نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے:
(الکِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ)
(صحیح مسلم، الایمان، باب تحریم الکبر وبیانه، حدیث: 91)
”تکبر، حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“
(4)
مال غنیمت مسلمانوں کا مشترکہ حق ہوتا ہے۔
جب تقسیم کرکے ہرمجاہد کو اس کا حصہ د ے دیا جائے تو وہ ان کی جائز ملکیت بن جاتا ہے۔
تقسیم سے پہلے معمولی سی چیز لینا بھی حرام ہے، اسی طرح قوم کی اجتماعی ملکیت میں ناجائز تصرف کرنا یا اسے نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے جیسے قومی خزانے کےمال کو اپنی ضروریات پرخرچ کر لینا۔
مسجد مدرسہ یا کسی دینی یا دنیاوی تنظیم کافنڈ انھی مصارف پرخرچ ہونا چاہیے جن کےلیے وہ اکٹھا کیا جاتا ہے، اگرکوئی عہدے دار ان کے علاوہ کسی اورمصرف میں خرچ کرتا ہے توخیانت ہے۔
(5)
قرض جان بوجھ کرادا نہ کرنا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے لہٰذا اس سے بھی اجتناب کرنا فرض ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2412]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1573
مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز، غلول اور قرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۱؎۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں «الكنز» بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں «الكبر» بیان کیا ہے، اور اس میں «عن معدان» کا ذکر نہیں کیا ہے، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1573]
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز، غلول اور قرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۱؎۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں «الكنز» بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں «الكبر» بیان کیا ہے، اور اس میں «عن معدان» کا ذکر نہیں کیا ہے، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1573]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کنز:
وہ خزانہ ہے جو زمین میں د فن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔
غلول:
مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
نوٹ:
(الکنزکا لفظ شاذ ہے،
دیکھئے:
الصحیحة رقم: 2785)
وضاحت:
1؎:
کنز:
وہ خزانہ ہے جو زمین میں د فن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔
غلول:
مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
نوٹ:
(الکنزکا لفظ شاذ ہے،
دیکھئے:
الصحیحة رقم: 2785)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1573]
معدان بن أبي طلحة اليعمري ← ثوبان بن بجدد القرشي